آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں تو مجھے جہاںکچھ چیزیں دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے وہا ںکچھ نظارے یا چیزیں دیکھ کر بہت اچھا بھی لگتا ہے مثلاً یہ درست ہے کہ ہمارے شہروں میں ریڑھی بان یا خوانچہ فروش جہاں چاہتے ہیں وہاں ریڑھی لگا لیتے ہیں یا اپنے مال بیچنے کا ٹوکرا رکھ کر کاروبار شروع کردیتے ہیں۔ جس سے ٹریفک اور پیدل چلنے والو ں کو رکا وٹ کا سا منا کر نا پڑتا ہے، لیکن میںنے یہ بھی دیکھا ہے کہ پھل فروش بڑی خوبصورتی اور فنکارانہ انداز میں اپنی ریڑھیوں،چھابوں اور سائیکلوں پر پھل سجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں کو دیکھ کر جہاں قدرت کے شکرانے کے الفاظ نکلتے ہیں وہاں ان پھل فروشوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بھی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ لیکن گزشتہ روز میں نے ایک سائیکل والے کو دیکھا جو سائیکل کے کیریئر پر ایک ٹوکرا رکھے چھوٹے چھوٹےپودے سجائے ہوئے تھا اور صرف اس ٹوکرے میں ہی نہیں بلکہ اس نے سائیکل کے ہینڈل اور اطراف میں اس خوبصورتی سے سرسبز پودوںاور کھلے ہوئے پھولوں کے چھوٹے گملے رکھے ہوئے تھےکہ میں نے گاڑی روک لی تو مجھے احساس ہوا کہ وہ گلی گلی اورمحلے محلے پھر کر پودے بیچتا ہے ۔میں نے اس سے پودوں کا بھائو پوچھا تو بہت ہی مناسب لگا۔میں نے اس کی سائیکل پر لدے ہوئے تمام پودے خرید لئے اورا سے میرے گھر

پہنچانے کا بول دیا۔میں نے اس سے یہ پوچھا کہ تم روزانہ کتنی کمائی کرلیتے ہو تو اس نے جواب دیا کبھی دوسو، کبھی پانچ اور کبھی ہزار روپے تک بھی آمدنی ہوجاتی ہے۔ لیکن ایک سوال جو بار بار میرے ذہن میں کھٹک رہا تھا وہ اس کی سائیکل پر ایک چھوٹا سا پاکستان کا جھنڈا تھا ۔میںنے اس سے پوچھا کہ تم نے جھنڈا کیوں لگایا ہے توکہنے لگا جناب اس جھنڈے کی وجہ سے ہی اوراپنے پاکستان کی وجہ سے ہی آج میں آزادی سے گھوم پھر کر کاروبار کررہا ہوں۔مجھے کوئی ڈر یا خوف نہیں ہے کیونکہ میں ایک آزاد ملک میں رہ رہا ہوں اور میرا بیٹا تعلیم حاصل کررہا ہے ۔مجھے یقین ہے کہ وہ بڑا آدمی بنے گا بس یہی میری آزادی ہے اور یہ ہی میراجشن ہے لیکن سر میں نے جھنڈا نہیں بلکہ آ ج ایک درخت بھی لگا یا ہے اور یہ اس بر سات کا تیسو ا ں در خت ہے جو میں نے لگا یا ہے۔میں ایک عام سے کاروبار کرنے والے اس شخص کی گفتگو سن کر خوش ہوا اور میرے اندر یہ یقین اور بھی پختہ ہوگیا کہ اگر اس قوم کی رہنمائی کی جائے تو یہ کامیابیوں کے افق کوچھو سکتی ہے اور میرا خیال ہے کہ ہمارے ملک میں جوذہنی انقلاب آرہا ہے وہ اس ملک کے نئے اور کامیاب سفر کی شروعات ہے۔ پودے خریدنے کے واقعہ سے ایک روز قبل میں آئی ایس پی آر کی دعوت پر راولپنڈی میں ہونے والی شجرکاری مہم میں شریک ہوا تھا۔یہ مہم پاکستان آرمی کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ کے آئیڈیا پر شروع کی گئی ۔اس مہم کی خصوصی تقریب میں دیگر معروف صحافی ڈاکٹر معید پیرزادہ،رانا مبشر اور سردار خان نیازی وکئی دیگر شخصیات اور اے پی ایس کے بچے بھی تھے۔میں نے اپنے کالم میں موسمی تغیرّ ،پانی کی کمی اور درختوں کے حوالے سے کئی بار لکھا ہے اور مجھے ان تحریروں کا بڑا مثبت ریسپانس بھی آیا ہے۔اس لیے میری یہ خوش فہمی ہی سہی لیکن مجھے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ شاید شجرکاری کی یہ مہم میری ان تحریروں کی ہی وجہ سے ہے اور مجھے یہ احساس بہت مسحور کررہا تھا ۔اس مہم میں ہم سب نے درخت بھی لگائے، بچوں نے بھی درخت لگائے۔چیف آرمی اسٹاف،ان کی فیملی،ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی درخت لگائے اور ہمیں بتایا گیا کہ سرسبز پاکستان مہم کے تحت رواں مون سون میں ایک کروڑ درخت لگائے جائیںگے اور مہم کے آغاز میں نہ صرف بیس لاکھ درخت لگائے گئے ہیں بلکہ ان کی حفاظت اور پرورش کا میکانزم بھی بنایاگیا ہے۔آرمی چیف نے بتایا کہ جب وہ کورکمانڈر تھے تو اپنی کو ر میںکسی جگہ بھی درخت نہیں کاٹنے دیتے تھے اور اگر کسی مجبوری کے تحت یہ کرنا بھی پڑاتو اس کی جگہ دو درخت لگانے اور ان کی تصویر بنا کر بھیجنے کی شرط عائد کردی جاتی تھی۔ہم اس وقت دنیا کے ان سات ممالک میں شامل ہیں جو پانی کی کمی کا شکار ہورہے ہیں۔پانی اورماحول کاآپس میں گہرا تعلق ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ ہم نے پانی کے حوالے سے ڈیم اور ماحول کیلئے درخت کی اہمیت کو جانتے ہوئے سوچنا بھی شروع کیا اوراس پر عملی طور پر کام بھی شروع کردیا ہے۔کسی بھی ملک میں سات سے بارہ فیصد جنگلات کا ہونا لازمی ہے جبکہ ہمارے ملک میں تین سے چار فیصد جنگلات ہیں پاکستان میں1990 سے2005ء تک 25 فیصد درختوں کو بے دردی سے کاٹاگیا اور اگر یہ شرح جاری رہی تو آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان سے جنگلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جواپنے ہاتھوں سے خود اپنی تباہی کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں درخت کاٹنے کی شرح ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے ۔ہمیں درخت بھی لگانے ہیں، پانی کو طریقے سے استعمال بھی کرنا ہے اورپانی کے لیے ڈیم بھی بنانے ہیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے صاف اور شفاف پاکستان اور ماحول چھوڑ کر جائیں۔اس کے لئے ہم سب کو اپنا اپنا حصہ ڈا لنا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں