آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لمبی زندگی گزار لینے کا ایک انعام یہ ملتا ہے (اور یہی سزا بھی ہے) کہ آپ زمانے کے کئی اتار چڑھائو دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کھڑے رہتے ہیں اور انقلابی تبدیلیاں آپ کے تلووں کے نیچے سے ریت بہا کر لے جاتی ہیں۔ میں چونکہ ایک صحافی ہوں اس لئے میں نے زندہ تاریخ کو ذرا قریب سے دیکھا ہے اور جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کہ ’’آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں‘‘ اور کبھی کبھی تو اپنی آنکھوں پر یقین بھی نہیں آتا کہ وہ کیا دیکھ رہی ہیں؟ ایسا ہی ایک وقت مجھ پر منگل کی دوپہر کو گزرا۔ میں نے دیکھا کہ عدالت کے حکم پر مسلّح پولیس والوں کی نگرانی میں ایک گھر خالی کیا جا رہا تھا۔ کراچی کی پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے ایک بڑے مکان کے احاطے میں یہ کارروائی ہو رہی تھی۔ یہ گھر کہ جو ہماری آنکھوں کے سامنے پھر ایک مکان بن رہا تھا، چار رہائشی حصّوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ کوئی نصف صدی کی یادوں کی گرد سے اٹا سامان کہ جس میں کتابوں کا انبار سب سے بڑا تھا، گیراج کے اوپر بنے ہوئے اپارٹمنٹ سے اتارا جا رہا تھا۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ بھی کوئی ایسا واقعہ یا منظر تھا کہ جس کو بیان کرنے کیلئے میں ایسے ڈرامے کا اسٹیج سجائوں اور وقت اور تاریخ کے استعاروں کا سہارا لوں۔ یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ کرایہ دار مکان خالی نہیں کرتے۔ برسوں مقدمے چلتے ہیں۔ عدالت اپنا فیصلہ

کرتی ہے اور متعلقہ کارندے اس فیصلے کے نفاذ کو یقینی بناتے ہیں۔ اس کی تو صحافتی اصولوں کے مطابق کوئی بڑی خبر بھی نہیں بنتی۔ یہاں بھی ’میں مانتا ہوں‘ کچھ یہی معاملہ تھا۔ چند افراد کی ذاتی زندگی میں اگر کوئی بھونچال آ گیا تو یہ بھی معمول کی بات ہے۔ تو پھر میں یہ تمہید کیوں باندھ رہا ہوں؟
تو اب میں آپ کو بتائوں کہ یہ میرے بہت عزیز، بہت پرانے دوست شاہد سجاد کا گھر تھا جن کے انتقال کو چار سال ہونے والے ہیں۔ اب ایک نیا سوال اٹھے گا۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو پوچھیں گے کہ شاہد سجاد کون؟ ظاہر ہے کہ یہ کوئی ایسا نام تو نہیں کہ جسے سن کر لوگوں کے ذہن میں کوئی چہرہ کوئی شخصیت نمودار ہو جائے۔ ہاں، میرا یہ جی چاہتا ہے کہ اس اخبار بلکہ اس کالم کے پڑھنے والوں میں لوگ ایسے ہوں کہ جو ایک لمحے کیلئے سوچیں اور پوچھیں۔ شاہد سجاد جو مجسمہ ساز تھے، آرٹسٹ تھے؟ وہی جنہیں کوئی بڑا سرکاری اعزاز بھی ملا تھا؟ مگر جن کا آرٹ کی دنیا سے کوئی تعلق ہے وہ فوراً اس نام کو پہچان جائیں گے۔ انہیں معلوم ہے کہ شاہد سجاد پاکستان کے سب سے بڑے مجسمہ ساز تھے اور اپنے فن اور شخصیت کے پیمانے سے کوئی دوسرا ایسا فنکار ہمارے ملک میں موجود نہیں۔ انہوں نے کانسی کے مجسمے جس طرح ڈھالے اس کی تقلید ابھی تک کوئی نہیں کر سکا ہے لیکن میں یہاں شاہد سجاد کی زندگی اور اس کے کام کا ناقدانہ تجزیہ نہیں کرنا چاہتا۔ یہ کام ’’گوگل‘‘ آپ کیلئے اچھی طرح کر سکتا ہے۔ شاہد کی تصویر بھی آپ کے کمپیوٹر کی اسکرین پر نمودار ہو گی اور اسے دیکھتے ہی آپ جان لیں گے کہ یہ کوئی اپنی دھن میں مگن ایک قلندر شخص ہے کہ جسے شاید لین دین اور نفع نقصان کی دنیا سے کوئی سروکار نہ ہو۔ میں نے شاہد کو اپنا پرانا دوست کہا۔ یہ دوستی پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی۔ ہمارے بچّے ساتھ کھیل کر بڑے ہوئے لیکن یہ اپنی یادوں کا البم کھولنے کا موقع بھی نہیں ہے۔ مجھے تو بس دو باتیں کہنی ہیں۔ ایک کا تعلق شاہد سے ہے اور دوسری کا اس دنیا سے، جس سے شاہد کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
شاہد کے حوالے سے اس کے اسٹوڈیو بلکہ ورک شاپ کی بات کرنا ہے کہ جس میں شاہد نے کوئی پچاس سال کام کیا۔ اس میں وہ بھٹی ہے جس میں شاہد نے کانسی کے مجسمے ڈھالے اور وہ اوزار جن سے اس نے لکڑی کے پیکر تراشے۔ یہ ورک شاپ اس بڑے مکان کے ایک کونے میں واقع ہے۔ گھر سے شاہد کی بیوی سلمانہ کی بے دخلی تو ہو چکی۔ بے دخلی کے طریقہ کار سے جو تکلیف پہنچی وہ اپنی جگہ لیکن عدالت کے حکم پر گھر چھوڑنے سے کسی صورت کوئی انکار نہیں لیکن مسئلہ اب شاہد کی ورک شاپ کو آرٹ کی ایک تاریخی یادگار کے طور پر بچانے کا ہے۔ یہ وہ مشن ہے جس میں ملک کے آرٹ اور کلچر کے بڑے نام شامل ہیں۔ جب یہ خطرہ واضح ہو گیا کہ سلمانہ کو وہ گھر خالی کرنا ہے جس میں وہ کوئی 45سال پہلے ایک لاابالی فنکار کی دلہن بن کر آئی تھیں تو یہ تشویش پیدا ہوئی کہ شاہد کے اسٹوڈیو کا کیا بنے گا جو اپنی ایک الگ حیثیت رکھتا ہے۔ گھر خالی کرنے اور عدالت کے حکم کو ماننے میں کبھی کوئی تامل نہ تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ کام اتنی عجلت میں اور اتنی بیدردی کے ساتھ کیا گیا جبکہ باقی تین رہائشی حصّوں میں رہنے والوں کو ابھی کافی مہلت دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ جو عدالت اور تھانے سے آئے تھے انہیں تو بالکل معلوم نہ تھا کہ شاہد سجاد کون تھا؟ بہرحال مسئلہ اب ورک شاپ کو بچانے کا ہے۔ یوں تو شاہد کے رتبے کے کسی بھی تخلیق کار کی کوئی بھی یادگار ایک قومی ورثہ تصوّر کی جا سکتی ہے اور اس میں ہم اس گھر کو شامل کر سکتے ہیں جس میں شاہد نے اپنی زندگی کے 50سے زیادہ سال گزارے۔ پیر کے دن آرٹس کونسل میں احمد شاہ نے ایک پریس کانفرنس بلائی جس میں سلمانہ کے ساتھ ساتھ انور مقصود اور میں نے بھی شرکت کی۔ ہم نے وزیراعظم اور فوج کے سربراہ سے بھی اپیل کی کہ وہ شاہد کی ورک شاپ کو بچانے یا کسی بھی طرح اس کو زندہ رکھنے میں مدد دیں۔ یہاں فوج کے سربراہ سے اپیل کا ایک خاص پہلو بھی ہے۔ شاہد نے اپنی زندگی میں جو بڑے کام کئے ہیں ان میں کانسی کا وہ بڑا میورل بھی ہے جو اس نے فوج کیلئے ڈھالا تھا اور جو شاید اس وقت نوشہرہ کی میس میں نصب ہے۔ وہ ایک حیرت انگیز معرکہ تھا کہ جو شاہد نے ناکافی سہولتوں اور دوسری مشکلات کے باوجود سر کیا۔ شاہد کا اپنے شعبے میں جو مقام تھا اسے نظر میں رکھ کر انور مقصود نے پریس کانفرنس میں اسے چغتائی، صادقین اور شاکر علی کی صف میں شمار کیا اور اب آخر میں اس دنیا کا ذکر کہ جسے شاہد نے اپنی اخلاقی قدروں، اپنے ظرف اور اپنے فلسفہ کی بنیاد پر جیسے ٹھکرا دیا تھا۔ آپ غور کریں کہ یہ کتنی بڑی حقیقت ہے کہ شاہد بڑی آسانی سے بہت دولت کما سکتا تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں نہیں ہوا۔ شاہد نے اپنے لئے کچھ اصول متعین کئے تھے اور وہ ان پر سختی سے کاربند رہا۔ اس طرح اس نے سلمانہ اور اپنے دونوں بیٹوں کیلئے بڑی جائیداد نہیں چھوڑی لیکن جناب، ہمارے اور اس معاشرے کے کیا اصول ہیں کہ ہم اپنے سب سے پیارے اور غیر معمولی تخلیقی قوت رکھنے والے افراد اور ان کے ورثے کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں