آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍جمادی الاوّل 1440ھ 20؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بالآخر2018ء بھی گزر گیا، لیکن اِس سال کو اینٹرٹینمنٹ کی دُنیا میں’’ دی ڈونکی کنگ‘‘ اور’’ جوانی پھر نہیں آنی۔ٹُو‘‘ سمیت پاکستانی فلموں کی بہترین کارکردگی، بالی وُڈ میں ’’ٹھگز آف ہندوستان‘‘ کی ناکامی، سُپر اسٹار سِری دیوی کی موت اور ہالی وڈ میں آئرن مین، تھور سمیت ایونجرز کے سُپر ہیروز کی ناکامی کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ سال لالی وُڈ انڈسٹری میں پاکستان کی کئی فلموں نے شائقین کو چونکایا۔ مُلک بَھر میں ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں نے ایک سال میں صرف 150اسکرینز سے 250کروڑ روپے سے زائد بزنس کیا۔ ’’جوانی پھر نہیں آنی-ٹو‘‘سال ہی کی نہیں، بلکہ تاریخ کی سب سے کام یاب فلم قرار پائی۔ اس فلم نے پہلی بار 50کروڑ روپے کا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دُنیا بَھر میں 65کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا۔ فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر، ہمایوں سعید نے ایک بار پھر بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور احمد علی بٹ اور فہد مصطفیٰ کو نہ صرف برابری کے کردار دیے، بلکہ سُپر اسٹار ہونے کے باوجود خود کو تھوڑا پیچھے پیچھے رکھا،تو فواد خان نے بھی اسپیشل اپیئرنس دے کر پاکستانی فلموں میں دوبارہ اپنا کھاتہ کھول لیا۔2018ء میں عید الاضحیٰ فلموں کے لیے لکی ثابت ہوئی، لیکن عیدالفطر پر سینیما ہالز کی زینت بننے والی فلمیں دیکھنے والوں کو اتنا متاثر نہیں کرسکیں۔

علی ظفر نے ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کی صورت اپنی پہلی پاکستانی فلم ریلیز کی۔ فلم کے گانے اور ایکشن ہی نہیں، پوری پروڈکشن ہی اعلیٰ معیار کی تھی۔کہا جاتا ہے کہ اگر فلم عید یا چھٹی کے موقعے پر ریلیز کی جائے، تو نتیجہ اچھا آتا ہے، لیکن مذکورہ فلم نے تو عید اور چھٹیوں کےبغیرہی کام یابی کے ایک نہیں، کئی نئے ریکارڈز بناڈالے۔جیسا کہ یہ وہ پہلی پاکستانی فلم بنی، جسے دُنیا بَھر میں بالی وُڈ کے سب سے بڑے بینر، یش راج فلمز نے ریلیز کیا اور وہ بھی25سے زائد مُمالک میں۔ اس فلم نے جہاں دُنیا بَھر میں 44 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا،وہیں اسے نیٹ فلیکس، بھارت میں بھی ریلیز کیا گیا۔ طیفا اِن ٹربل کے گانے’’آئٹم نمبر‘‘ نے یوٹیوب پر نیا ریکارڈ بنایا، جسے بعد میں فلم ’’دی ڈونکی کنگ‘‘ کے ٹائٹل گانے’’ڈونکی راجا‘‘ نے توڑا۔ مجموعی طور پرپاکستان کی سب سے بڑی اور کام یاب اینیمیٹڈ فلم ’’دی ڈونکی کنگ‘‘ نے نہ صرف باکس آفس پر ریکارڈ بنایا، بلکہ مارکیٹنگ، نیوز اور یوٹیوب پر بھی راج کیا، جب کہ جان ریمبو، جان منگو بن کر بھی سب کے پسندیدہ ہیرو بن گئے۔ ’’دی ڈونکی کنگ‘‘ نے اپنے مُلک میں24کروڑ سے زائد بزنس کیا اور وہ بھی عید اور چھٹیوں کی مدد کے بغیر۔ نیز،مسلسل ہیڈلائنز بنا کر بھی ایک منفرد ریکارڈ بنایا، جب کہ پہلے دو ہفتوں سے زیادہ تیسرے ہفتے میں بزنس کر کے سب کو حیران بھی کردیا۔ علاوہ ازیں، فلم کا ٹائٹل سونگ پہلے تو یوٹیوب پر سال کا سب سے مقبول گیت بنا، پھر ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ویوز لے کر اب تک کی پاکستانی تاریخ کا سب سے مقبول یوٹیوب فلمی گیت بھی بن گیا۔ اگر فلم کے ٹریلر کی بات کی جائے،تو یہ بھی سال کی تمام فلموں کے ٹریلرز سے بہت آگے گیا اور ہوسکتا ہے کہ اس تحریر کی اشاعت تک پاکستان کی تاریخ کا سب سے مقبول فلمی ٹریلر بن چُکا ہو۔اگر’’ دی ڈونکی کنگ ‘‘کے اور ریکارڈز کا ذکر ہوا، تو باقی تمام فلمیں رہ جائیں گی، اس لیے انھیں چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔ ’’دی ڈونکی کنگ‘‘ کے علاوہ گزشتہ برس ’’اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور‘‘جس کے لکھاری اور ہدایت کارعزیر ظہیر خان تھے اور شرمین عبید چنائے کی ہدایت کاری میں’’تین بہادر، پارٹ3‘‘ بھی ریلیز ہوئیں۔ حالاں کہ دونوں ہی فلموں کی کوالٹی بھی بہت اچھی تھی، لیکن بزنس ’’دی ڈونکی کنگ ‘‘سے کافی کم رہا۔23 مارچ 2018ء کو پاکستانی چوتھی اینیمیٹڈ فلم ’’ٹک ٹاک‘‘ بھی ریلیز ہوئی، جسے بہت کم لوگ دیکھنے سینیما گئے اور جو گئے، وہ آئندہ سینیما نہ جانے کا عہد کرکے اُٹھے۔ فلم کے رائٹر عمیر علوی تھے، جب کہ نمایاں اداکاروں میں احسن خان اور غلام محی الدین شامل تھے۔ ڈراؤنی فلم’’پَری‘‘ دو بار ریلیزکی گئی،جسے بالی وُڈ کی پَری کی وجہ سے کافی ہائپ ملی۔ فلم بڑا نام، بجٹ اور مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کم لوگوں نے دیکھی، لیکن جس نے بھی دیکھی، اُس نے فلم بنانے والوں کو ضرور سراہا۔ اسی لیے فلم کو سال کے آخر میں سینیما میں دوبارہ ریلیز کیا گیا، وہ بھی ٹیلی ویژن پریمئر کے بعد۔ غالبا یہ بھی کوئی نیا ریکارڈ ہوسکتا ہے۔

2018ء ہی میں تین ویمن اورینٹیڈ فلمیں ’’پنکی میم صاحب‘‘، ’’کیک‘‘ اور ’’موٹر سائیکل گرل‘‘ بھی ریلیز ہوئیں۔ مجموعی طور پرتینوں فلموں نے بہت اچھا بزنس کیا۔ تاہم، ’’کیک‘‘ ان سب میں تیکنیکی اور بہت ساؤنڈ فلم تھی، فلم کا بجٹ اور مارکیٹنگ زبردست تھی، لیکن آسکر کے لیے ’’موٹر سائیکل گرل‘‘ میں کافی زیادہ فلیور تھا۔ موٹر سائیکل گرل کے نمایاں اداکاروں میں ثمینہ پیرزادہ، سوہائےعلی ابڑو اور راحت علی کاظمی کا بیٹا ،علی کاظمی شامل تھے۔ گزشتہ برس پاکستان کی دو بڑی سُپر اسٹارز مہوش حیات اور ماہرہ خان کی فلمیں عید پر ریلیز ہونے کے باوجود زیادہ نہیں چلیں،اس کے برعکس مایا علی کو بےحد پسند کیا گیا۔بلاشبہ ’’لوڈ ویڈنگ‘‘ اور ’’سات دِن محبّت اِن‘‘ دونوں فلموں کی ٹیمیں بہت مضبوط تھیں، لیکن ان پر بجٹ کافی کنجوسی سے خرچ کیا گیا، جس کا نتیجہ سب کے سامنے آیا۔ ’’لوڈ ویڈنگ‘‘ نبیل قریشی کی ’’نامعلوم افراد‘‘ سیریز اور ’’ایکٹر اِن لاء‘‘ کی کام یابی کے بعد پہلی فلاپ فلم تھے۔ آئٹم نمبر ہونے کے باوجود حمزہ علی عباسی نے یوٹرن لے کر ’’جوانی پھر نہیں آنی-ٹو‘‘ میں اسپیشل اپیئرنس دی، لیکن ان کی فلم ’’پرواز ہے جنون‘‘ جس میں احد رضا میر اور ہانیہ عامر نے بھی زبردست پرفارمینس دی، سال کی دوسری کام یاب ترین فلم قرار پائی۔ اس فلم نے دُنیا بَھر سے45کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا اور سعودی عرب میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم کا اعزاز پایا۔ اس اعزاز پر حریم فاروق نے سوال اُٹھا کر اپنی فلم کی’’پرچی‘‘ چلانے کی کوشش کی،مگر ناکام رہیں۔ کام یابی تو ہدایت کار جاوید شیخ کو بھی نہیں ملی کہ ان کی فلم’’ وجود ‘‘ شائقین کو بالکل بھی پسند نہیں آئی۔ اس فلم کی ناکامی کے بعد دانش تیمور کی یاسر نواز کی فلم سے بھی چھٹی ہوگئی اور ’’رانگ نمبرٹو‘‘ میں سمیع خان فَٹ سے فِٹ ہوگئے۔ ’’وجود‘‘ وہ پاکستانی فلم تھی، جس میں پہلی بار تین سُپر اسٹارز ندیم ، شاہد اور جاوید شیخ ایک ساتھ آئے، لیکن تینوں کے کردار فلم میں نہ ہونے کے برابر تھے۔ جاوید شیخ اگر پوری فلم میں ہوتے، تو نتیجہ کچھ اور ہوسکتا تھا۔

2018ء میں فلاپ ہونے والی فلموں میں ’’آزاد‘‘ اور ’’آزادی‘‘ دونوں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ’’شور شرابا‘‘ اور ’’جیک پاٹ‘‘ بھی ناکامی سے دوچار ہوئیں، لیکن حریم فاروق کی فلم ’’پرچی‘‘ نے اچھا بزنس کرتے ہوئے پروڈیوسرز کا کا خُوب فائدہ کیا۔گزشتہ برس دو فلم فیسٹیولز کا بھی انعقادکیا گیا،جن کا مقصد پاکستانی فلم اور فلم سازوں کو دُنیا بَھر میں روشناس کروانا تھا۔پہلا ’’پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘‘، کراچی میں ہوا، جس میں دُنیا بَھر سےکئی فلمیں نمایش کے لیے بھیجی گئیں، تاہم، 150 سے زائد فلموں کو کراچی میں چھے مختلف مقامات پر اسکرین کیا گیا،جب کہ دوسرا ’’’پاکستان فلم فیسٹیول ‘‘ نیویارک میں منعقد ہوا۔

2018ء بالی وُڈ کے لیے ایک ایسا سال تھا، جب تینوں خان یعنی عامر، سلمان اور شاہ رُخ باکس آفس کے حکم ران نہیں رہے۔ بارہ سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ سال کی سب سے کام یاب فلم ان میں سے کسی خان کی نہیں تھی ۔غالباً 1988ء کے بعد یہ پہلا برس تھا، جب ان میں سے کسی بھی خان کی فلم ٹاپ تھری میں بھی جگہ نہیں بناسکی۔ گزشتہ سال کی بہترین نئی اداکارہ کے لیے دو اسٹار کڈز ’’دھڑک‘‘ کی جھانوی کپور اور ’’کیدار ناتھ‘‘ کی سارہ علی خان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا، تو بہترین اداکار کے لیے رنبیر کپور اور رنویر سنگھ (تادمِ تحریر)فیورٹ ٹھہرے، لیکن توقع ہے کہ ایوشمان بھی بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ فلموں میں ہمیشہ ٹریجڈی کا شکار ہونے والا جوڑا(دیپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ)2018ء میں حقیقی زندگی میں ایک ہوگئے۔ دوسری طرف دیسی گرل، پریانکا چوپڑا انگریزی بابو نِک جونس کے دیس سدھار گئیں۔بالی وُڈ میں 2018ء کی سب سے کام یاب بھارتی فلم رجنی کانت اور اکشے کمار کی فلم’’روبوٹ ٹُو‘‘ ٹھہری، جس نے مختلف زبانوں میں دُنیا بَھر میں20ارب روپے(پاکستانی) کا بزنس کیا۔عامر خان کی مہنگی ترین بالی وُڈ فلم’’ٹھگز آف ہندوستان‘‘،جس پر بھارتی تین سو کروڑ کی لاگت آئی، دیوالی پر ریلیز ہونے کے باوجود بالی وُڈ کی تاریخ کی فلاپ ترین فلموں میں سے ایک قرار پائی۔ سلمان خان کی ’’ریس تھری‘‘ بھی بس ٹھیک ہی رہی۔ تاہم، یوٹیوب پر’’ٹھگز آف ہندوستان‘‘ کے ٹریلر نے پہلی بار دس کروڑ ویوز کا ریکارڈ بنایا، جسے کچھ ہی دِنوں بعد شاہ رُخ خان کی فلم’’زیرو‘‘ کے ٹریلر نے توڑ دیا۔گزشتہ برس فلم’’سنجو‘‘ نے بھی ریکارڈ بزنس کیا اور پہلی بار رنبیر کپور نے تین سو کروڑ کا لمبا چھکا لگایا۔ فلم بنائی بھی تو ’’پی کے‘‘، ’’تھری ایڈیٹس‘‘ اور ’’منا بھائی‘‘ والے راج کمار ہیرانی صاحب نے تھی۔ ’’سنجو‘‘ کے بعد تیسرا نمبر ’’پدماوَت ‘‘ کاتھا، جسے 2017ء میں ریلیز ہونا تھا، لیکن تنازعات کی وجہ سے2018ء میں نئے نام کے ساتھ ریلیز ہوئی اور سُپرہٹ رہی۔ ورون دھون نے اسی سال اپنے کیریئر کی پہلی فلاپ فلم ’’اکتوبر‘‘ دی، جو آف بیٹ فلم تھی اور کریٹکس ایوارڈز کے لیے فیورٹ بھی۔’’کم بجٹ زیادہ پرافٹ‘‘ کا فارمولا 2018ء میں بھی سَر چڑھ کر بولا۔ راج کمار راؤ اور شردھا کپور کی صرف 20کروڑ سے بننے والی فلم ’’استری‘‘ نے 120کروڑ سے زیادہ کا بزنس کیا۔ ایوشمان کھرانہ کی ’’بدھائی ہو‘‘ اور ’’اندھا دھن‘‘، عالیہ بھٹ کی ’’راضی‘‘، رانی مکھرجی کی ’’ہچکی‘‘ اور سونو کی ’’ٹوٹو کی سوئیٹی‘‘ نے بھی بنانے والوں کو مالا مال کردیا۔گزشتہ سال کا سب سے بڑا کلیش اکشے کمار کی ’’گولڈ‘‘ اور جان ابراہم کی ’’ستیہ میو جیت ‘‘ کے درمیان ہوا اور حیرت انگیز طور پر ’’گولڈ‘‘ اپنے بڑے بجٹ کے باوجود بزنس میں ’’ستیہ میو جیت‘‘ سے تھوڑا ہی آگے رہی، جس کہ وجہ سے مقابلہ جان ابراہم کے نام رہا۔ بالی وُڈ کے چھوٹے نواب، یعنی سیف علی خان کی 2018ء میں دو فلمیں ’’قلاقندی‘‘ اور’’بازار‘‘ ریلیز ہوئیں ،مگر دونوںبُری طرح ناکام ہوگئیں،حالاں کہ فلم بازار میں سیف علی خان نے عُمدہ اداکاری کی تھی، مگر فلم کا کم زور اسکرپٹ اُسےلے ڈوبا۔ اسی طرح54کروڑ روپے سے بننے والی فلم ’’نمستے انگلینڈ‘‘باکس آفس پر 7کروڑ کا بھی بزنس نہ دے پائی،تو ’’بتی گل، میٹر چالو‘‘بہت تشہیر کے باوجود کام یاب نہ ہوسکی۔ سال 2018ء کی سب سے بڑی غیر حاضری، ریتک روشن کی تھی، جن کی آخری فلم ’’قابل‘‘جنوری 2017ء میں ریلیز ہوئی تھی۔بالی وُڈ انڈسٹری میں سال کا سب سے بڑا جھٹکا سُپر اسٹار سِری دیوی کی اچانک موت تھی، جو اپنی بیٹی کی پہلی فلم کی ریلیز سے کچھ روزپہلے چل بسیں۔ سِری دیوی کی آخری فلم ’’زیرو‘‘ تھی، جس میں انھوں نے اسپیشل اپیئرنس دی۔سال2017ء میں ہالی وُڈ کو ہلادینے والی مُہم ’’ می ٹو ‘‘ نے 2018 ء میں بالی وُڈ کو دہلا دیا کہ نانا پاٹیکر اور ساجد خان کو الزامات کے بعد اپنی اپنی فلموں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اگرچہ دونوں نے ان الزامات کو قبول نہیں کیا، لیکن ساکھ ضرور متاثر ہوئی۔ ’’سنجو‘‘ نے پاکستان میں ریلیز ہونے والی تمام بالی وُڈ فلموں سے زیادہ بزنس کیا،مگر عامرخان کی ’’ٹھگز آف ہندوستان‘‘ اور سلمان خان کی ’’ریس تھری‘‘، ’’دی ڈونکی کنگ‘‘ سے پیچھے رہیں۔ ہمیشہ کی طرح 2018ء میں بھی تمام پاکستانی فلمیں مل کر بھی سب سے کام یاب بالی وُڈ فلم کے برابر بزنس نہیں کرسکیں اور اسی طرح تمام بالی وُڈ فلمیں مل کر سب سے کام یاب ہالی وڈ فلم کے برابر پیسا نہیں کماسکیں۔

ہالی وُڈ میں سال 2018ء کی سب سے سے کام یاب فلم ’’ ایوینجرز: انفینٹی وار‘‘ رہی، جس نے دُنیا بَھر سے 2بلین ڈالرز یعنی پاکستانی260ارب روپے سے زائد کی کمائی کی۔ اس فلم میں سُپرہیروز کی پوری بارات تھی، جن میں آئرن مین، تھور، ہلک، ڈاکٹر اسٹرینج، اسٹیو راجرز، اسپائیڈر مین اور بلیک وڈو سمیت اور کئی سُپر ہیروز شامل تھے، لیکن فلم میں یہ سب طاقت وَر ولن کے سامنے ہار گئے۔ گزشتہ برس ٹاپ ٹین ہالی وُڈ فلمز میں 6فلمیں سُپر ہیروز کی تھیں، جب کہ دُنیا بَھر میں دوسرا نمبر ہالی وُڈ کی فلم ’’بلیک پینتھر ‘‘ کو تھا، جس نے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز سے زیادہ کمائے۔ تیسرے نمبر پر دیو ہیکل اور خطرناک ڈائنو سارز کی ’’جراسک ورلڈ: فالن کنگ ڈم‘‘ آئی، جس نے دُنیا بَھر سے 160ارب روپے کی کمائی کی۔ ٹام کروز نے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی ہٹ فلم 2018ء ہی میں دی، جب ان کی فلم ”مِشن امپاسیبل فال آؤٹ‘‘ نے دُنیا بَھر سے 100ارب روپے کا بزنس کیا۔ یوں یہ گزشتہ برس کی ہالی وُڈ کی ٹاپ6فلم بنی۔دوسری جانب ہالی وُڈ میں سب سے بڑا سرپرائز مشہور برطانوی بینڈ ’’کوئین‘‘ اور اس کے گلوکار’’ فریڈی مرکری‘‘ پر بننے والی فلم"Bohemian Rhapsody" تھی، جس نے دُنیا بَھر سے 80ارب روپے کا بزنس کیا۔یہ گزشتہ سال کی ٹاپ ٹین فلموں میں واحد ہالی وڈ فلم تھی، جس میں نہ سُپر ہیروز تھے، نہ فکشن اور نہ ہی ایکشن۔ اس فلم کو آسکر کی بہت سی نام زدگیوں کے لیے فیورٹ سمجھا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں