آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بحیثیت طالب علم کیا آپ نے کبھی لمحہ بھر کے لیے غور کیا ہے کہ آپ کتنے خوش قسمت ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں ہی آگہی کے سفرپر گامزن ہیں۔ یہ زندگی کا انتہائی خوبصورت دورانیہ مانا جاتا ہے۔ آتش جواں ہوتا ہے، پہاڑوں کو سرکرنے کا جذبہ و توانائی ہوتی ہے۔ اس لمحے گر آپ نے خود کو کام یابی سے ہمکنار کیا تو یقین جانیے مستقبل آپ کا ہے۔ یہی لمحہ مٹھی میں ریت کی مانند کھسک جائے تو پھر ہمارا مستقبل ’اے کاش‘ کی نذر ہوجاتا ہے۔کیریئر بنانے میں بے خواب چہل قدمی (Dreamless walking) نہیں چلے گی۔آپ کو ابھی سے مضامین کا انتخاب کرتے وقت بہت احتیاط، ذمہ داری اور بیداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ان مشوروں کا تعلق آپ کے جوش و جذبے، رجحان و میلان اور رغبت سے عبارت ہے کہ آپ پڑھنے میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں اور مستقبل میں کامیاب کیریئر کے کتنے خواہاں ہیں؟ خوشی کا ایک ہی راز ہے، جو کام من کو بھائےوہی کرنا چاہیے۔ درست راستے کا انتخاب اولین ترجیح ہے۔ اگر آپ ذیل میں درج مشوروں کو پلو سے باندھیں گے تو یقین جانیے اسکول،کالج،یونیورسٹی لائف سنور جائے گی۔

مشورہ1: پسندیدہ کیریئر اپنائیے

تعلیم کے حصول میں ان مضامین کا انتخاب بہت ضروری ہے، جن میں آپ کی فطری دلچسپی ہے۔اگرشروع سے آپ ڈاکٹر، پروفیسر ،وکیل، صحافی، ادیب،سائنس داں ،گلوکار، مصور، اداکار بننا چاہتے ہیں تو اپنے پسندیدہ شعبے میں اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیے۔ کسی بھی مضمون کو اختیار کرتے وقت یہ سوال ذہن میں رکھیے کہ میں یہ مضمون کیوں لوں! یہاں مضمون کے انتخاب میں تجربے اور ہنر کو دیکھنا چاہیے۔ آپ کا فطری دلچسپی کس پیشے سےہے؟ مستقبل میںکون سے علوم ملازمت کے ضامن ہوں گے؟ آپ ساتھی طالب علموں، اساتذہ و والدین سے بھی کیریئر کے انتخاب میں مشورہ لے سکتے ہیں۔خود بھی جاب مارکیٹ ٹرینڈز دیکھ کر یہ ہنر سیکھ سکتے ہیں۔ آج کل ہمہ گیر قابلیت( ملٹی ٹیلنٹ) درکار ہوتی ہے۔

مشورہ2 :کس ملک میں پڑھنے کا شوق ہے؟

کالج اور یونیورسٹی لائف میں بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ دل و دماغ پر سوار ہوجاتا ہے۔ ہمارے طالب علم امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی، روس، سویڈن، فن لینڈ، کینیڈا، ترکی،سعودی عرب،فرانس،آسٹریا،چین، جاپان، سنگاپور، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کی یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں زیرِ تعلیم ہیں۔یہ ممالک پاکستانی طالب علموں کی ذہانت کو قبول کر رہے ہیں۔ناسا میں بھی پاکستانی سائنس دانوں کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ خود پاکستان میں نیوکلیئر سائنس ،جینیٹکس، حیاتیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب در آیا ہے۔ آپ میں اتنی اہلیت تو لازمی ہونی چاہیے کہ اپنے پسندیدہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کےلیے اسکالر شپ کے مواقع حاصل کرسکیں۔ اس میں صرف آپ کی ذہانت و فطانت کا سکہ چلتا ہے۔

مشورہ 3 :خود کو چیلنج کریں

سننے میں کتنا عجیب لگ رہا ہے کہ خود کو خبر داچیلنج کریں لیکن ڈیجیٹل دور کے اسمارٹ طالب علم اب کسی ایک ہنر پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔ وہ خود کوچیلنج کرکے ہر وقت کچھ نیا کر دکھانے کی امنگ، لگن اور شوقِ روزگار کے ذریعے آمدن کا محفوظ ذریعہ حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ کئی فری لانس مشاغل ہیں جیسے ریڈیو جوکری،میزبانی،ماڈلنگ، مصوری، فوٹو گرافی، پیج میکنگ، فوٹو شاپ پر دسترس، کمپیوٹر میں درکار ضروری مہارت حاصل کرنے کی تربیت وغیرہ، جن کے ذریعے معقول آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہمارے طالب علم تو اب ٹیک اسمارٹ اسٹوڈنٹس کہلائے جاتے ہیں،جن کی ایجادات و اختراعات سےبیرونِ ممالک پاکستان کا تاثر بہتر اور دنیا کی باوقار اقوام میں ہونے لگا ہے۔

مشورہ 4 :ہم مزاج لوگوں سے تعلقات بڑھائیں

ہر گزرتےدن کے ساتھ ہمیں جس طرح بڑھتی آبادی،نئے علوم و کاروبار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،معلومات کا ایک سیلاب ہے،جو اُمڈ رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی طالب علم کے لیے کامیابی کا ایک ہی فارمولا ہے، اپنے پسندیدہ مشاغل کو کیریئر میں شامل کرتے ہوئے صرف ان کلاس فیلوز اور اساتذہ سے تعلقات استوار کیے جائیں، جو آپ کی طرح کھلاڑی، اداکار، ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے ہیں۔کامیاب لوگوں کے تجربات سے سیکھیں، اساتذہ سے مشورے لیں اور رہنمائی حاصل کریں۔ اپنے پسندیدہ شعبوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے عظیم لوگوںسے رہنمائی پانے کے لیے ان کی آپ بیتیاں، سوانح عمری، جیون کہانیاں اور خاکے پڑھیں۔سوشل میڈیا کو کیریئر سازی کے لیے استعمال کریں۔ ہم مزاج طالب علموں کا گروپ بناکرعلمی گفتگو سے اسٹوڈنٹ لائف کو یقینی کامیابی سے شاد و آباد رکھیں۔

مشورہ 5 : پڑھائی کا طریقہ کار منتخب کریں

یہاں بات پڑھنے کےلیے منفرد طریقے اپنانے کی ہے۔ آپ کو پڑھنے،لکھنے،بولنے کا کون سا منفرد طریقہ بھاتا ہے۔کچھ کو فائنل امتحانات اچھے لگتے ہیں تو کچھ سال بھر مختلف اسائنمنٹس میں مصروف رہتے ہوئے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بعض تنہا پڑھتے ہیں جبکہ کچھ گروپ اسٹڈی کو ترجیح دیتے ہیں، غرض ہر ایک کا پڑھنے کا مختلف طریقہ ہے،جو کامیابی کے لیے آپ کو زیادہ با اعتماد بناتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں