آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر20؍ شوال المکرم 1440 ھ 24؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں کرپشن کیس کے ملزم کی بریت کے خلاف نیب اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ نیب کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو سوچنا چاہیے کہ صرف کیس بنانا مقصد نہیں ہے، نیب کو چاہیے کہ جس پر بھی کیس بنائے، شواہد بھی ساتھ لگائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 19 سال سے ملزم کو رگڑا لگایا جا رہا ہے، ملزم پرجس عہدے کی بنیاد پرکرپشن کا الزام ہےاس عہدے کا ثبوت تک نہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ نیب آخر کرتا کیا ہے؟ کیا نیب کا مقصد صرف کیس بناناہے ؟ نیب کا مقصد کیس ثابت کرنا اور ملزم کو سزا دلوانا بھی ہے، نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملزم عطاءاللہ کی بریت کے خلاف نیب کی اپیل مسترد کر دی۔

ملزم پر نیشنل بینک میں بطور کیشیئرکرپشن کا الزام تھاجسے ہائی کورٹ 4 سال قبل بری کر چکی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں