آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میراسوال حلال وحرام کے متعلق ہے۔آج کل بے دھڑک چیزوں کو حلال یا حرام کہہ دیا جاتا ہے۔ایک چیز حرام ہوتی ہے ،مگر اسے حلال کہہ دیتے ہیں، مثلاً حلال وائن اورکبھی کوئی چیز حلال ہوتی ہے ،مگر اس کااس کاحرام نام رکھ دیتے ہیں،کیا انڈسٹری اس بارے میں آزاد ہے ؟(عالمگیر،راول پنڈی)

جواب:۔حلال وحرام خالص خدائی اختیار ہے ۔شریعت کے علاوہ کسی کویہ حق نہیں کہ وہ حلال کوحرام یا حرام کو حلال قراردے۔اگر کوئی حرام کو حلال کہتا ہے جب کہ:

۱۔وہ اپنے عقیدے میں بھی اسے حلال سمجھتا ہو، اور

۲۔حرام ،حرام لعینہ ہو،اور

۳۔اس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو تو وہ کافرہوجاتا ہے ۔

لیکن اگرحرمت دلیل قطعی سے ثابت نہ ہو جیسے مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری مخلوقات، یاحرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو ،لیکن حرام ،حرام لعینہ نہ ہو،بلکہ لغیرہ ہو جیسے مال مسروقہ یا مغصوبہ ، یاحرام تو حرام لعینہ ہو،مگر حلّت کاعقیدہ نہ ہو،بلکہ حلال کہنے سے:

شے کی کھپت اورتجارت کافروغ مقصد ہو،یاحرام کی حرمت سے واقف نہ ہو،یاحکم کو اپنی سستی اوربدعملی کی وجہ سے معمولی اورہلکا سمجھاہو ،مگراسہتزاء اورتمسخر مقصود نہ ہو تو وہ سخت گناہ گارضرور ہے، مگر کافر نہیں ہے۔

جوحکم حرام کابیان ہوا ،وہی حکم ان ہی شرائط کے ساتھ حلال کابھی ہےیعنی ایک شخص اگرحلال کے متعلق حرام ہونے کاعقیدہ رکھتا ہے اورحلال ایسا ہے جو بذات خود حلال ہے اورجن دلائل سے اس کاحلال ہوناثابت ہے ،وہ شک وشبہے سے بالا بھی ہیں اوراپنے مطلب ومفہوم میں بالکل صاف بھی ہیں تو ایسا شخص دائرہ ٔاسلام سے خارج ہوجاتا ہے، لیکن اگر ان شرائط میں سےکوئی شرط مفقو د ہے، مثلاً وہ حلال کو حلال ہی سمجھتا ہے ،مگر کسی مادی غرض کی وجہ سے اسے حرام کہتا ہے تووہ سخت گناہ گارہے مگردائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہے۔

حرام کاحلال نام رکھنا یاحلال کوحرام سے موسوم کرناناجائزوحرام ہے ،البتہ کوئی پروڈکٹ حلال ہے یا حرام ،اس کامدار الفاظ اورتعبیرات پر نہیں ہے ،بلکہ شے کی حقیقت پر ہے۔اگر کوئی شے حلال ہے تووہ حلال ہی رہے گی ،اگر چہ اسے حرام نام سے موسوم کیا جائے اوراگر کوئی شے حرام ہے تو نام بدلنے سے یا حلال نام رکھنےسے وہ حلال نہیں ہوجائےگی۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق ۵؍۱۲۲ط:رشیدیہ، حاشيۃ رد المختار علیٰ الدر المختار - (1 / 81)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں