آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی سطح پر پچھلے چند روز میں بہت بڑی اور تہلکہ انگیز تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جس کے دنیا کے ہر ملک پر دوررس اثرات مرتب ہونگے۔ پہلی تبدیلی تو یہ ہوئی کہ کئی عشروں کے بعد سے امریکہ و مغربی یورپ اور روس کے درمیان ایک دفعہ پھر سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ خدشہ ہے کہ جیسے جیسے یہ سرد جنگ بڑھے گی، دنیا بھر میں پراکسی جنگوں کے نہ صرف پرانے زخم ہرے ہونگے بلکہ اقوام عالم کو نئے گھائو بھی لگیں گے۔ پرانے زخموں میں سے ایک اہم زخم افغانستان ہے۔ آج امریکہ افغانستان کی دلدل میں اسی طرح دھنس چکا ہے جس طرح کئی عشرے پہلے روس پھنسا تھا۔ اس وقت امریکہ روس مخالف ملیشیا کے ذریعے روس کو چرکے لگا رہا تھا تو اب یہی کام روس امریکہ کے ساتھ کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، پاکستان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عالمی سطح پر دوسری اہم تبدیلی یہ آئی ہے کہ برادر عرب ملک اور اسرائیل کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہو رہی ہے گمان ہے کہ جس کا براہ راست ہدف ایران ہے۔ یاد رہے کہ ایران کے ساتھ ہماری سینکڑوں کلومیٹر سرحدیں سانجھی ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ ہمارے عشروں پر محیط کچھ واضح اور کچھ خفیہ تعلقات ہیں جنکا براہ راست ہماری سیکورٹی سے تعلق ہے۔ کیا سعودی ایران کشیدگی نئی سرد جنگ کا پراکسی تھیڑ بنے گی؟

سعودی ایران کشیدگی یا خدانخواستہ جنگ سے پاکستان کا متاثر نہ ہونا ممکن نہیں۔ تیسری بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین ، جوعرصہ دراز سے خاموشی سے اپنی معاشی و عسکری طاقت بڑھانے میں مصروف تھا، اب ایک تیسری عالمی طاقت کے طور پر تیار کھڑا ہےجبکہ بھارت کی درست پالیسیوں کی بدولت بھارت بھی ایک ابھرتی طاقت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ کیا چین اور بھارت نئی سرد جنگ میں ایک غیر جانبدار تیسری قوت کے طور پر سامنے آئیں گے؟ یہ دونوں ممالک پچھلی سرد جنگ سے بھی کافی حد تک باہر رہے اور اس وقت بھی نہ صرف دونوں ممالک کے مغرب اور روس کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں بلکہ یہ دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو بھی بہت بہتر بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، روس کے ساتھ تعلقات واجبی سے ہیں جبکہ چین کے ساتھ تعلقات اب یکطرفہ انحصار تک پہنچ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ ان حالات میں کسی ممکنہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کو کسی بھی سپر پاور کی مدد حاصل نہیں ہو گی جبکہ بھارت کو تمام سپر پاورز کی ہمدردی یا حمایت حاصل ہوگی۔
اب بیرونی منظر نامے سے ملکی منظر نامے کی طرف آتے ہیں۔ تمام اہم ادارے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ ہم حال ہی میںعدلیہ اور میڈیا کی لڑائی سے بال بال بچے ہیں لیکن عدلیہ اور انتظامیہ کے تعلقات ایک تنازع کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ اگرچہ ایک ادارہ نہیں ہے لیکن بہر حال وہ باقی تمام اداروں کے ساتھ جھگڑے میں مبتلا ہے۔ یہ لڑائی جھگڑا اداروں کے آپس کے تعلقات تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر ادارے کے اندر بھی جھگڑا چل رہا ہے، ایک دھڑا اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے کوبقا اور ترقی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور دوسرا جمہوریت کا پاسبان بنا ہوا ہے۔ سو، اندرونی طور پر انتشار ہی انتشار ہے۔ چند روز بعد نواز شریف کے خلاف ممکنہ متنازع فیصلے سے یہ انتشار مزید بڑھے گا لیکن اسکرپٹ لکھنے والوں کو اسکی کوئی پروا نہیں ۔
جبکہ عالمی سطح پر حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور ہم اندرونی انتشار میں تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں، ملک کو اس وقت دو بڑے خطرات اور ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس پر کسی کی کوئی توجہ نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ خبطِ عظمت اور خودسری پر مبنی ہے۔ پہلے خطرات کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ چند سالوں کے بعد پاکستان میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ اور دوسرا خطرہ پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی ہے۔ کچھ حلقے نہ تو ناکام حکمت عملی تبدیل کرنے پرتیار ہیں، نہ ہی خارجہ پالیسی پر عوامی کنٹرول کا آپشن کھولنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی عوام اتنے طاقتور ہیں کہ وہ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ دوسری طرف ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت بتدریج پاکستان کو کمزور کرتے کرتے اب آخری ضرب لگانے کےلئے مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے۔ ان دو خطرات کے بعد اب اس سب سے بڑے چیلنج کا ذکر کرتے ہیں جو پاکستان کو اس وقت درپیش ہے یہ چیلنج سیاسی عدم استحکام سے بچنے کا چیلنج ہے۔ ان حالات میں سیاسی عدم استحکام بھارت کے آخری ضرب لگانے کے پلان کو مناسب وقت فراہم کر سکتا ہے۔ اگلے انتخابا ت سر پر ہیں لیکن جس طرح سینٹ کے انتخابات سے پہلے بلوچستان میں قبل از انتخاب منظم دھاندلی کی بساط بچھائی گئی، جو کٹھ پتلیوں کے ذریعے سینٹ کے چئیرمین کے انتخاب پر منتج ہوئی، اس سے اگلے عام انتخابات کے بارے میں کئی سوالیہ نشانات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر اگلے انتخابات میں تاخیر کی سازشیں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر اگلے انتخابات میں بھی اسی طرح بے شرم دھاندلی کا اہتمام ہوتا ہے جو سینٹ کے انتخابات میں کیا گیا تو ملک ایک بڑے سیاسی عدم استحکام کی زد میں آ سکتا ہے۔ پچھلے ستر سالوں میں تو نہیں آئی لیکن پھر بھی دعا کی جا سکتی ہے کہ تمام اداروں کے مہربان موجودہ حالات کی سنگینی کا ادراک کر لیں اور اس دفعہ انہیں ہدایت آ جائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں