آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بااختیار نہیں رہا، تو وزارتِ اعلیٰ چھوڑدوں گا

انٹرویو:ارشد عزیز ملک، گلزار محمد خان

رپورٹ:سلطان صدیقی…عکّاسی: فیاض عزیز

وزیرِ اعلیٰ، خیبر پختون خوا، محمود خان کا تعلق ایشیا کے سوئٹرز لینڈ، سوات کی تحصیل، مٹّہ سے ہے۔ 31اکتوبر1972ء کو پیدا ہوئے۔ چوتھی جماعت تک مقامی اسکول میں زیرِ تعلیم رہے، پھر’’ پشاور پبلک اسکول، ورسک روڈ‘‘ میں داخلہ لیا اور وہیں سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم پائی۔ اسلامیہ کالج، پشاور سے گریجویشن ، جب کہ زرعی یونی ورسٹی، پشاور سے بی ایس سی آنرز اور ایم ایس سی کیا۔ 2000ء کے بلدیاتی انتخابات میں حصّہ لے کر سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔پھر 2005ء کے بلدیاتی انتخابات میں بھی کام یابی حاصل کی اور تحصیل ناظم بنے۔ 2010ء میں پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر خیبر پختون خوا اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور وزیر بنائے گئے۔ سیّاحت، کھیل اور دیگر محکموں کے قلم دان اُن کے حوالے کیے گئے، جب کہ پی ٹی آئی مالاکنڈ ریجن کے صدر بھی رہے۔ 2018ء کے انتخابات میں نہ صرف اپنے حلقے سے کام یابی حاصل کی، بلکہ ریجنل صدر کی حیثیت سے ان کی قیادت میں مالاکنڈ ریجن میں تحریکِ انصاف نے کلین سوئپ کیا۔ حکومت سازی کے وقت پارٹی قیادت نے اُنہیں وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے نام زَد کیا اور یوں صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے ذمّے داریاں انجام دے رہے ہیں۔ فاٹا انضمام کے بعد وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے لیے گورنر خیبر پختون خوا کی چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت ختم ہوگئی، یوں محمود خان سابقہ فاٹا کے آئینی لحاظ سے پہلے وزیرِ اعلیٰ بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ ہائوس، پشاور میں اُن کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کا احوال’’ جنگ ،سنڈے میگزین‘‘ کے قارئین کی نذر ہے۔

بااختیار نہیں رہا، تو وزارتِ اعلیٰ چھوڑدوں گا
جنگ پینل سے بات چیت کرتے ہوئے

س: گورنر سے اختلافات کی افواہیں، تو کبھی وزرا کی ناراضی کی خبریں، وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ کتنے بااختیار ہیں؟

ج: دیکھیں جی! گورنر خیبر پختون خوا، شاہ فرمان کے ساتھ میرے اختلافات ہیں اور نہ ہی مجھ سے کوئی وزیر ناراض ہے۔ معلوم نہیں، میڈیا والے یہ خبریں کہاں سے نکال لاتے ہیں۔ مَیں سو فی صد بااختیار وزیرِ اعلیٰ ہوں اور جس دن مجھے محسوس ہوا کہ بااختیار نہیں رہا، تو وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کروں گا۔

س: کیا آپ مداخلت پر واقعی وزارتِ اعلیٰ چھوڑ دیں گے ؟

ج: بالکل! بعض لوگ مداری بنے ہوئے ہیں، کبھی کہتے ہیں’’ وزیرِ اعلیٰ تبدیل ہورہا ہے،‘‘ تو کبھی تین ماہ میں نئے وزیرِ اعلیٰ کی نوید سُناتے ہیں، اُنہیں کاؤنٹر کرنے کے لیے مَیں نے کہا تھا کہ’’ کوئی مجھے نہیں ہٹا سکتا، البتہ جب دِل بَھر جائے گا، تو خود ہی چلا جائوں گا۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزارتِ اعلیٰ بہت ٹف جاب ہے۔ جب وزیرِ اعلیٰ بنا، تو اُس وقت ذہنی طور پر اِس عُہدے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ذہن بنانے اور معاملات سمجھنے میں وقت تو لگتا ہے۔

س: صوبائی حکومت کی 9ماہ کی کارکردگی کیسے رہی؟تبدیلی کے ایجنڈے پر کس حد تک کام ہوسکا؟

ج: میری ایک اہم اور بڑی ذمّے داری صوبے میں ضم ہونے والے نئے قبائلی اضلاع کے حوالے سے بھی ہے۔ یہ ایک نیا سسٹم ہے، وہاں ترقّیاتی کاموں سمیت بہت کچھ کرنا ہے۔اللہ کا شُکر ہے کہ ان اضلاع کے امور اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور تمام معاملات قبائلی زعما کو اعتماد میں لے کر سلجھائے جارہے ہیں۔علاوہ ازیں، ان قبائلی اضلاع میں انتخابات کی بھی تیاری کی جا رہی ہے اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی منظوری دی جا چُکی ہے۔ دوسری طرف، صوبے کی مالی حالت بھی بہتر بنانی ہے، کیوں کہ اِس وقت مالی طور پر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نیز، گزشتہ حکومت کی اصلاحات کو آگے لے کر جانا ہے۔ پھر یہ بھی کہ ہمیں صوبے میں دوسری بار حکومت کا موقع ملا ہے، تو سابقہ دَور میں شروع کردہ منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانا بھی ہماری ہی ذمّے داری ہے۔ مَیں گزشتہ حکومت میں وزیر کی حیثیت سے شامل تھا، مگر اب وزیرِ اعلیٰ کی ذمّے داریاں نبھا رہا ہوں، دونوں میں بہت فرق ہے ۔

س: سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبے میں ایک احتساب کمیشن بنایا تھا، اُسے کیوں ختم کر دیا گیا؟

ج: ہم چاہتے تھے کہ صوبے میں احتساب ہو اور اب بھی یہی خواہش ہے۔ چوں کہ نیب وفاقی حکومت کے تحت تھا اور صوبے میں ہماری یعنی اپوزیشن کی حکومت تھی، تو ہم نے احتساب کمیشن بنایا، لیکن جب دیکھا کہ اُس کی کارکردگی تسلّی بخش نہیں، تو محکمہ اینٹی کرپشن کو مضبوط بنانے کا سوچا گیا۔ اس دَوران نیب کی کارکردگی بہتر اور متاثر کُن ہوئی، تو پھر احتساب کمیشن کی ضرورت ہی نہیں رہی، لہٰذا اُسے ختم کردیا گیا۔ البتہ، جہاں تک احتساب کمیشن کے ملازمین کا تعلق ہے، اُنہیں محکمہ اینٹی کرپشن میں کھپانا چاہتے ہیں۔

س: نیب نے آپ کو کیوں طلب کیا تھا؟

ج: گزشتہ دَور میں چھے، سات ماہ سّیاحت کا قلم دان میرے پاس رہا اور اُن دنوں ایک میٹنگ کے دَوران سیّاحتی مقام، مالم جبّہ کو آسٹریلین گورنمنٹ کو لیز پر دینے کی تجویز سامنے آئی، چوں کہ یہ صوبے کے لیے بڑی انویسٹمنٹ تھی، لہٰذا مَیں نے اس تجویز کی حمایت کی۔ اس کے بعد مَیں اس وزارت سے الگ ہوگیا۔ بعدازاں، محکمے نے اس حوالے سے باقاعدہ اشتہارات دیے اور اس سارے معاملے میں کسی قسم کی بدعنوانی یا بے قاعدگی نہیں تھی، البتہ لیز میں کوئی مسئلہ تھا۔ مَیں نے نیب کو بتایا کہ میرا اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں، البتہ میٹنگ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی بات ضرور کی تھی۔

س: بی آر ٹی منصوبے پر بہت اعتراضات کیے جا رہے ہیں، اس کا باقاعدہ افتتاح کب تک متوقّع ہے؟

ج: بی آر ٹی منصوبہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے شروع کیا اور ہم اسے اون بھی کرتے ہیں۔ اس کا مقصد عوام کو بہترین سفری سہولتیں مہیا کرنا ہے۔ یہ عوامی فلاح بہبود کا ایک بڑا منصوبہ ہے، جسے ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔ اگر اس منصوبے سے تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے، تو اُن کی شکایات کا ازالہ کریں گے۔ نیز، اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پشاور کی ترقّی کے لیے دیگر منصوبے بھی شروع کریں گے، کیوں کہ پشاور صوبائی دارالحکومت ہے اور اس کی ترقّی، پورے صوبے کی ترقّی ہے۔ اس حوالے سے ماسٹر پلان بنایا جا رہا ہے، جس میں تعلیم، صحت، نکاسیٔ آب، صفائی، آب نوشی، بیوٹی فِکیشن، ٹریفک اور سڑکوں سمیت ہر شعبے کی بہتری کے منصوبے شامل ہوں گے۔باقی صرف بی آر ٹی نہیں، اپوزیشن جس منصوبے میں بھی کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے، وہ ثبوت لے کر آئیں، ہم غیر جانب دارانہ انکوائری کریں گے اور اگر اُن کے الزامات درست نکلے، تو ذمّے دار افراد کو سزا بھی دیں گے۔ ہم کرپشن کے خلاف ہیں اور کہیں بھی کرپشن برداشت نہیں کر سکتے، اس حوالے سے ہماری زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نئے ڈائریکٹر جنرل نے ذمّے داریاں سنبھال لی ہیں، اُن کے ساتھ بیٹھ کر بات کروں گا کہ بی آر ٹی منصوبہ کب تک مکمل اور کب شروع ہوگا۔

س: سوات موٹر وے کب شروع ہوگی؟

ج: سوات موٹر وے تقریباً مکمل ہے۔ دراصل، پلئی کے اس جانب پہاڑوں کی کٹائی کا مسئلہ ہے، چناں چہ اب ایف ڈبلیو او کو مزید دو سرنگیں بنانی ہیں، جن کی لاگت اُن ہی کے ذمّے ہے، حکومت پر کوئی بوجھ نہیں آئے گا۔ ویسے تو موٹر وے جون تک کھلنی تھی، مگر اب ان دو ٹنلز کی تکمیل ہی پر کُھلے گی، تاہم اس کا متبادل دیا جا رہا ہے اور اسے چھوٹی گاڑیوں کے لیے مئی سے کھول دیا جائے گا۔

س: کیا پشاور رِنگ روڈ کا باقی حصّہ بھی مکمل کیا جائے گا؟

ج: مَیں بتا چُکا ہوں کہ ہم پشاو کے لیے ماسٹر پلان بنارہے ہیں، جس میں رِنگ روڈ، انڈر پاسز، پارکس، تعلیم، صحت سمیت تمام شعبے شامل ہیں، اس کے لیے جلد کنسلٹنٹس ہائر کریں گے اور عالمی معیار کی پلاننگ ہوگی۔

س: سیّاحت کے فروغ کے لیے سڑکوں کی تعمیر ضروری ہے، مگر ابھی تک کالام روڈ بحال نہ ہوسکا۔

ج: جی ایسا ہی ہے۔ سڑکیں بنیں گی، تو علاقے سیّاحت کے لیے کُھلیں گے۔ کالام روڈ رواں برس کے آخر تک مکمل ہوجائے گا، جب کہ مالم جبّہ روڈ پر بھی کام شروع ہو رہا ہے۔ دراصل، برف باری والے علاقوں میں سارا سال کام تو ہو نہیں سکتا، موسم ٹھیک ہو، تو چھے ماہ میں سڑکوں کا تعمیراتی کام مکمل ہو جائے، کیوں کہ فنڈز موجود ہیں، صرف موسم ساز گار ہونے کا انتظار ہے۔ ہم کالام سے کمراٹ تک بھی روڈ بنائیں گے۔ نیز، محکمۂ سیّاحت نے کئی نئی جگہوں کی نشان دہی کی ہے، جہاں تک سڑک بنانے کے لیے سروے ہو رہے ہیں۔

س: بلین ٹری منصوبے میں مبیّنہ کرپشن پر پارلیمانی کمیٹی بنی، نیب بھی کارروائی کررہا ہے، کیا کہیں گے؟

ج: بعض اوقات ترقّیاتی منصوبوں میں کچھ غلطیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ بلاشبہ بلین ٹری ایک بہت بڑا پراجیکٹ تھا، اگر کہیں کرپشن ہوئی ہے، تو ہم انکوائری کے لیے بھی تیار ہیں اور کرپشن ثابت ہونے پر تادیبی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی بھی اسی لیے بنائی ہے کہ اگر کہیں کرپشن ہے، تو سامنے آجائے۔ ہم تو کرپشن کے خلاف ہیں، یہاں تک کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے حوالے سے انکوائری رپورٹ آئی، تو ہم نے خود اس معاملے کو نیب کے حوالے کر دیا۔ البتہ، مَیں جنگلات پر مشتمل علاقوں سے تعلق رکھتا ہوں، وہاں تو بلین ٹری منصوبے کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں، جو سب کے سامنے بھی ہیں۔

س: حالیہ بدامنی کے واقعات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔

ج: بعض قوّتیں فاٹا کے حوالے سے خیبر پختون خوا میں حالات خراب کرنا چاہتی ہیں، مگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں کام یاب نہیں ہوں گی۔افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگنے سے کافی بہتری آئی ہے۔ نیز، سوات میں سیکیوریٹی فورسز نے نظم و نسق مقامی انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے، جو صُورتِ حال میں بہتری کی علامت ہے اور آنے والے دِنوں میں حالات مزید بہتری کی جانب جائیں گے۔

س: کیا قبائلی اضلاع کو این ایف سی سے 3 فی صد مل پائے گا؟

ج: اس حوالے سے دو، تین میٹنگز ہو چُکی ہیں۔ دو صوبے، خیبر پختون خوا اور پنجاب تو قبائلی اضلاع کو حصّہ دینے پر مکمل طور پر راضی ہیں، وفاقی حکومت نے بھی بھرپور حمایت کی ہے، جب کہ سندھ اور بلوچستان نے بھی انکار نہیں کیا ہے، اس لیے امید ہے معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔

س: لیویز اور خاصہ دار کو محکمۂ پولیس میں شامل کیا گیا ہے، مگر اُن کی اس حوالے سے کوئی تربیت ہے نہ تعلیم؟

ج: ہم لیویز اور خاصہ دار کو پولیس کی تربیت دیں گے۔مَیں تو خود سوات میں اس قسم کے حالات کے متاثرین میں سے ہوں۔ جس طرح سوات میں کمیونٹی پولیس نے سخت ترین حالات کا مقابلہ کیا، اسی طرح لیویز اور خاصہ داروں نے بھی پندرہ سالوں کے سخت ترین دَور میں خدمات انجام دی ہیں۔ اس لیے میری پوری کوشش ہوگی کہ لیویز اور خاصہ دار ریگولر ہوں اور پولیس فورس کا باقاعدہ حصّہ بنیں۔

س: اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیے؟بھائی کیا کرتے ہیں؟ کتنے بچّے ہیں؟

ج:ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔بڑا بھائی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ چھوٹا بھائی، مٹّہ کا تحصیل ناظم ہے۔ بہنیں شادی شدہ ہیں اور اپنے گھروں میں خوش ہیں۔میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ تینوں ابھی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔

س: شادی لَو میرج ہے یا والدین کی مرضی سے کی؟

ج: ہم گائوں کے لوگ ہیں، بیٹے جب جوان ہوجاتے ہیں، تو والدین خود اُن کے لیے رشتے ڈھونڈتے ہیں۔2002ء میں والدین کی مرضی اور پسند سے شادی ہوئی، اہلیہ کا تعلق خاندان سے نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہم پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

س: کبھی گھر میں جھگڑا تو ہوجاتا ہوگا؟

ج: ہم دونوں میں بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔شادی کو لگ بھگ سولہ سال ہو چُکے ہیں اور اس دَوران کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ بیوی ہائوس وائف ہیں۔

س: شاپنگ خود کرتے ہیں یا بیوی؟

ج: مَیں اپنی شاپنگ خود کرتا ہوں اور بیوی اپنی۔ اپنے لیے کپڑےخود پسند کرتا ہوں۔میرا پشاور کے علاقے، صدر میں ایک مخصوص ٹیلر ہے، اب مصروفیات کے باعث وہاں نہیں جا پاتا، تو اُسے فون کردیتا ہوں، وہ کپڑے اور واسکٹ وغیرہ تیار کر کے لے آتا ہے۔ اُسے میری پسند، ناپسند کا علم ہے، اس لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

س: کون سا رنگ، پھول اور موسم پسند ہے ؟

ج: وائٹ کلر اچھا لگتا ہے، سُرخ گلاب بہت پسند ہیں اور سردیوں میں خود کو بہتر محسوس کرتا ہوں۔ سردیاں شکار کے لیے اچھی ہوتی ہیں اور مَیں شکاری ہوں۔

س: عشق تو کیا ہوگا؟

ج: (ہنستے ہوئے) کبھی عشق کے چکر میں نہیں پڑا۔ بچپن میں تعلیم کے لیے پشاور آیا، اسلامیہ کالج میں بھی مخلوط تعلیم نہیں تھی، چناں چہ زرعی یونی ورسٹی میں بھی یہی عادت رہی۔ البتہ، اپنے والدین، اہلیہ اور بچّوں سے محبّت ہے۔ اپنے بہن بھائیوں اور رشتے داروں سے بھی محبّت ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے حلقے کے عوام سے محبّت کرتا ہوں۔

س: کھانے میں کیا پسند ہے؟ اور کیا خود بھی کوکنگ کر لیتے ہیں؟

ج: مجھے مقامی ڈش’’ورژلے‘‘ بہت مرغوب ہے، بعض لوگ اسے’’چوکان‘‘بھی کہتے ہیں۔ چاول میں مختلف اقسام کے ساگ کاٹ کر پکائے جاتے ہیں۔ ہم سوات کے مقامی موٹے چاول اس میں ڈال کر پکاتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ مکھن یا دیسی گھی کا استعمال کرتے ہیں۔نیز،خود بھی کئی ڈشز بنا لیتا ہوں۔ خصوصاً کڑاہی شوق سے بناتا ہوں اور بڑی زبردست بناتا ہوں۔ پکنک یا شکار کے لیے جاتا ہوں، تو خود کھانا پکاتا ہوں۔

س: آپ سفر تو بہت کرتے ہیں، کون سی جگہ پسند ہے؟

ج: مجھے دو جگہوں سے محبّت ہے، ایک اپنا علاقہ، مٹّہ اور دوسرا پشاور۔ سوات میری جائے پیدائش اور آبائی علاقہ ہے، جب کہ پشاور میں بچپن گزارا ہے۔ ایک تو ہمارا علاقہ سیّاحت کے لیے مشہور ہے، پھر مجھے شکار کا بہت شوق ہے، تو اس کے لیے جنگلات کا ہونا ضروری ہے، جو ہمارے علاقے میں موجود ہیں۔

س: فلم، ڈرامے وغیرہ تو دیکھتے ہوں گے؟کون سی فلمز اور اداکار اچھے لگتے ہیں؟

ج: بچپن ہی میں پشاور آکر اسکول میں داخل ہو گیا تھا، اُس وقت مہینے کے آخری ہفتے میں چُھٹّی ملتی تھی، قریب کے طلبہ تو اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے، ہم دُور کے تھے، تو ہمیں دو ماہ بعد گائوں جانے کا موقع ملتا تھا، چناں چہ ہمیں ویک اینڈ پر سینئرز کے ساتھ گروپ کی صُورت میں ہاسٹل سے باہر جانے کی اجازت ہوتی تھی۔چوں کہ اُن دنوں حالات اچھے تھے، تو کبھی سینما روڈ چلے جاتے، کبھی صدر کے کسی سینما میں فلم دیکھ لیتے تھے۔مجھے انگریزی فلمز پسند تھیں اور اُن میں بھی زیادہ تر ایکشن فلمز دیکھتا تھا۔چوں کہ ایکشن فلمز میں رومانس نہیں ہوتا، اس لیے نہیں کہہ سکتا کہ کون سا اداکار پسند ہے، تاہم ریمبو اور آرنلڈ کی فلمز پسند ہیں۔

س: موسیقی سُنتے ہیں؟

ج: ابھی تو نہیں، پہلے سُنتا تھا۔ غنی خان کی شاعری پسند ہے، اس لیے پشتو موسیقی ہی سُنتا تھا یا پھر وہ شاعری، جس میں کوئی پیغام ہو۔ زمانہ طالبِ علمی میں سردار علی ٹکر کی آواز میں سُنتا تھا، بعدازاں ہارون بادشاہ کی آواز میں’’دا سیند دا سپینو شگو نہ مے جوڑ کڑو یو محل‘‘ سُنتا ہوں۔

س: کیا سوات آپریشن کے وقت آپ اپنے علاقے ہی میں موجود رہے؟

ج: جی ہاں! حالات واقعی سخت ترین تھے، مگر مَیں اپنے علاقے ہی میں موجود رہا۔ بلکہ مَیں پورے سوات کا واحد تحصیل ناظم تھا، جو بدترین حالات میں بھی عوام کے درمیان رہ کر اُن کی خدمت کرتا رہا، شاید یہی وجہ ہے کہ عوام نے مجھے انتخابات میں کام یاب کروایا۔

س: سُنا ہے آپ صبح جلد اٹھنے کے عادی ہیں؟

ج: ہاں ایسا ہی ہے۔ شروع سے صبح سویرے اٹھنے کی عادت ہے۔ نمازِ فجر پڑھ کرقرآنِ پاک کی تلاوت کرتا ہوں، پھر کچھ ورزش کرلیتا ہوں۔ علاقے میں ہونے کی صورت میں صبح ہی اپنے حجرے میں جا کر لوگوں کی خدمت کے لیے بیٹھ جاتا ہوں۔ مجھے اپنے لوگوں میں بیٹھ کر اور اُن کے کام کر کے بے حد خوشی ہوتی ہے۔

س: رات کو بھی جلد سوتے ہیں؟

ج: پہلے رات 9بجے سو جاتا تھا، مگر اب کام کی وجہ سے گیارہ بج جاتے ہیں۔

س: سیاسی مصروفیات کی وجہ سے بیوی بچّے تو نظر انداز ہوتے ہوں گے، کیا وہ شکایت کرتے ہیں؟

ج: اِن کاموں میں یہ تو ہوتا ہے۔ پچھلی حکومت میں کسی نے مجھ سے پوچھا کہ’’ بڑا بیٹا کس کلاس میں ہے؟‘‘ تو میرا جواب تھا’’ پتا نہیں، پوچھ کر بتاؤں گا۔‘‘ تاہم، اب بچّوں کو کچھ وقت دیتا ہوں، اکثر رات دس، گیارہ بجے کے درمیان کا وقت اُن کے ساتھ گزارتا ہوں۔ کبھی آدھا، پون گھنٹہ اُن کے ساتھ گھر ہی میں فُٹ بال بھی کھیل لیتا ہوں۔

س: بچّوں اور بیگم صاحبہ کو آپ کی کون سی بات اچھی اور کون سی بُری لگتی ہے؟

ج: اُن سے پوچھ کر بتادوں گا۔(قہقہہ)ویسے ابھی تک کوئی ایسا گِلہ اُن کی طرف سے نہیں ہوا ہے۔

س: دولت، عزّت، شہرت میں سے کیا پسند کریں گے؟

ج: مجھ جیسے عام آدمی پر اللہ تعالیٰ کی بہت مہربانی ہے، میرے پاس تو شُکرانے کے لیے الفاظ تک نہیں۔ میرے دادا کی بڑی جائیداد تھی، زمینیں اور باغات تھے، پھر میرے والد نے بھی اچھی قسمت پائی،اُن کے پاس بھی بہت کچھ تھا، اب مَیں ہوں اور میری قسمت ہے، بچّوں کا پتا نہیں کہ اُن کے نصیب میں کیا ہوگا۔ اگر دیکھا جائے، تو باپ، دادا سے دولت، جائیداد بہت ملی ، اللہ نے شہرت بھی بہت دی ہے، اب یہی چاہتا ہوں کہ بچّوں کو عزّت کے ساتھ صرف حلال کی روٹی مل جائے۔

س: بچّے مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں؟

ج: بڑا بیٹا جی ٹی میں ہے، اُس کی اپنی مرضی ہے، چوں کہ میرے والد، یعنی اُن کے دادا ڈاکٹر تھے، تو وہ کہتا ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے گا، جب کہ چھوٹا بیٹا، سیاست میں آنے کا شوقین ہے، وہ وزیرِ اعلیٰ بننا چاہتا ہے۔

س: اسکول، کالج کے دوستوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے؟

ج: جی ہاں! بہت سے دوست ہیں،جن سے کچھ نہ کچھ رابطہ بھی ہے، مگر ملاقاتیں کم ہی ہوتی ہیں۔ پشاور پبلک اسکول کے دَور کے دوست کبھی کسی میٹنگ میں مل جاتے ہیں۔ بعض تو پہچانے جاتے ہیں، جب کہ بعض کے چہروں کا لُک خاصا بدلا ہوتا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ ہم فلاں کلاس میں ساتھ تھے۔ اس طرح اسلامیہ کالج میں ہم چار، پانچ لڑکوں کا گروپ تھا، اُن سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ بہت سارے دوست تو پروفیسر بن چُکے ہیں۔

س: غصّہ کس بات پر آتا ہے؟

ج: اب نہیں آتا، خاموش بیٹھ کر گزارہ کر لیتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ غصّہ کنٹرول کروں۔

س: لباس میں کیا پسند ہے؟

ج: شلوار، قمیص اور واسکٹ۔

س: گزشتہ دنوں انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے خاصا ہنگامہ ہوا، آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: پولیو کی روک تھام کے لیے پلائے جانے والے قطرے بالکل محفوظ ہیں اور اُن سے بچّوں کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ دوا ’’عالمی ادارۂ صحت‘‘سے تصدیق شدہ ہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کو پولیو ویکسین یہی ادارہ فراہم کرتا ہے، جو انڈونیشیا کی ایک فارماسوٹیکل کمپنی بناتی ہے۔ چند عناصر اس کے خلاف بلاجواز منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں، حالاں کہ طبّی ماہرین سمیت ممتاز علمائے کرام بھی اُن کے خدشات مسترد کر چُکے ہیں۔درحقیقت منفی پروپیگنڈا کرنے والے مُلک دشمن ہیں اور اُن کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ پشاور کے جس واقعے کی جانب آپ نے اشارہ کیا ہے، اُس میں بھی بچّوں کے میڈیکل ٹیسٹس سے ثابت ہوا کہ وہ محض ایک افواہ تھی اور بعض افراد نے جان بوجھ کر ڈراما رچایا تھا۔ ہم پولیو کے خلاف ایک عرصے سے لڑ رہے ہیں اور اس کے خاتمے تک لڑتے رہیں گے۔ لہٰذا،والدین بھی افواہوں پر کان نہ دھریں اور انسدادِ پولیو مہم میں شامل سماجی کارکنان سے تعاون کر کے اپنی قومی ذمّے داری نبھائیں۔

س: صوبے میں شمسی توانائی کے کئی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، کیا پیش رفت ہوئی؟

ج: اس منصوبے پر پوری سنجیدگی اور تیزی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ رواں برس صوبے کی 4440 مساجد کو شمسی توانائی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ نیز، آٹھ ہزار اسکولز اور 187 بنیادی ہیلتھ یونٹس میں بھی شمسی توانائی کا نظام لایا جا رہا ہے۔ ضلع چترال میں 2015 ء کے سیلاب میں چار میگا واٹ کا’’ ریشون بجلی گھر‘‘ تباہ ہوگیا تھا، جس کے بعد صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر241ملین روپے کی لاگت سے 2750 گھرانوں کو شمسی توانائی سے منسلک کیا۔ علاوہ ازیں،100 دیہات کو شمسی توانائی سے منسلک کرنے کے منصوبے کے تحت وسطی اور جنوبی اضلاع کے 29 سو گھروں میں شمسی توانائی نظام نصب کرنے پر کام جاری ہے۔پھر یہ کہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو شمسی نظام سے منسلک کرنے کے لیے جدید سولر ہاؤس تعمیر کیا جائے گا، جس سے روزانہ 375 کلو واٹ شمسی توانائی حاصل کی جا سکے گی، اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 107 ملین روپے لگایا گیا ہے۔اسی طرح سِول سیکریٹریٹ میں بھی، جہاں تقریباً ایک سو سے زائد سرکاری دفاتر قائم ہیں، سولر سسٹم کے تحت 575 کلو واٹ شمسی توانائی حاصل کی جائے گی، اس منصوبے پر164 ملین روپے لاگت آئے گی۔ ان دفاتر میں بجلی کی بچت کے لیے تمام برقی آلات، شمسی توانائی نظام پر منتقل کیے جائیں گے اور یہ دونوں منصوبے، 6 ماہ میں مکمل کر لیے جائیں گے۔

س: حکومت ترقّیاتی منصوبوں میں شفّافیت کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟

ج: اس حوالے سے ہم نے بنیادی نوعیت کے کئی اقدامات کیے ہیں۔ خیبرپختون خوا حکومت نے ترقّیاتی فنڈز میرٹ پر مختص کرنے کے عمل کو باقاعدہ بنانے کے لیے’’ سینٹرلائزڈ جی آئی ایس سسٹم‘‘ کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے، جس کے تحت جدید ٹیکنیکس کے استعمال سے ترقّیاتی اسکیم کے لیے موزوں جگہ کے انتخاب کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ نیز، مختلف شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل پہلے ہی سے شروع کیا جا چُکا ہے اور کئی شعبے تو تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ دراصل ،اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد ایک ہی کام کو دوبارہ کرنے سے روکنا اور عوام کی ضروریات کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم یقینی بنانا ہے۔ ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے جی ای ایس لیب بنائی گئی ہے، تو محکمۂ منصوبہ سازی وترقّیات نے سرمایہ کاری کی پہلی پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس میں مقامی اور غیر مُلکی سرمایہ کاروں کو مساوی مواقع کی فراہمی، گورنینس کی بہتری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو اوّلیت دی گئی ہے۔ابھی تک پی ڈی ڈبلیو پی کے 14 اجلاسوں میں 232 ترقّیاتی اسکیمز منظور ہوچُکی ہے، جن میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کی 78 اسکیمز بھی شامل ہیں۔

س: ایک طویل اور مشکل پراسس کے بعد فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا گیا ہے، اب آپ کی حکومت وہاں کے لیے کیا کر رہی ہے؟

ج: دیکھیے،قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقّی اور دیرپا خُوش حالی، صوبائی حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔پھر یہ کہ وہاں کے عوام بھی امن و خوش حالی کے اِس مشن میں پوری طرح حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کی کوششوں سے تاریخ میں پہلی مرتبہ ان اضلاع میں امن قائم ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم، عمران خان مسلسل ان علاقوں کے دَورے کررہے ہیں، جن سے اس علاقے کی ترقّی میں حکومتی دِل چسپی کی عکّاسی ہوتی ہے۔ بلاشبہ، قیامِ امن کے لیے قبائلی عوام اور سکیوریٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں ہی سے ترقّی کا سفر ممکن ہوا ہے۔نیز، تاریخ میں پہلی بار قبائلی اضلاع میں لوکل باڈی الیکشن ہونے جا رہے ہیں، جس سے وہاں کے عوام کو حقیقی معنوں میں اختیارات منتقل ہوجائیں گے۔ البتہ، چند مُلک دشمن عناصر اب بھی امن کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اور وہ ایک مرتبہ پھر پختون قوم کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ تاہم، پختون قوم اُن کے مذموم عزائم سے واقف ہو چُکی ہے اور کوئی اُن کے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔ نئے قبائلی اضلاع کے تمام خاندانوں کو’’ صحت انصاف کارڈ‘‘ جاری کر دیے گئے ہیں، جب کہ’’ انصاف روزگار اسکیم‘‘ کے تحت وہاں کے نوجوانوں کو بلا سود قرضے بھی دیے جائیں گے۔ تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ نظام قائم کیا گیا ہے، جب کہ اسکولز اور اسپتالوں میں عملے اور انفراسٹرکچر کی کمی ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے 28000 خاصہ دار اور لیویز فورس اہل کاروں کو خیبرپختون خوا پولیس میں ضم کر کے ان اضلاع کے 28 ہز ار خاندانوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا ہے، جو موجودہ حکومت کی ترجیحات کا واضح ثبوت ہے۔

گولے کی زد میں آیا، مگر اللہ تعالیٰ نے بچالیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا، محمود خان نے سوات میں شورش اور فوجی آپریشن کے دَوران خود پر بیتے ایک واقعے کا احوال سُنایا کہ’’ہمارا گھر پولیس اسٹیشن اور اسپتال کے قریب ہے۔ صُورتِ حال کے پیشِ نظر اسپتال میں بھی ایف سی اہل کار ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک دفعہ اُن دونوں مقامات سے ساری رات طالبان کے ٹھکانوں پر گولا باری کی گئی اور ہم یہ سارا منظر دیکھتے رہے۔ صبح ہمیں بتایا گیا ’’ چوں کہ یہاں سے طالبان پر گولا باری ہوئی ہے، تو جواباً وہ اس علاقے کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ براہِ راست حملے کا خطرہ ہے اور گولا باری کا بھی۔ لہٰذا آپ لوگ گھر خالی کر کے کہیں اور منتقل ہوجائیں۔ ‘‘مَیں اپنی فیملی کے ساتھ ایک، ڈیڑھ کلومیٹر دُور ایک کزن کے ہاں منتقل ہو گیا۔جس بات کا خدشہ تھا، وہی ہوا اور طالبان نے علاقے پر حملہ کردیا۔ جب حملہ ہوا، تو مَیں مکان کی چھت پر کھڑا ہو کر دیکھنے لگا اور ایکشن فلمز کے مناظر کی طرح انجوائے کرتا رہا۔ ہمارا گھر اور آس پاس کا علاقہ صاف دِکھائی دے رہا تھا، کیوں کہ جس گائوں میں ہم تھے، وہ پہاڑی پر تھا، جب کہ ہمارے گھر کے اطراف باغات بھی تھے۔طالبان نے گولے فائر کیے، تو ایف سی نے بھی جواباً گولے داغے، تین چار گھنٹے گولا باری چلتی رہی، اِتنے میں ہیلی کاپٹرز آئے اور اُنہوں نے طالبان کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اسی دَوران ایک ہیلی کاپٹر کا رُخ ہماری طرف ہو گیا اور اُس نے ہمیں دیکھ کر میزائل فائر کیا، جس پر مَیں نے چھت سے نیچے چھلانگ لگادی، میزائل بہت قریب گر کر پھٹا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا۔‘‘ 

سنڈے میگزین سے مزید