آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک | 27 مئی ، 2019

روس، سینٹ پیٹرز برگ کے قیام کے 316 برس مکمل

روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے قیام کے316 برس مکمل ہونے پر منفرد تقریب سجائی گئی۔

اس موقع پر روس، یوکرین اور بیلارس سے اسی گروپس کے پانچ سو چھپن ڈرمرز سینٹ پیٹرز برگ میں جمع ہوئے اور ایک ساتھ ڈرم بجاکر نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

ڈرمز نے اس بات کا خیال رکھا کہ سب ایک ہی بیٹ پر ہوں اور اس طرح آخری ڈرمر کے شامل ہونے تک ڈرم بجائے گئے ۔

شمال مغربی روس کا ایک شہر ہے، جو بحیرہ بالٹک میں خلیج فن لینڈ کے مشرقی کنارے پر دریائے نیوا کے ڈیلٹا پر واقع ہے ، یہ عام طور پر پیٹر کہلاتا ہے جبکہ 1914ء سے 1924ء کے درمیان اسے پیٹرو گراڈ اور 1924ء سے 1991ء تک لینن گراڈ کہا جاتا رہا۔

اس شہر کی بنیاد16مئی 1703ء کو روس کے بادشاہ پیٹر اوّل نے رکھی، یہ200سال سے زائد عرصے تک روسی سلطنت کا دار الحکومت رہا۔

1703ء میں یہ شہر دریائے نیوا کے دہانے پر اس مقام پر تعمیر کیا گیا، جہاں یہ دریا خلیج فن لینڈ میں جا گرتا ہے۔ اس شہر کو ایک مضبوط قلعہ کی طرح بنائے جانے کا ارادہ تھا، جو روس کی بحیرۂ بالٹک کے ساحل پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں مدد کرے۔

تعمیراتی کام مکمل ہونے کے فورا ً بعد بادشاہ پیٹر اوّل نے سینٹ پیٹرزبرگ کو سلطنتِ روس کا دارالحکومت بنائےجانے کا اعلان کیا، جہاں تمام مکانات صرف یورپی طرز تعمیر پربنائے گئے تھے۔ سینٹ پیٹرزبرگ یورپی شہروں کی طرح خوبصورت اور خوش نما بنایا گیا تھا۔

سینٹ پیٹرزبرگ دوسرے روسی شہروں سے قطعی طور پر مختلف تھا، دریائے نیوا کے کناروں پر روسی امراء وشرفا کے عالی شان محلات، شہر کے اندر متعدد نہروں اور ان کے پلوں کے جنگلوں پر پتھر پر کیے گئے باریک ترین کٹا‎ؤ اور نقش و نگاری کو دیکھ کر لگتا تھا گویا آپ اٹلی کے معروف شہر وینس میں ہوں، جو سمندر کے ساحل اور متعدد نہروں کے کناروں پر تعمیر کیا گیا لاجواب شہر ہے۔