آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھ سمیت سنگا پور اور جاپان کا چار رکنی وفد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لئے پوری طرح تیار تھا، جن سے تین بجے ہماری ملاقات طے تھی لیکن ہمیں انتظار تھا میانوالی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی، معروف سیاستدان ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی مرحوم کے صاحبزادے اور عمران خان کے قریبی دوست امجد خان نیازی کا، جن کی قیادت میں ہم نے وزیراعظم سے ملاقات کرنا تھی۔ ہمارے سنگاپور اور جاپان کے دوست پریشان تھے کہ پرائم منسٹر سے ملاقات کے لئے ماضی میں دو گھنٹے قبل وزیراعظم ہائوس میں ہونا لازمی ہوتا تھا جبکہ اس وقت سوا دو بج گئے تھے اور ہم ابھی ہوٹل میں ہی تھے۔ شاید نئے پاکستان میں اتنی تبدیلی آگئی تھی کہ وزیراعظم ہائوس کے معاملات تبدیل ہو چکے تھے، باوجود اس کے کہ اس تبدیلی کا اثر نیچے وزارتوں تک آنا باقی ہے لیکن شکر کہیں سے تو ابتدا ہوئی۔ ٹھیک سوا دو بجے امجد خان نیازی کی کال آئی کہ عرفان بھائی مہمانوں کے ساتھ باہر لابی میں پہنچیں، اگلے پانچ منٹ میں ہم گاڑی میں تھے اور سیدھا پرائم منسٹر سیکرٹریٹ پہنچ گئے، جہاں سیکرٹریٹ کی رونقیں سادگی کلچر میں تبدیل ہو گئی تھیں، پرائم منسٹر آفس کے مرکزی دروازے پر گاڑی سے اترے، نہ کوئی پروٹوکول اور نہ ہی کوئی جاہ وجلال نظر آیا، دروازے سے اندر داخل ہوئے تو اسکینر سے گزارا

گیا، جس کے بعد لفٹ کے ذریعے تیسری منزل پر وزیراعظم کے فلور پر پہنچے، یہاں بھی ماضی کی طرح ملازموں کی فوج غائب ہو چکی تھی، صرف چند سیکورٹی اور پروٹوکول کے حکام موجود تھے۔ مہمانوں کی انتظار گاہ میں پہنچے، جہاں توقع کے برخلا ف معیاری چائے اور لذیذ بسکٹوں سے تواضع کی گئی، ہمارے ساتھ آئے مہمانوں نے اسے خوبصورت سرپرائز قرار دیا کیونکہ خبروں کے مطابق اب وزیراعظم ہائوس میں چائے اور بسکٹوں پر بھی پابندی عائد ہو چکی تھی۔ دس منٹ بعد امجد خان نیازی اور وزیراعظم کے اے ڈی سی نے پرائم منسٹر کے کمرے میں آنے کی دعوت دی، جس کے بعد سنگاپور کی شپنگ انڈسٹری کی معروف شخصیت عبدالطیف صدیقی، طارق صدیقی، بورڈ آف انوسٹمنٹ اور جاپانی سرمایہ کاری کے ماہر سید فیروز شاہ اور راقم امجد نیازی کی سربراہی میں وزیراعظم کے کمرے میں داخل ہوئے، جہاں عمران خان نے تمام مہمانوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا۔ عبدالطیف صدیقی نے ڈیم فنڈ کے قیام کی تعریف کرتے ہوئے عمران خان کو ایک لاکھ ڈالر کا فنڈ پیش کیا اور رقم ٹرانسفر کے لئے بھی عمران خان سے درخواست کی، عمران خان نے لیپ ٹاپ کے ذریعے بٹن دبا کر ایک لاکھ ڈالر سنگاپور سے ڈیم فنڈ میں براہ راست ٹرانسفر کئے جس کے بعد، عبدالطیف صدیقی نے شپنگ سیکٹر میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ وزیراعظم کو پیش کیا، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان کے قومی ادارے نیشنل شپنگ کارپوریشن کے پاس صرف دس جہاز ہیں اور یہ ادارہ پاکستان کی مجموعی تجارت کا صرف پانچ فیصد اپنے جہازوں سے ہینڈل کر پاتا ہے، جس کے باعث پاکستان کو سالانہ چار ارب ڈالر غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو ادا کرنا پڑتے ہیں لہٰذا ان کی کمپنی گلوبل ریڈائنس پاکستان میں پہلے مرحلے میں دس بڑے بحری تجارتی جہازوں کے ذریعے سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ جس سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی، غیر ملکی ادائیگی کے بجائے روپوں میں ادائیگی کے سبب زرمبادلہ پر دبائو میں کمی آئے گی جبکہ سی پیک کے بعد پاکستان کو ویسے بھی شپنگ سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، عمران خان نے منصوبہ غور سے سننے کے اس کی نہ صرف تعریف کی بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ پہلے کہاں تھے، ہم تو ایسی سرمایہ کاری کی تلاش میں تھے۔ آپ فوری طور پر وزیر جہاز رانی علی زیدی سے ملاقات کریں اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں اور بتائیں کہ ہمیں کرنا کیا ہو گا۔ جس پر گلوبل ریڈائنس کے کارپوریٹ ہیڈ طارق صدیقی نے کہا کہ ہمیں صرف حکومت پاکستان سے یہ گارنٹی چاہئے کہ ہماری موجودگی میں حکومت تجارت غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے کرنے سے گریز کرے گی جس پر وزیراعظم نے اصولی اتفاق بھی کیا۔ اس منصوبے کے بعد وزیراعظم کو لائیواسٹاک کے شعبے میں بھی دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا گیا، جس میں ابتدائی طور پر آسٹریلیا کے سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر پچاس لاکھ بھیڑوں اور ایک لاکھ گائیوں کی افزائش نسل پاکستان میں کی جائے گی۔ جس کی عمران خان نے حوصلہ افزائی کی۔ میں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ اگلے دو دن تک یہ سرمایہ کار اسلام آباد میں ہیں۔ ان کی ملاقات وزیر جہاز رانی علی زیدی سے کرانے کے احکامات جاری کردیں، جس پر عمران خان نے اپنے اسٹاف کو احکامات بھی دیئے، یہ خوشگوار ملاقات چالیس منٹ جاری رہی اور یہ یقین مزید پختہ ہوا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ملک کے حالات ضرور تبدیل ہوں گے، واپس آنے کے بعد انتظار کا دور شروع ہوا کہ شاید اب علی زیدی سے رابطہ ہوگا تا کہ تفصیلات طے ہو سکیں اور پھر تین تاریخ چار میں بدلی اور چار تاریخ پانچ میں بدلی اور پانچ تاریخ کو سنگاپور والے مایوس ہوکر واپس روانہ ہو گئے اور جاپان والے جاپان لیکن علی زیدی سے ملاقات نہ ہو سکی، ملک میں وزیراعظم سے ملنا آسان لیکن علی زیدی سے صرف ٹاک شوز میں ہی عوام کی ملاقات ہوتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں