A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شوال کا چاند 4 جون کو نظر آنے کا امکان

جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس کے سابق ڈائریکٹر اور معروف فلکیاتی سائنسدان پروفیسرڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق شوال کا چاند منگل 4 جون کو نظر آنے کا قوی امکان موجود ہے جس کے باعث عیدالفطر ممکنہ طور پر بدھ 5 جون کو ہوگی۔

پروفیسرڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق شوال کے چاند کی پیدائش پیر 3جون بمطابق28رمضان المبارک کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر3بج کر2منٹ پر ہوگی اس روز3جون کو کراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمرمحض4گھنٹے اور16منٹ ہوگی اورچاند کراچی کے افق پرغروب آفتاب کے ایک منٹ کے اندر ہی ڈوب جائے گا۔

کراچی یونی ورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس کے سابق ڈائریکٹرنے بتایا کہ کراچی میں چاند کی رویت ممکن نہیں، تاہم 4جون ، 29رمضان المبارک کوعید الفطر کا چاند نظرآنے کاقوی امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غروب آفتاب کے وقت اس کی افق سے بلندی ایک ڈگری ہوگی جبکہ پشاور میں 3 جون بمطابق28رمضان المبارک کو غروب آفتاب کے وقت چاندکی عمر 4گھنٹے اور19منٹ ہوگی اوراس روز3جون کوپشاورمیں چاند غروب آفتاب سے2منٹ اور 16سیکنڈ قبل ہی ڈوب جائے گا اور غروب آفتاب کے قریبی افق سے نیچے ہوگا ان حالات میں ہلال کی رویت ناممکن ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سائنسی بنیادوں پر چاندکی رویت کے لیے یہ لازمی ہے کہ چاند غروب آفتاب کے بعد غروب ہواورافق پراس کی سطح کئی ڈگری بلند ہو۔

مزیدبراں 4جون بمطابق 29رمضان کوکراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاندکی عمر28گھنٹے اور16منٹ ہوگی اورچاندغروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعدتک افق پر موجودرہے گااس روزچاند کی افق پر بلندی 12ڈگری تک ہوگی جبکہ4جون کو پشاور میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر28گھنٹے اور18منٹ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ چاند غروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعدتک افق پر موجودرہے گا اور اس کی افق پر بلندی11ڈگری سے بھی زائد ہوگی لہٰذا پشاور سمیت پورے پاکستان میں 4جون کو ہی چاند کی رویت ممکن ہے کیونکہ اس روز چاند غروب آفتاب سے قبل غروب ہونے کے بجائے اس کے بعد بھی افق پرموجودرہے گا اور 29رمضان کے بعد 5 جون کو ہی یکم شوال ہوگی۔

ڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق قمری ماہ کی ہر29تاریخ کوکائنات کو سائنسی بنیادوں پر 3 ریجنز(اے ، بی اور سی) میں تقسیم کیاجاتاہے پہلا حصہ وہ جہاں چاند نظرآنے کے امکانات حتمی ہوتے ہیں دوسراوہ حصہ جہاں چاندکی رویت ہوبھی سکتی ہے اورنہیں بھی ہوسکتی جبکہ تیسراوہ حصہ ہوتاہے جہاں چاندقمری ماہ کی29تاریخ کوکسی صورت نظرنہیں آسکتاتاہم رمضان کی29تاریخ کوپاکستان کا افق کائنات کے اس پہلے حصے میں ہوگا جہاں چاند نظر آنے کے غالب امکانات موجود ہیں۔

یادرہے کہ 5 مئی2019 کو رمضان کے چاند کے موقع پر پاکستان دنیاکے تیسرے ریجن میں تھا جہاں 29شعبان کوچاند کی رویت ممکن نہیں تھی۔

ماہرفلکیات ڈاکٹرشاہد قریشی کے تحقیق کے مطابق اگرچاند اپنی پیدائش کے چندگھنٹے بعد سورج سے انتہائی نزدیک ہوگا تو وہ سورچ کی تیز چمک اورشام کی دھندلاہٹ میں ہوگا چاند پتلا ہوگا جس کے سبب اس کی رویت سورج کی چمک کے سبب انتہائی مشکل ہوتی ہے تاہم اگرچاند کافی روشن اور وسیع یا

چوڑا ہو تو اس کامطلب اس کافاصلہ سورج سے ایک ضروری حد تک زیادہ ہوگا اس صورت میں چاندکی رویت کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے کہ نئے چاند کی پیدائش سے مراد وہ لمحہ یاوقت ہے جب ہمارے آسمان پر سورج اورچاند کی پوزیشن کے مابین مشرق اورمغرب کاکوئی فرق موجودنہیں رہتابلکہ چاندسورج کے مقابل آجاتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید