آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برسلز: الیکس بارکر، مہرین خان

یورپی یونین کے ایک سفیر نے کہا کہ بحث واقعی تھوڑی غیر حقیقی ہے کہ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے والے ملک کو اب بھی چھوٹ سے نوازا جائے گا، جبکہ یورپی یونین سے وفادار رہنے والے ممالک اس سے محروم ہوں گے اور انہیں ان کی وفاداری کی سزا دی جائے گی۔ 

اگر برطانیہ مارچ میں کسی معاہدے کے بغیر یورپی بلاک سے علیحدہ ہوجاتا ہے تو فرانس اور جرمنی مارگریٹ تھیچر کی اہم یورپی یونین بجٹ کی چھوٹ کے کے مستقبل کے حوالے سے 5 ارب یوروکے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔

اس تنازع سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ کی رعایت ،، جو یورپی یونین کی فارم سبسڈی میں اپنی انتہائی شراکت کو درست کرنے کیلئے 1984 میں دی گئی تھی، جس پر برسلز کو 40 سال سے عداوت ہے،اس کی وجہ سے برطانوی رکنیت تادیر رہ سکتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ آیا بریگزٹ کے بعد بھی برطانیہ کی چھوٹ موجود ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نام نہاد چھوٹ پر چھوٹ، جس کا حوالہ دیا گیا تھا کہ جرمنی، نیدرلینڈز، سویڈن اور آسٹریا کو برطانیہ کا ازالہ کرنے کیلئے کتنی ادائیگی کرنے کی ضرورت تھی۔

نتائج پر منحصر ہے، ہوسکتا ہے کہ اس سال جرمنی کو اضافی 728 ملین یورو حصہ لینے پر مجبور کیا جائے، جبکہ فرانس تقریبا 460 ملین یورو حاصل کرے گا۔

معاہدے کے بغیر ممکنہ قانون پر سخت بحث ابتدائی علامت ہے کہ بریگزٹ سے متعلقہ بجٹ خسارہ یورپی یونین کے بقیہ 27 ممالک کیلئے کتنا باعث تنازع ثابت ہوسکتا ہے۔ بریگزٹ کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والے ایک یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا مضر ہوسکتا ہے، یہ بریگزٹ کے بعد تقسیم کیلئے مثال ہے۔

دوسرے یورپی یونین کے سینئر سفاتکار نے کہا کہ بلاک کی جانب سے کیے گئے تبادلہ خیال میں معاہدے کے بغیر ممکنہ منصوبوں میں برطانیہ کی چھوٹ کا تدارک بلا شبہ سب سے مشکل تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی مضمرات، چند رکن ممالک کو یورپی یونین کے آئندہ 1.25 ٹریلین یورو کیلئے قومی شراکت کے لیے مثال کے حوالے سے فکرمند ہیں، جو 2021 سے 2027 کے عرصے کا احاطہ کرتا ہے۔

یہ اختلاف گشتہ ماہ جاری کی گئی یورپی کمیشن کی تجویز پر ہے، جس کا مقصد بجٹ کے روزن سیاہ سے نپٹنا ہے جو 29 مارچ کو برطانیہ کے کسی معاہدے کے بغیر علیحدہ ہونے سے پیدا ہوگا۔

یورپی کمیشن کا منصوبہ ہے کہ برطانیہ کو یہ فیصلہ کرنے کیلئے تین ہفتے دے کہ بہرصورت یورپی یونین کے 2019 بجٹ میں حصہ لے اور متعلقہ حصہ دے، جو خالص شرائط میں 7.1 ارب یورو کے قریب ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

یہ منصوبہ بالواسطہ طور پر 5ارب یورو کی چھوٹ کے کھاتے میں جاتا ہے جو 2019 میں برطانیہ پر واجب الادا ہے۔

تاہم اہم بات یہ ہے کہ کمیشن کے حساب کتاب میں جرمنی ، ہالینڈ،آسٹریا اور سویڈن کو دی جانے والی چھوٹ کے دوسرے سیٹ کو شامل نہیں کیا گیا، جو یورپی یونین کے بجٹ کے چار بڑے شراکت دار ہیں۔

نتیجے کے طور پر ،یہاں تک کہ برطانیہ کسی معاہدے کے بغری بریگزٹ کی صورت میں برسلز کے مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا اور 2019 میں یورپی یونین کے بجٹ کی مکمل ادائیگی کردے، پھر بھی جرمنی کو اس کی چھوٹ پر چھوٹ ختم ہونے سے اس سال اضافی طورپر 728 ملین یورو ادا کرنے ہوں گے۔

ہالینڈ کے حصہ میں 128 ملین یورو تک اضافہ ہوگا اور آسٹریا اور سویڈن دونوں کو تقریبا 85 ملین یورو ادا کرنے ہوں گے۔

فنانشل ٹائمز کے لگائے گئے اندازے کے مطابق اس کے برعکس فرانس کو فائدہ ہوگا، جس نے چھوٹ کے نظام کی طویل عرصہ مخالفت کی۔ اس کا چھوٹ سےمتعلق حصہ 1.3 ارب یورو سے کم ہوکر محض 835 ملین یورو رہ جائے گا، جبکہ اٹلی کو 350 ملین یورو تک بچت ہوگی۔

یورپی یونین کے ایک سفیر نے کہا کہ بحچ واقعی تھوڑی غیر حقیقی ہے کہ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے والے ملک کو اب بھی چھوٹ سے نوازا جائے گا، جبکہ یورپی یونین سے وفادار رہنے والے ممالک اس سے محروم ہوں گے اور انہیں ان کی وفاداری کی سزا دی جائے گی۔

صورتحال پیدا ہوگی کیونکہ کمیشن کا خیال ہے کہ برطانیہ کی چھوٹ اور اس متعلق دیگر ممالک و رعیات کا نظام معاہدے کے بغیر بریگژت کے بعد لاگو کرنے کیلئے قانونی طور پر ختم کرنا ہوگا۔

یہاں تک کہ، کمیشن نے بجٹ 2019 میں مقرر کردہ مجموعی ادائیگیوں کے لئے برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا، دسمبر میں چھوٹ شامل کرنے کے ساتھ اتفاق کیا ۔

کمیشن نے پہلے ہی یورپی یونین کے آئندہ طویل المدتی بجٹ میں تمام چھوٹ کو ختم کرنے کی تجوزی دی ہے، لہذٰا شراکت ملک کی معیشت کے نسبتا حجم کو بہتر ظاہر کرتی ہے۔

چھوٹ حاصل کرنے والے ممالک کو خوف ہے کہ بریگزٹ کے ممکنہ منصوبوں پر بنیاد فراہم کرنا ان کیلئے طویل عرصے تک ان کی رعایتوں کو بچانے کو بہت زیادہ مشکل بناسکتا ہے۔

بریگزٹ کے کچھ حامی اس خیال کے ابھی بھی منکر ہیں کہ برطانیہ مکمل طور پر جب وہ بلاک کو کسی معاہدے کے بغیر نکلنے یا منتقلی کے چھوڑ دیتا ہے تو یورپی یونین کی مالی مدد کرے۔

ٹوری جماعت کے بریگزٹ کے حامی جیکب ریز موگ نے کہا ہے کہ برطانیہ پر ادائیگی کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ تاہم انہوں نے اور دیگر بریگزٹ کے حامیوں نے یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی کی رعایتوں کے بدلے میں چھوٹی شراکت کی تجویز دی ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں