آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍صفر المظفّر 1440ھ 20؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
افتخار چوہدری بدسلوکی کیس، ملزمان کی اپیلوں کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ )عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے انہیں بالوں سے کھینچنے اور دھکے دینے سے متعلق کیس میں ملزمان کو ملنے والی سزائوں کے خلاف ان کی انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جبکہ فاضل عدالت نے حکم جاری کیاہے کہ جب فیصلہ سنایا جائے گا تمام ملزمان ذاتی طور پر عدالت میں اپنی موجود گی کو یقینی بنائیں۔قائم مقام چیف جسٹس، آصف سعید خان کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملزمان کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو روکنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ سابق چیف جسٹس سے بدسلوکی کیوں اور کس کے کہنے پر کی گئی تھی، قائم مقام چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے منگل کے روز کیس کی سماعت کی تو ملزم و سابق آئی جی اسلام آباد افتخاراحمد کے وکیل خالد رانجھا نے اپنے موکل کی طرف سے غیر مشروط معافی مانگی تو جسٹس

شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کیا عدالت غیر مشروط معافی کو تسلیم کرنے کی پابند ہے؟جسٹس آصف کھوسہ نے کہا معافی قبول کرنا عدالت کی صوابدید ہے، جس پرفاضل وکیل نے کہا عدالت اس بات کا جائزہ لے کہ آیا کہ معافی نیک نیتی سے مانگی گئی ہے یا نہیں؟ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا یہ تعین کیسے ہوگا کہ معافی نیک نیتی سے مانگی گئی ہے؟ فاضل وکیل نے کہا میرے موکل نے پہلی پیشی پر ہی غیر مشروط مانگ لی تھی، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فردجرم عائد ہونے کے بعدمانگی گئی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں