آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوم کے نام وزیر اعظم عمران خان کا پہلا خطاب سنتے ہوئے اکثر سامعین نے یہ محسوس کیا کہ عمران خان سچ بول رہے ہیں۔ وہ جو کرنا چاہتے ہیں وہی قوم کو بتا رہے ہیں اور جو وہ کہہ رہے ہیں اس کے لیے پرامید اور پرعزم ہیں۔ انہیں یہ توقع بھی ہے کہ قوم ان کا ساتھ دے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سے پہلے سورہ رحمٰن کی ابتدائی آیات کی تلاوت ہوئی۔ پیغمبر اسلام، خاتم النبین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ اوربطور حکمران حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت مولا علی کے انداز حکمرانی کو عمران خان نے دنیا بھر کے لیے فلاح کا ذریعہ بتایا۔ ایسی باتیں مذہبی عالموں کی تقاریر میں تو اکثر کہی جاتی ہیں لیکن موجودہ دور میں ایک حکمران وہ بھی ایک ایسے بندے کی زبان سے سننا جس نے اپنا پیغام عوام کے ہر طبقے تک پہنچانے کے لیے بائیس سال طویل جدوجہد کی ہو بہت پرامید بات ہے۔ ایک حکمران کو ملکی قانون سے بھی زیادہ اعلیٰ اخلاقیات کا پابند اور خود اپنے ضمیر کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان حکمران کو ہر لمحے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ خلفائے راشدین نے اچھی طرز حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات سمیت سب اچھے کام اپنا فرض سمجھتے ہوئے اللہ کی رضا پانے کے لیے کیے تھے۔ ریاست کی حفاظت، عوام کے حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراہمی، عوام کی خوش حالی کے لیے اقدامات حکمران کے فرائض میں شامل ہیں۔ ریاست کے مفادات سے لاپروا، عوام کی فلاح کی فکر نہ کرنے والا ، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے والا حکمران خائن اور گناہ گار ہے۔ ایسا حکمران ذاتی دولت اور ذاتی مفادات کے حصول میں اپنے بجائے کسی دوسرے کا نام استعمال کرتے رہنے کی وجہ سے شاید اس دنیا میں قانون کی گرفت میں نہ آسکے لیکن اللہ کے نظام میں جواب دہی بہرحال ہوگی۔

اس دنیا میں آنے والے ہر آدمی کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس دن ان لوگوں سے زیادہ سختی کے ساتھ حساب لیا جائے گا جو دنیاوی زندگی میں حاکم، جج اور سرکاری افسران رہے ہوں گے۔ فیصلہ کرنے میں حکمرانوں سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی غلطیوں کی معافی اور ان کا مداوا ممکن ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ نیت کی خرابی کی معافی نہیں ہے۔ الفاظ اور افعال کا تعلق ظاہر سے ہے اور نیت باطن سے تعلق رکھتی ہے۔ قدرت کا قانون یہ ہے کہ انسان کے کاموں کا نتیجہ اس کی نیت کے مطابق نکلتا ہے۔ اچھی نیت کے تحت کیے جانے والے کاموں کا نتیجہ اچھا ہوگا اور بری نیت کے ساتھ کیے جانے والے کاموں کا (بظاہر وہ کام کتنے ہی اچھے دکھائی دیتے ہوں) نتیجہ برا ہوگا۔

اس دنیا میں انسانوں کی عدالتوں میں فیصلے مروجّہ قانون کے مطابق اور ظاہری کاموں پر ہوتے ہیں۔ اللہ کے نظام میں فیصلے مستحکم قانون کے مطابق اور دل میں کی گئی نیتوں پر ہوتے ہیں۔ اچھی نیت کے ساتھ خیرات کیے گئے دس روپے کی اللہ کے ہاں بہت قدر ہوگی۔ ریاکاری ، بد نیتی کے ساتھ خیرات کے نام پر دیے گئے کروڑوں روپے بدنیت شخص کے منہ پر دے مارے جائیں گے۔ اچھی نیت سے کیے جانے والے کام افراد اور معاشروں پر مثبت اور تعمیری اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خراب نیت سے کیے جانے والے کام گھر اور معاشروں میں انتشار، بدامنی اور فساد کا ذریعہ بنتے ہیں۔

جو لوگ صاحب اقتدار ہیں اور جن لوگوں کے پاس زیادہ دولت ہے انہیں اچھی نیت و سچائی اورا مانت داری کو اپنی سوچ کا حصہ بنا لینے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ایسا کرلینے سے معاشرے میں سدھار تیزی سے آئے گا۔ سچائی اور امانت داری انسان کو دیگر کئی اعلیٰ صفات اور خوبیوں سے نواز دیتی ہے۔ سچا آدمی بے خوف، نڈر اور بہادر ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کے لیے بھی بہت ہمت اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سچ ناصرف یہ کہ طاقت فراہم کرتا ہے بلکہ سچے لوگوں کو قدرت کی طرف سے مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ سچ مستحکم سائبان ہے، جھوٹ عارضی سایہ ہے۔ سچ نیت ٹھیک ہونے اور ظاہر وباطن کے ملاپ کا اظہار ہے۔

پاکستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں سچے، مخلص اور اہل افراد کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگ حکمران ہونے چاہئیں ، اللہ کے آگے جوا ب دہ ہونے کا یقین جن کے دلوں میں جڑ پکڑ چکا ہو۔ قیادت جب سچے اور اہل لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے تو راستے کی سختیاں اور رکاوٹیں آسانی اور تیزی سے دور ہونے لگتی ہیں۔

پاکستان کے حالات بہتر بنانے کے لیے حکومت اور عوام کے درمیان بھرپور اعتماد قائم ہونے اور اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔معیشت کی بحالی اور قرضوں میں کمی لانے میں حکومت اور ملک کے سب طبقات کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان میں خراب طرز حکمرانی نے، حکمرانوں کی خوشنودی کی خاطر ہر حد سے گزر جانے والے سرکاری افسران میں شاہ کے مصاحب ہونے کا غرور پیدا کیا ہے۔ اس صورت حال نے کئی اہل اور دیانت دار سرکاری افسران کو عدم تحفظ کے احساس ، بددلی اور مایوسی میں مبتلا کیا ہے۔ عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے حالات ٹھیک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری افسران، حاکم کو خوش کرنے کے بجائے قانون کی تابع داری کرنے والے ہوں۔ ملک میں کرپشن کم کرنے کے لیے اصلاحی قدم کے طور پر ہر گریڈ کے سرکاری افسران کی بنیادی ضروریات ، ان کے بچوں کے لیے اچھی تعلیم، اہل خانہ کی صحت، قبل از ریٹائرمنٹ معقول ذاتی رہائش اور بعد از ریٹائرمنٹ مناسب پنشن کی فراہمی کے لیے منصوبے بنائے جائیں۔ سرکاری ملازم کو عزت اور معاشی تحفظ فراہم کیا جانا خود ریاست اور عوام کے مفاد میں ہے۔

پاکستان میں روپیہ کمانے والوں کو دیانت داری اور خوشدلی سے ٹیکس ادا کرنے پر راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعت کار ہوں، زمین دار ہوں، تاجر ہوں، خدمات فراہم کرنے والے ہوں یا دیگرپیشوں سے متعلقہ افراد ، یہاں ہر ایک کو نظام سے ڈھیروں شکایات ہیں۔ ان شکایات پر سنجیدگی سے توجہ دے کر ٹیکس پیئر کا اعتماد حاصل کرنا لازمی ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے افراد کو فوری اجر دینے کے لیے میری تجویز ہے کہ ہر فرد کے اداکر دہ انکم ٹیکس کی ایک فیصد رقم صحت اور زندگی کے بیمے کے لیے اور ایک فی صد رقم پنشن کے لیے بطور پریمئم الگ کرلی جائے ۔ 65سال سے کم عمر ہر ٹیکس دہندہ کی حادثاتی یا فطری موت پر وفاقی حکومت اس کے قانونی ورثاء کو اس کے ادا کردہ انفرادی ٹیکس کی رقم کی مناسبت سے دس لاکھ تا پانچ کروڑ روپے ادا کرے ۔ بیماری کی صورت میں ہر ٹیکس دہندہ اور اس کے بیوی بچوں کوحکومت کے منظور شدہ اسپتالوں میں اچھے علاج کی سہولت مفت فراہم کی جائے۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مہنگی سرکاری گاڑیاں بذریعہ نیلام فروخت کرنے کے اعلان کو ملک بھر میں سراہا جارہا ہے۔ تاہم ایسا اعلان پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ قبل ازیں 1985ء میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو معیشت پر دباؤ کم کرنے کے لیے مہنگی سرکاری گاڑیوں کو فروخت کرنے اور وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کو 1300سی سی اور 1000سی سی کاروں میں سفر کرنے کی ہدایت کرچکے ہیں۔

اسکول کی طالبات کے لیے اجرک

حیدرآباد ریجن کے ڈائریکٹریٹ اسکول ایجوکیشن کے اعلامیہ کے مطابق حکومت سندھ نے اجرک کو سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری اسکول کی طالبات کے یونیفارم کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے ، لیکن اس کا اعلان صرف حیدر آباد ریجن میں ہی کیوں کیا گیا ہے۔ سندھ کے ہر تعلیمی ریجن میں اجرک کو طالبات کے یونیفارم کا حصہ بنانا چاہئے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں