آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھیوری کی بات الگ ہے لیکن عملی طور پر نہ تو کہیں سو فیصد جمہوریت کا وجود ہے اور نہ ہی سو فیصد آمریت کا۔ عملی زندگی میں کچھ بھی سو فیصد نہیں ہوتا۔ بہترین جمہوریت یا بدترین آمریت البتہ زیادہ موزوں اصطلاحات ہیں۔ ان دو انتہائوں کے درمیان ہم دو مزید اصطلاحات وضع کر سکتے ہیں۔ جمہوری آمریت اور آمرانہ جمہوریت۔ اس وقت پوری دنیا انتشار کا شکار ہے۔ بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف کشمکش میں مصروف ہیں، شاید نئے توازن کی تلاش جاری ہے۔ دنیا بھر میں جمہوریت پسپائی کا شکار ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں ہوں یا پھر اندرونی طرز ہائے حکومت ہر جگہ یہی حال ہے۔ جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی انسانیت کیلئے بے شمار سکھ لائی ہیں، وہیں جوہری ہتھیاروں اورمصنوعی مشینی ذہانت جیسی ایجادات سے نسلِ انسانی اور تہذیب ہی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ عالمی سطح پر انتشار کے اور بھی بہت سے مظاہر ہیں لیکن اس وقت صرف جمہوریت کی پسپائی پر بات کرتے ہیں۔ بہترین جمہوریت اس وقت صرف مغربی یورپ اور جاپان تک سکڑ چکی ہے جبکہ بدترین آمریتوں میں چین، شمالی کوریا، مشرقِ وسطی، روس اور چند دیگر خطے اور ممالک ہیں۔ بہت سے ممالک میں اس وقت آمرانہ جمہوریت کا نظام چل رہا ہے، ہمارے ہمسایہ ممالک میں اسی طرزِ حکومت کی حکمرانی ہے مثلا افغانستان، ایران، برما کو دیکھ لیں۔

یہی حال سابق سوویت یونین سے آزاد ہونے والے وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے زیادہ تر ممالک کا ہے۔ جبکہ جمہوری آمریت کی اس وقت سب سے بڑی مثالیں امریکہ اور بھارت ہیں۔ کہنے کو وہاں عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی جمہوری حکومتیں قائم ہیں لیکن جمہوری ادارے اور روایات ان ادوار میں بُری طرح مجروح ہوئے ہیں، کم و بیش یہی حال اس وقت دنیا کے بہت سے دیگر خطوں اور ممالک کا ہے جہاں عام انتخابات تو ہوتے ہیں لیکن جمہوریت نہیں آتی۔ ان ممالک کی اشرافیہ جمہوری اداروں اور جمہوری نعروں کے پیچھے چھپ کر اقتدار میں آتی ہے لیکن آمرانہ طرزِ حکومت قائم کر لیتی ہے۔ بہت سے ممالک میں یہ اشرافیہ کرپشن، نااہلی، لوٹ مار، بد انتظامی کی بدترین مثالیں قائم کرتی ہے، ریاسی طاقت اور وسائل کی بے دریغ بندر بانٹ کیلئے یہ اشرافیہ شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی جمہوری آزادیوں پر قدغنیں لگاتی ہے۔ ان ساری خصوصیات کا ذکر سنتے ہی ذہن میں پاکستان کے پچھلے دس سالہ دور کا خیال ابھر آتا ہے۔ پچھلی دو سول جمہوری حکومتوں کو کیا نام دیا جائے؟ بہترین جمہوریت کے تو یہ قریب بھی نہیں پہنچتیں۔ نہ ہی انہیں بدترین آمریت کہا جا سکتا ہے۔ میری دانست میں پچھلے دس سالہ جمہوری دور پرجمہوری آمریت کی اصطلاح زیادہ صادق آتی ہے۔
جمہوریت کا بھرم بھرنے والی پاکستانی اشرافیہ، جس میں جمہوری سیاستدان اور فوجی آمریتوں سے وابستہ سبھی مہربان شامل ہیں، نے ستر سال سے پاکستان کی جمہور کے ساتھ جو کیا اس بارے میں ساحر لدھیانوی کا شعر یاد آ گیا
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
ہمارا ساٹھ سالہ ریکارڈ اتنا خراب ہے اور مستقبل قریب اتنا بھیانک ہے کہ باوجود اپنی تمام تر خامیوں کے پچھلے نو سال بہت جمہوری محسوس ہوتے ہیں۔ نو سال اسلئے کہ میں بوجوہ گزشتہ ایک سال کو پچھلے نو سالہ جمہوری دور سے الگ رکھ کردیکھتا ہوں۔ پچھلے نو سالہ جمہوری دور میں حکومتیں مناسب حد تک شفاف عام انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئیں، انکی جوابدہی اور احتساب کا موثر نہ سہی لیکن کچھ نہ کچھ نظام موجود رہا، اگرچہ بہت سے موضوعات شجر ممنوعہ رہے لیکن پھر بھی میڈیا کی آزادی کافی بہتر رہی۔ عدالتیں کافی حد تک آزاد رہیں اور آزادنہ فیصلے کرتی رہیں۔ زرداری حکومت میں گورننس اور ترقیاتی کام کافی حد تک مفقود رہے لیکن نواز حکومت نے ان دونوں میدانوں میں اچھا خاصا کام کیا۔ بلدیاتی حکومتوں کو اگرچہ نہ اختیارات دیئے گئے اور نہ ہی کام کرنے دیا گیا لیکن کم از کم جمہوری دور حکومت میں وہ قائم تو کی گئیں۔ نواز حکومت میں بجلی کا بحران کافی حد تک حل ہوا اورقومی انفراسٹرکچرمیں کافی بہتری آئی۔
اب اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہیں جس کے بارے میں بڑے عرصے سے شور تھا کہ آنے والی ہے، اور جو اب لگتا ہے کہ واقعی آنے والی ہے۔ اگلی حکومت کے ساتھ ہمارا جمہوری آمریت سے آمرانہ جمہوریت تک کا سفر مکمل ہونے کو ہے۔ آمرانہ جمہوریت میں جمہوریت نظر تو آتی ہے لیکن دراصل اسکا وجود برائے نام ہی ہوتا ہے۔اس میں کہنے کو تو جمہوری ادارے، جمہوری روایات، جمہوری طرزِ حکومت موجود ہوتے ہیں لیکن وہ صرف کہنے کو ہی ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ آنے والی حکومت کا پرویز مشرف کی ق لیگ والی حکومت سے موازنہ کر رہے ہیں، جو کسی حد تک بے جا بھی نہیں ہے۔ لیکن مشرف کی ق لیگ کی حکومت کی وضاحت کیلئے بہر حال آمریت کی اصطلاح بہتر معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں پرویز مشرف ایک آمر کی شکل میں سیاسی اسٹیج پر موجود تھا اور پورے نظام کو کنٹرول کر رہا تھا۔ لیکن آنے والی حکومت کی جو تیاری نظر آ رہی ہے اس میں کوئی آمر پردے کے اِس طرف موجود نہیں ہو گا۔ بظاہر ملکی انتظام و انصرام ایک منتخب وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہو گا، بظاہر میڈیا بھی آزاد ہو گا، ٹی وی چینلز چل رہے ہونگے، اخبار نکل رہے ہونگے۔ بظاہر عدالتیں بھی آزادانہ طور پر کام کر رہی ہوں گی، بظاہر آئین بحال نظر آئے گا اور شہریوں کو انکے آئینی حقوق اور بنیادی آزادیاں میسر ہونگی، بظاہر راوی چین ہی چین لکھے گا بلکہ سکھ چین لکھے گا۔ لیکن آنے والی حکومت کا ایک مسئلہ ہو گا کہ اسے سکھ اور چین نصیب نہیں ہو گا۔ وہ حکومت جو بننے سے پہلے ہی اتنی متنازع ہو جائے وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پائے گی۔ اسی طرح میڈیا، سوشل میڈیا، عدلیہ اور عوام زیادہ دیر تک ظاہری آزادیوں کی بندش برداشت نہیں کر پائیں گی۔ جہاں سوکھی لکڑیوں کا ذخیرہ ہو وہاں کوئی نہ کوئی شرارہ، کوئی نہ کوئی انگارہ اپنا کام دکھا ہی دیتا ہے۔ سو تبدیلی آنے کو تو ہے لیکن اس تبدیلی کی حالت بھی ماجد الباقری کی زبانی ہماری پیاری زبان اردو جیسی ہوگی
ذرا سی ٹھیس سے بھی شیشہ دل ٹوٹ جاتا ہے
بہت نازک مگر از قسم استحکام ہے اردو
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں