آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردیوں کے موسم میں جس طرح ہم خود کو ٹھنڈ سے بچاتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے گھر کو بھی سردیوں میں گرم رکھنے کے لیے خاص اہتمام کرنا چاہیے اور ہم میں سے بہت سے لوگ ایسا کرتے بھی ہیں، وہ بھی خوبصورت، نرم اور پائیدار قالین کے انتخاب کے ذریعے۔ سردیوں کے موسم میں ہم تقریباً ہر کمرے میں قالین کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں، اسی لیے موٹا اور گرم قالین خرید کر اس سے اپنے کمرے اور گھر کو ایک نئی وضع اور جدت بخشتے ہیں۔ اگر ہم کسی کمرے میں گول قالین استعمال کرتے ہیں تو وہ کلاسک کمرہ بن جاتا ہے اور اگر مستطیل قالین بچھاتے ہیں تو جدید کمرہ بننے میں اسے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ ان سب کاموں اور فیصلوں میں تخلیقات کا کردار اہم ہوتا ہے۔

خوابگاہ

عموماً خوابگاہ میں قالین کمرے کی وسعت کے مطابق بچھایا جاتا ہے۔ اگر آپ کی خوابگاہ وسیع و عریض ہے تو پلنگ کے اختتام پر آپ قالین بچھا لیں اور اگر آپ کی خوابگاہ چھوٹی ہے تو آدھا قالین آپ پلنگ کے نیچے کرسکتے ہیں اور آدھا پلنگ سے باہر۔ اس کے علاوہ چھوٹا قالین بھی ایک اچھا انتخاب ہوسکتا ہے۔

بچوں کا کمرہ

بچوں کا کمرہ اکثر چھوٹا ہی ہوتا ہے تو اس میں ایک گول قالین کا انتخاب بہت خوبصورت ثابت ہوسکتا ہے، جس کا رنگ بچے کی پسند کے مطابق ہوتو اس کی خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ قالین بچے کو پسند آئے گا تو وہ اپنے کمرے میں نہ صرف رہنا پسند کرے گا بلکہ اسے گندا ہونے سے بھی بچائے گا۔ سردیوں میں بچے اگر نیچے بھی بیٹھ کر کھیلنا یا پڑھنا پسند کریں تب بھی یہ انہیں ٹھنڈ سے بچاسکتا ہے۔ اون سے بنے قالین سردیوں کے لحاظ سے بہت کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

دیوان خانہ

دیوان خانے میں ہم عام طور پر قالین کا استعمال ضرور کرتے ہیں، بس سردیوں کے آنے سے صرف ان کے معیار، قسم اور رنگ میں فرق آتا ہے، جیسے ہلکے رنگ کے بجائے گہرے رنگ کا قالین ٹھنڈ میں گرماہٹ کا احساس دلاتا ہے اور اسی طرح موٹا قالین پیروں میں ٹھنڈ لگنے سے بچائے رکھتا ہے۔

کھانے کا کمرہ

کھانے کے کمرے میں ہم اکثر قالین نہیں بچھاتے لیکن سردیوں میں یہ ایک اچھی سوچ ہوسکتی ہے کہ ہم قالین کا استعمال کھانے کے کمرے میں بھی کریں۔ اس کے لیے سب سے بہترین جگہ کھانے کی میز کے نیچے ہے اور وہ اس لیے کیونکہ کھانا کھاتے وقت لوگوں کے پاؤں فرش پر ہوتے ہیں، اس لیے وہاں قالین کا ہونا ایک معقول فیصلہ ہوگا۔

سنگھار کمرہ

سنگھار کے کمرے میں بھی سردیوں کے لیے قالین بچھانا ایک اچھا آئیڈیا ہے اور اس کے لیے زیادہ مہنگا یا قیمتی قالین خریدنے کی بھی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی اچھا، پائیدار اور موٹا قالین بچھانا بہتر رہے گا کیونکہ اس کمرے میں اکثر صرف آپ ہی ہوتے ہیں اور خود کی موجودگی میں صرف ٹھنڈ کا احساس نہ ہونے دینا ہی آپ کا مقصد ہوتا ہے۔

دالان

دالان جیسا کہ سجاوٹ کے معاملے میں گھر کا سب سے نظر انداز کیا جانے والا حصہ ہوتا ہے، اسی طرح قالین کے معاملے میں بھی اسے اہمیت نہیں دی جاتی۔لیکن اگر آپ کا دالان وسیع ہے تو اس میں سادہ مگر ہلکے پرنٹ کا قالین بچھانا ایک بہت منفرد آئیڈیا ہوگا۔ دالان میں دیواروں کے رنگ سے میل کھاتا قالین سردیوں میں بہت اچھے طریقے سے خوش آمدید کہے گا۔

مطالعہ کا کمرہ

مطالعے کے کمرے میں اکثر کرسیاں اور میز رکھی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن قالین بچھانا اس کمرے میں ایک نیا اور شاندار اضافہ ہوگا، جو سردیوں میں ایک ساتھ پڑھائی کے لیے بچوں کو کھلی اور آرام دہ جگہ مہیا کرے گا۔ اس کمرے میں قالین کا اضافہ کمرے کو ٹھنڈ سے محفوظ بنائے گا۔

ویسے بھی اگر آپ کے گھر میں لائبریری ہے تو سردیوں میں سکون کے لمحات گزارنے کے لیے لائبریری سے بہتر اور بھلا کون سی جگہ ہوسکتی ہے۔ سردیاں عموماً مزاج میں ٹھہراؤ اور سستی پیداکرنے کا باعث بنتی ہیں، ایسے میں کوئی اچھی کتاب آپ کو نیا جوش اور ولولہ دے سکتی ہے۔ ساتھ ہی اگر لائبریری روم کا فرش کسی معیاری اور گرم قالین سے ڈھکا ہو تو گرم ماحول میں کتاب پڑھنے کا مزا دوبالا ہوجاتا ہے۔

انٹرنس

انٹرنس وہ جگہ ہوتی ہے جو سب سے پہلے آپ کے مہمانوں پر، آپ کے گھر اور آپ کی شخصیت اور ذوق سے متعلق پہلا تاثر چھوڑتی ہے، تاہم اکثر لوگ اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔ آپ کا انٹرنس دروازہ چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، قالین کے سائز کا انتخاب اس کے مطابق کریں۔ قالین کا رنگ اور موٹائی سردیوں کی مناسبت سے گہرا ہونا چاہیے،یقیناً یہ آپ کے گھر کو شاہانہ انداز بخشے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں