آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عمران خان کا ہدف ملک کو کامیاب فلاحی ریاست بنانا ہوگا؟

ورلڈ کپ1992ء میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے فاتح قرار پانے والے عمران خان الیکشن 2018ء کے فاتح کی حیثیت سے حلف اٹھانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 2018ءکے انتخابی نتائج پر اٹھنے والی دھول آہستہ آہستہ بیٹھ رہی ہے اور پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین سڑکوں پر احتجاج کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر مضبوط اپوزیشن کا عندیہ دے رہے ہیں عمران خان کو 2018ء کے انتخابات میں وفاق اور پنجاب میں ضرورت کے مطابق اکثریت نہ مل سکی جس کی وجہ سے انہیں دوسری جماعتوں سے رابطے کرکےاور شریک اقتدار کرنے کا عندیہ دے کر ساتھ ملانا پڑا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کے اقتدار کے سامنے مزاحمت کی بجائے بڑی پارٹی کا حق حکمرانی تسلیم کرنے کی حمایت کی جبکہ پنجاب میں ن لیگ کو بڑی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے روائتی حق سے محروم رکھا گیا۔ 

2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزام بھی لگے مگر ان الزامات میں چونکہ زد ان پر آرہی تھی جو وطن کی سلامتی کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اس لئے الزام لگانے والے بھی جارہانہ موقف پر نہ ڈٹ سکے اور فیصلہ کیا کہ دھاندلی کے خلاف عدالتی جنگ لڑی جائے گی اور حکومت کا مقابلہ مضبوط اپوزیشن کے فرائض سے کیا جائے گا۔ حکومت بننے سے قبل ہی پی ٹی آئی کے رہنمائوں میں عہدوں کے حصول کے لئے اندرون خانہ ایک دوسرے کے خلاف لابنگ نے پارٹی میں دراڑیں ڈالنا شروع کردی ہیں، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان کے قیام کے سلسلے میں عمران خان کی دلی خواہش پورا ہونا مشکل ہوتی جا رہی ہے اصولی طور پر عمران خان کو بہتر اقتدار کےلئے پاکستان پیپلزپارٹی کو شریک اقتدار کرلینا چاہئے چھوٹے چھوٹے گروپوں کو ساتھ ملانے کی بجائے ایک بڑے گروپ کو شریک اقتدار کرکے آگے بڑھیں۔ 

سندھ ،کے پی کے، بلوچستان اور پنجاب کے گورنر استعفیٰ دے چکے ہیں۔ گلگت بلتستان کے گورنر کے عہدے کےلئے بھی عمران خان کو سفارشیں پہنچ چکی ہیں سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں شریک اقتدار سیاسی قائدین کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے عمران خان شاید پاکستان کو ’جمود‘‘ سے نکال کر ایک کامیاب فلاحی ریاست بنانے میں کامیاب ہو جائیں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات جیتنے والوں کو صرف حکومت ملتی ہے اقتدار ان کا مقدر نہیں بنتا اقتدار وہاں تک ہی محدود رہتا ہے جو حکومت کا موقع فراہم کرتے ہیں ماضی قریب میں عمران سخت احتساب کا مطالبہ کرتے رہے مگر عملاً کیا ہوتا ہے زیادہ دور نہیں چاروں صوبوں میں جیتنے والی جماعت کا اعزاز حاصل کرنے والی پی ٹی آئی کو انتخابات میں وفاق اور پنجاب سے توقع سے کم کامیابی ملی ہے جس کی وجہ سے وہ آزاد امیدواروں اور ایم کیو ایم ، ق لیگ کو اقتدار میں شریک کرنے پر مجبور ہیں۔ 

25جولائی کے انتخابی نتائج پر متحدہ مجلس عمل کی آل پارٹیز کانفرنس نے حلف نہ اٹھانے کا اعلان کر کے جو بم گرایا تھا پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے اس کی منظوری نہ دے کر سیاسی احتجاج کا راستہ بند کردیا ہے شکست سے دو چار ہونے والے ہر امیدوار کو الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اپنے حق کے لئے عدالتی جنگ جاری رکھنے کا حق حاصل ہے مگر2013کی طرح انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنا نہ دینے کا فیصلہ سیاسی بالغ نظری کی بہترین مثال ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب میں129نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی اگرچہ سیاسی رواداری کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے اکثریتی جماعت کو حکومت سازی کا حق دیا جاتا مگر سیاسی رواداری پاکستان کی سیاست سے مفقود ہوتی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان گزشتہ پانچ برس سے نئے پاکستان کے قیام کا علم بلند کر رہے ہیں اگرچہ کے پی کے میں پانچ سالہ اقتدار کے بعد پی ٹی آئی کی بھاری اکثریت سے کامیابی ان کے طریقہ حکمرانی کو کامیابی کی سند سے کم نہیں اس کامیابی میں بڑے بڑے سیاسی برج بھی الٹ گئے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی ، غلام احمد بلور، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پائو، اکرم درانی، شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے امیر مقام کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

بلوچستان میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی بھی ایم ایم اے کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ 2018کے انتخابات میں کئی سیاسی ریکارڈ قائم ہوئے عمران خان نے اپنے آبائی علاقے میانوالی سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، سندھ کے دارالحکومت کراچی، پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور کے پی کے ضلع بنوں سے انتخابی معرکہ جیت کر پانچ حلقوں سے کامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے جس بیانیہ کی کامیابی کے لئے اپنی بیمار بیوی کو لندن کے ہسپتال میں چھوڑ کر بیٹی کے ہمراہ قید بامشقت کی سزا بھگتنے کے لئے پاکستان آئے اور اڈیالہ جیل کی صعوبتوں کا مقابلہ کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ 25جولائی کے انتخابات میں اس بیانیہ کی عملی تعبیر سامنے نہ آسکی ن لیگ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے وطن واپسی اور حنیف عباسی کی منشیات عدالت سے سزا کے خلاف ن لیگ کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا مگر اس اٗضافہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں صرف خطہ پوٹھوہار میں نہیں گوجرانوالہ اور فیصل آباد ڈویژن میں بھی کام دکھایا گیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف نے نواز شریف کے بیانیہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو استعمال کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اگر شہباز ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کو خود مقبولیت کی سند دینے کی کوشش کرتے تو نتائج شاید پنجاب میں مختلف ہوتے مگر انہوں نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کی بجائے ’’دوستی‘‘ کی کوششیں جاری رکھیں جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں۔ 

129نشستیں تو مل گئیں مگر اقتدار سے باہر رہ گئے ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی دوستیاں جب کمزور ہوتی ہیں تو مقبولیت کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں نواز شریف کے دست راست چوہدری نثار علی خان نے ان کی بیٹی مریم نواز کی سیاست میں آمد کو مسترد کر کے جو غیر اعلانیہ دیوار کھڑی کی تھی اس دیوار نے صرف نواز شریف کو ہی پس دیوار زنداں نہیں بھیجا بلکہ چوہدری نثار علی خان کا سیاسی بھرم بھی جاتا رہا آٹھ بار قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے والے چوہدری نثار علی خان قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں سے شکست کھا گئے اور پی پی ہی سیاست میں ان کی موجودگی کے لئے باقی رہ گئی نواز شریف سے دوری اور عمران خان سے دوستی ان کی کامیابی میں معاون نہ بن سکی ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں