آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پنجاب ہمیشہ سے مادیت اور روحانیت کے امتزاج کا علمبردار رہا ہے اور اس امتزاج کے باعث محبت اور قرب کے رشتوں میں روحانی عنصر کا شامل ہو جانا یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے پنجاب کی تاریخ لازوال عشقیہ داستانوں سے آراستہ ہے۔ 1932ء میں پیدا ہونے والا ایک شخص اپنی تاریخ، شناخت اور کلچر کی کھوج میں نکلا تو عشق و محبت کی راہ پر چلتے چلتے خود بھی ایک داستان کا حصہ بن گیا، ایک ایسی عشقیہ داستان، جس کی تمام کہانی ایک ہی کردار پر مشتمل تھی (ظاہر ہے تماشائی اور موسمی پرندے توعشقیہ داستانوں کا حِصہ نہیں ہوا کرتے) اور اس کردار کا نام شفقت تنویر مرزا ہے۔ سرزمین پنجاب جس کی تمام چاہتوں کا مرکز و منبع تھی، وہ صرف پنجاب کی ظاہری حیثیت یعنی پنجاب کی مٹی، رقبے، ہواؤں، دریاؤں اور اجناس و پیداوار سے محبت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اس کے باطن میں تحریر کئی ہزار سالہ تاریخ، دانش کے چشموں اور ان سے پھوٹنے والی اعلیٰ قدروں کی علمی اور تہذیبی بازیافت کے بھی پرچارک تھے۔
فکری طور پر پنجاب کی ثقافت، کلچر اور زبان کی ترقی و ترویج ان کا خواب اور آرزو تھی لیکن ان کی اس محبت میں صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ شعوری سطح کا ایسا عشق بھی شامل تھا جس میں ارادے کی پختگی اور حصول کا جنون تھا۔ وہ کروڑوں کی آبادی والے پنجاب کے ان چند پنجابیوں میں سے

تھے جو واقعتا پنجاب کو جانتے تھے جیسے اکثر سندھی سندھ کو بلوچی بلوچستان کو اور خیبر پختونخواہ والے اپنی دھرتی کو جانتے ہیں۔ شفقت تنویر مرزا کی خواہش اور کاوش بھی یہی تھی کہ سندھیوں، بلوچیوں اور خیبر پختونخواہ والوں کی طرح پنجابی بھی اپنے آپ کو جانیں اور اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ کیوں ان سے ان کا اعلیٰ ادبی و تخلیقی ورثہ، ضرب المثل، محاوروں اور شاندار روایات کی حامل زبان چھین کر انھیں گنوار قرار دے دیا گیا جس سے نہ صرف ان کی تاریخ گم ہو گئی بلکہ ہزاروں سالوں کی تحقیق سے جنم لینے والے لفظ اور استعارے بھی بے معنی ہو گئے۔ کیوں مذہب اور وطنیت کے سہارے اُن پر اجنبی زبان، موسم، حالات، رویے اور تہذیب مسلط کر کے انھیں اپنی جڑوں سے جدا کر دیا گیا۔ شفقت تنویر مرزا نے اسی پنجاب سے عشق کیا جہاں غالب کا شعر پڑھنے کو تہذیب سمجھا جاتا تھا اور بُلھّے شاہ کا کلام پڑھنے پر کفر کے فتوے لگتے تھے۔ میر نفاست کی علامت تھا اور وارث شاہ کم علمی اور جہالت کا۔ اپنی رہتل اور کلچر سے جدائی نے پنجابیوں کے مزاج شخصیت، سوچ، عمل اور نفسیات پر گہرا اثر ڈالا اور متضاد نظریات کے باعث ان کی سوچ میں عجب بے ربطگی اور عمل میں بے ترتیبی پیدا ہوئی کیوں کہ شخصیت کا توازن تبھی قائم ہو سکتا ہے جب انسان اپنی جڑوں سے وابستہ ہو۔
اگرچہ اس کام کی ابتداء قیام پاکستان سے قبل ہی ہو گئی تھی جب مغلوں کے دور میں فارسی یہاں کی زبان بنی مگر پاکستان بننے کے بعد اس سلوک میں مزید تیزی آ گئی اور تقسیم پنجاب کی وجہ سے ایک پوری قوم سے اس کا تشخص چھین لیا گیا۔ اس بات کا قلق شفقت صاحب کو تمام عمر رہا اور آخری عمر میں شدید تر ہوگیا تھا اور وہ زیادہ متحرک ہو گئے تھے کیونکہ انہیں عمر بھر کی تحقیق کے نتیجے میں کھوئی ہوئی قدروں، تاریخ اور ادبی و ثقافتی ورثے کے خزانے کا پتہ معلوم ہو گیا تھا۔ وہ اس خزانے کو پا لینے کے متمنی تھے اور اس سے متعلق معلومات کو نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ضروری سمجھتے تھے۔ اپنی فکر کو صدیوں کی تاریخ اور دانش سے آراستہ کرنے کے بعد انھوں نے تاریخی شناخت اور قومی پہچان پر مبنی فکر و خیال کی ترسیل کو زندگی کا مشن بنا لیا۔ لیکچرز، آرٹیکلز، کالمز، فیچرز اور ڈاکومنٹریز کو ڈھال بنا کے وہ ہر پلیٹ فارم پر وہ کڑوا سچ بولتے رہے جو سرکار پرستوں کے نزدیک جرم غداری کے مترادف تھا۔ مرزا صاحب بحث و تمحیص کے بے مقصد اکھاڑوں سے پرہیز کرتے تھے اور تخت و تاج اور سرکاری رتبوں پر مان کرنے والوں سے بھی تقریباً بے نیاز ہی رہتے تھے حتیٰ کہ روایتی تقریبات میں شرکت اور صدارتوں کے چکر سے بہت زیادہ گریزپا تھے لیکن جونہی پنجابی زبان اور وسیب کا کوئی سچا اور کھرا طالب ملتا وہ خزانے کا نقشہ لے کر اس کے ساتھ ہو لیتے اور اس سفر میں انھیں جس شخص میں مخلصانہ تلاش کی جھلک نظر آتی اس کا بازو پکڑ کر ساتھ لے چلتے۔ پنجاب کے کھوئے ہوئے خزانوں کی کھوج میں ان کے قدم کبھی رُکے نہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں کسی گلی کوچے، تھڑے یا دور دراز علاقے میں بھی بلایا گیا تو وہ خوشی سے گئے۔
اگرچہ تمام عمر تشکیک اور تحقیق کے رستے پر چلتے رہے جہاں عقل ان کی معاون و رہنما تھی۔ مگر وہ وجدانی اور روحانی کیفیات سے بھی مالا مال تھے۔ عقل کے چانن کے ساتھ وجدان کا نور بھی اُنھیں میسر تھا۔ اور اسی نور نے انھیں انسانیت کے دکھ درد سے باندھ رکھا تھا کیونکہ پنجابی اور پنجاب سے محبت اور اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دردمند انسان تھے۔ ایسے روشن خیال اور دانش ور انسان، جن کا دِل پوری انسانیت کے لیے تڑپتا تھا اور جن کے ذہن تک عامیانہ سوچ اور سطحی تعصبات کی کبھی رسائی نہ ہو سکی۔ اصول اور نظریے کے اختلاف کے باوجود انہوں نے کبھی کسی انسان سے نفرت نہیں کی۔ خود انگریزی میں لکھتے تھے اور اردو، فارسی، عربی کی تدریس و تعلیم پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا مگر وہ دھرتی کی زبان کو پہلا حق دینے کی پرزور حمایت کرتے تھے۔ اس لئے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی ہر بچے کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کرے۔ کوئی زبان کم تر یا برتر نہیں ہوتی مگر مادری زبان دھرتی کی زبان ہونے کے باعث، تہذیب و تمدن، اخلاقی اقدار، لوک دانش اور ورثے کی حامل ہوتی ہے۔ جب کسی سے اس کی مادری زبان چھین لی جاتی ہے تو اُسے صرف گونگا نہیں بنایا جاتا بلکہ اُس کو ہزاروں سال کے ورثے اور تہذیب و تمدن سے کاٹ دیا جاتا ہے کیونکہ ہر زبان اپنے اندر لفظوں، محاوروں، ضرب الامثال اور حکمت کا منفرد ذخیرہ محفوظ کرتی ہے جس کے معنی اور مفہوم اُسی ماحول کے تناظر میں اخذ کئے جا سکتے ہیں۔
شفقت صاحب کا ثقافتی تھیسز پنجابی کے ساتھ ساتھ تمام پاکستانی زبانوں کی ترقی کے ساتھ وابستہ تھا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے تمام صوبوں کے لوگوں کی اپنی زبان، اقدار،کلچر، ورثے سے محبت انھیں وطن اور انسانیت سے محبت کرنے پر اُکسائے گی اور اُردو بھی قومی زبان تبھی بن پائے گی جب وہ ان زبانوں کے لفظوں سے استفادہ کرے گی۔ تمام صوبوں کے کلچر کی بڑھوتری سے پاکستانی کلچر جنم لے گا۔
اس جہانی فانی سے شفقت تنویر مرزا کے رخصت ہو جانے کے غم سے زیادہ مجھے اس بات کا دُکھ ہے کہ ان جیسی سوچ، کمٹ منٹ، پنجاب کی تاریخ و ادب سے وابستگی اور عشق میں مبتلا کوئی اور شخص دور دور تک نظر نہیں آتا۔ اپنی اسی سالہ حیات مستعار میں انہوں نے بلاشبہ آٹھ سو برس کا کام کیا اور پنجابی زبان، تاریخ اور ادب کے مختلف گوشوں کی بازیافت کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ علم و دانش سے محبت رکھنے اور علم والوں کی قدر کرنے والے پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات محی الدین احمد وانی نے فون کر کے اپنی علم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کی لائبریری میں ایک چیئر ان کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن مرزا صاحب کا کام اور مقام اس امر کا متقاضی ہے کہ لاہور کی کوئی اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب کی جائے اور اورئینٹل کالج کے شعبہ پنجابی میں پنجابی زبان و ادب کی تحقیق و تدوین کے لئے ایک مستقل شفقت تنویر مرزا چیئر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ شاید اسی طرح اس مجرمانہ تاریخی غفلت کا تھوڑا بہت ازالہ ہو سکے جو صدیوں سے پنجاب کی زبان اور اس کی تاریخ سے برتی جا رہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں