آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میرے قریبی گاؤں میں ایک بچہ زندہ حالت میں پیداہو ا اور فوری فوت ہوگیا ،لیکن لوگوں نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی ،اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟(ڈاکٹر عبدالرزاق ،جہلم )

جواب: جو بچہ زندہ پیداہواخواہ چند سانسیں ہی لیں اور فوت ہوگیا ،ا سے غسل وکفن دیں گے ،اس کا نام بھی رکھا جائے گا اور نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی ، تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :ترجمہ:’’جوبچہ زندہ پیداہونے کے بعد فوت ہوا،اسے غسل دیاجائے گا اور اُس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی ، (جلد5،ص:310،دمشق)‘‘۔

علامہ علاء الدین کاسانی حنفی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اور رہا (میت پر) نمازِ جنازہ پڑھنے کے بارے میں : پس زندہ پیداہوکر مرنے والے ہر مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، مرد ہو یا عورت ،آزاد ہو یا غلام ،(بدائع الصنائع،جلد1،ص:461)‘‘۔

علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نُجیم حنفی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’اوریہ قول: جو پیدائش کے وقت رویا ،اس کی نماز پڑھی جائے گی جو نہیں رویا،اُس کی نہیں پڑھی جائے گی ۔لُغت میں ’’استھلال‘‘ بچے کا پیدائش کے وقت زور سے رونامراد ہے ۔ اور شرعاً آواز بلندکرنا یا کسی عضو کا حرکت کرنا اُس کے زندہ ہونے پر دلالت کرتاہے ۔مزید لکھتے ہیں: ’’محیط‘‘ میں ہے: امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:جب بچے کا بعض حصہ باہر نکلا اوراس نے حرکت بھی کی ، پھر مرگیا ،پس اگر اکثر حصہ نکلا تو اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اگر کم حصہ نکلا تو نماز ِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ۔اور ’’مبتغی ‘‘ کے آخر میں ’’معجمہ‘‘ کے حوالے سے ہے :بچے کا سر باہر نکلا ،اس وقت وہ صحیح تھا ،پھر باہر نکلنے سے پہلے مر گیا ، وارث نہیں بنے گا اور نہ اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی ،(البحر الرائق ، جلد2،ص:229-230)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں