آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی مفلسی کا ایک راز پاکستان کی غیر معمولی خوشحالی میں پنہاں ہے، اس مفلسی اور خوشحالی کا حوالہ ایک ہی ہے، اس ملک کے نوجوان تعداد میں اتنے کہ آبادی کے ترازو کا پلڑا ایک طرف کچھ زیادہ ہی جھک گیا ہے، لیکن اتنے بہت سے نوجوان جن کے ذہن بھی ہیں اور بازو بھی اور جن کے جسم اپنا خراج مانگتے ہیں، اگر انسانی وسائل کے پیمانے پر خوشحالی کی علامت ہیں تو علم اور دانش اور تہذیب کی مفلسی بھی ان ہی سے عبارت ہے، سوچئے تو تصویر یہ بنتی ہے کہ جیسے دھند میں لپٹے راستوں پر بچوں اور نوجوانوں کے ریوڑ سرگرداں ہیں، ظاہر ہے کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک منظر ہے، صحیح صورتحال شاید اتنی دل شکن نہیں، اسی لئے مجھے یہ وضاحت کرنا ہے کہ میں آخر کہنا کیا چاہتا ہوں، بنیادی طور پر اس کالم کی ڈور کراچی میں حبیب یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن سے بندھی ہے، تقسیم اسناد کا یہ جلسہ گزشتہ ہفتہ آج ہی کے دن منعقد ہوا، یوں تو پاکستان میں جامعات یعنی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی تعداد دو سو کے قریب ہے لیکن2014 میں قائم ہونے والی حبیب یونیورسٹی کا اعزاز یہ ہے کہ یہ لبرل آرٹس کی تعلیم دیتی ہے، یہاں یہ سوال جائز ہے کہ لبرل آرٹس کی تعلیم کیوں اور کیسے ایک مختلف حیثیت کی حامل ہے، کوئی ماہر تعلیم اس سوال کا کیا جواب دے گا اس سے قطع نظر میں یہ سمجھتا ہوں

کہ لبرل آرٹس کی تعلیم میں ادب، تاریخ، فلسفہ اور سماجی یا معاشرتی علوم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مضمون یا پیشے کی تعلیم میں بنیادی انسانی اقدار کو ملحوظ رکھا جائے، طالب علم کو اپنے اور اپنی زندگی اور دنیا کے بارے میں غور و فکر کرنے کی تربیت دی جائے اور یوں تدریس کا عمل درس گاہ تک محدود نہ رہے بلکہ ساری زندگی جاری رہے، ایک طرح سے دیکھیں تو اعلیٰ تعلیم کے ہرشعبے میں لبرل آرٹس کی آمیزش ضروری ہے اور کئی جامعات میں ایسا ہوتا بھی ہے، مثال کے طور پر کسی ڈاکٹر یا کمپیوٹر سائنٹسٹ یا ماہر معاشیات کے لئے بھی تو یہ لازم ہے کہ وہ سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اسے اچھی زندگی گزارنے کا ڈھنگ آتا ہو، اعلیٰ تعلیم ویسے بھی ذہن کی آزادی کا تقاضہ کرتی ہے، ہمارا معاشرہ جن مصائب کا شکار ہے ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ ہم تعلیم کے معاملے میں جہل سے کام لیتے رہےہیں، بات ابتدائی تعلیم سے شروع ہوتی ہے اور اعلیٰ تعلیم کی منزل تک پہنچتے پہنچتے ہماری سانس اکھڑ جاتی ہے، لیکن اس وقت میں بچوں کی نہیں بلکہ نوجوانوں کی بات کر رہا ہوں، حبیب یونیورسٹی کی پہلی کھیپ تو محض84 طالب عملوں پر مشتمل ہے دوسری جامعات کی پیداواری استعداد گو بہت زیادہ ہے پھر بھی اس عمر کے بے شمار نوجوان کہ جنہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہونا چاہئے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔
چلئے، یوں میں اپنے کالم کے دوسرے پڑائو تک آگیا ہوں، گزشتہ ہفتے بدھ کے دن اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے پاکستان کے نوجوانوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ جاری کی جس کی تیاری میں پورے تین سال لگے، اس رپورٹ کے بارے میں کئی خبریں ضرور شائع ہوئیں، انگریزی صحافت میں اس کا کچھ زیادہ چرچا رہا، اداریئے بھی لکھے گئے، لیکن ہم سیاست کے کارزار میں اتنے لہولہان ہیں کہ ان معاشرتی سچائیوں کو غور سے دیکھنے کی ہمیں مہلت نہیں ملتی، اب اتنی وسیع تحقیقی رپورٹ کو اس کالم میں سمیٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بس یہ بتانا ہے کہ ہمارے نوجوان سوچنے اور خواب دیکھنے کی صلاحیت سے کتنے محروم ہیں، اگر آپ یہ فرض کریں کہ یہ صلاحیت ایک بے بہا معاشرتی دولت ہے تو پھر ہماری مفلسی کی کوئی تھاہ نہیں ہے بہر حال، چند اعداد وشمار حاضر ہیں، اگر ہم15 سے 29سال تک کی عمر کے افراد کو نوجوان مان لیں تو یہ ملک کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہیں، ظاہر ہے کہ ان میں سے آدھی تعداد لڑکیوں کی ہے، اگر وہ زندگی کے کاروبار میں زیادہ دکھائی نہیں دیتیں تو اس کا بھی کچھ مطلب ہے، ان نوجوانوں میں30 فیصد ناخواندہ ہیں، لیکن جن نوجوانوں نے 12سال سے زیادہ عرصے کی تعلیم حاصل کی ہے ان کی تعداد محض چھ فیصد ہے یہ وہ خوش نصیب ہیں جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرپاتے ہیں، ایک بار پھر اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ 100 میں سے چھ کتنے ہوتے ہیں، یا یہ کہ 100میں سے 94 کتنے ہوتےہیں اور کتنے کہاں ہیں اور کہاں نہیں ہیں، اس سروے میں ہرطرح کےسوالات پوچھے گئے اور حیرت اور خوشی کی بات یہ ہے کہ89 فیصد یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ خوش ہیں، آپ اسے نوجوانی کا اعجاز بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ شاید اپنی زندگی میں مست ہیں، ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ67 فیصد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی ان کے والدین کی زندگی سے بہتر ہے، میں فکری اور تہذیبی پسماندگی کا رونا بہت روتا ہوں، اس سروے کے مطابق 94 فیصد نوجوانوں کو کسی لائبریری تک رسائی نہیں ہے، 93 فیصد کو کھیل کود کی سہولتیں مہیا نہیں ہیں،85 فیصد کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے، صرف ایک فیصد کے پاس کار اور 12فیصد کے پاس موٹرسائیکلیں ہیں، ہاں، مستقبل کے بارے میں ان کی امیدیں اچھی ہیں،48 فیصد کے خیال میں یہ روشن ہے،36 فیصد کہتے ہیں کہ یہ تاریک ہے۔
ان تمام اعداد و شمار اور ملاقاتوں میں کی گئی باتوں کی روشنی میں جو پوری تصویر بنتی ہے اس کو سمجھنا ماہرین کا کام ہے، البتہ یہ خوفناک حقیقت ہمارے سامنے ایک عفریت کی مانندکھڑی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا میدان تقریباً ویران ہے، پھر اس سے بھی بڑا دکھ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے بیشتر اداروں میں نوجوانوں کو سوال کرنے، سوچنے اور خواب دیکھنے کی وہ آزادی میسرنہیں ہے کہ جو یونیورسٹی کی تعلیم سے مشروط ہے، مشال خان کو یاد کیجئے کہ اس کا قتل ایک کیمپس پر ہوا اور ان طالب علموں کے ہاتھوں کہ جن کے ذہنوں پر جہالت کا قبضہ تھا، اس پس منظر میں لبرل آرٹس کی تعلیم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، آئن اسٹائن کی نظر میں تو تخیل کا درجہ علم سے بھی بلند ہے، انسانی ذہن اگر سوچ سکتا ہے اور خواب لکھ سکتا ہے، (اور جاگتے میں دیکھے جانے والے خواب بھی اتنے ہی اہم ہیں) تو وہ ایک نئی دنیا کی تخلیق بھی کرسکتا ہے، یہاں ایک اور موضوع بھی میرا دامن تھام رہا ہے مگر میں اس پر زیادہ گفتگو نہیں کرسکتا، اسے ہم تدریسی آزادی یا خود مختاری بھی کہہ سکتے ہیں، اگر سوچ پر اور اظہار پر پہرہ ہو اور نصاب کو حکمراں خیالات کا پابند کردیا جائے تو پھر اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کیسے حاصل ہونگے، یہ بھی تعلیم کے معیار کااثر ہے کہ ہر شعبے میں ہماری کارکردگی گرتی دکھائی دے رہی ہے اور یہ مسائل ایک ایسے وقت سر اٹھا رہے ہیں کہ جب ہمارا ملک ایک شدید بحران کا شکار ہے، اس بحران میں نوجوانوں کا کردار کیا ہوگا یہ واضح نہیں ہے، ہماری ایک تہائی آبادی ایک سوالیہ نشان ہے، یا آپ یہ کہئے کہ پاکستان کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں