آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’اورماڑہ واقعے میں ملوث دہشتگرد ایرانی علاقے میں ہیں‘‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے واقعے پر کہا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ اطلاع ہے کہ اس واقعے میں ملوث دہشت گرد ایرانی علاقے میں ہیں اور ملوث بلوچ گروہ کو ایران کی سر زمین سے مدد فراہم کی گئی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ ایران سے قبل 20 کے قریب دہشت گردوں نے پاکستان کی سر زمین پرحملہ کیا، 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی، واقعے میں پاکستان نیوی کے 10، پاک فضائیہ کے 3 اور کوسٹ گارڈ کا ایک ملازم شہید کیا گیا، پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا، سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کا ایک اتحاد سامنے آ چکا ہے اور بلوچ تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اورماڑہ میں 14 افراد کا قتل، پاکستان کا ایران سے شدید احتجاج

پاکستان نے اورماڑہ میں شہید ہونے والے 14 افراد کے...

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے الزام تراشی کے لیے بھارت کی طرح جلد بازی نہیں کی، ہم نے مصدقہ اطلاعات کا انتظار کیا، ایک گروپ بی آر اے نے اس سانحے کی ذمے داری قبول کی ہے، مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ بلوچ دہشت گرد تنظیم کی کارروائی ہے، بی آر اے کے ٹریننگ کیمپ اور لاجسٹکس کیمپ ایران کی سرحد کے پار واقع ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرےپاس مصدقہ اطلاع ہے کہ بلوچستان واقعے میں ملوث دہشت گرد ایرانی علاقے میں ہیں، واقعے میں ملوث بلوچ گروہ کو ایران کی سر زمین سے مدد فراہم کی گئی، ایران کو دہشت گردوں کے کیمپ کی نشاندہی کی گئی ہے، ایران کو قابل ایکشن شواہد اور ٹھکانوں کی اطلاعات بھی فراہم کر دی ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ ایران ان تنظمیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان کے واقعے پر ایرانی وزیر خارجہ سے تفصیلی بات کی ہے اور انہیں پاکستانی قوم کےغم و غصے سے بھی آگاہ کیا ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے واقعے کی تحقیقات اور کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاک ایران سرحد کو پُرامن بنانے کے لیے پاکستان نے 6 اقدامات کیے ہیں، جس کے تحت نئی سدرن کمانڈ کی تشکیل، نئی فرنٹیئر کور کا قیام، مشترکہ بارڈر سینٹر بنانے، سرحد پر باڑ لگانے اور ہیلی سرویلنس کا فیصلہ کیا گيا ہے، ساڑھے نو سو کلومیٹر کی پوری سرحد پر باڑھ لگائی جائے گی اور اس کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

قومی خبریں سے مزید