آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جدید ہتھیاروں سے لیس ڈاکوؤں نے3 اہل کار ہلاک کردیئے

سکھر و شکارپور کے کچے کے جنگلات میں ڈاکوئوں کے خلاف جاری آپریشن میں پولیس کا بڑا نقصان، ڈاکوئوں نے جدید اسلحے سے بکتر بند گاڑی کو نشانہ بناکر ایک پولیس اہلکار کو شہید دوسرے کو زخمی کردیا۔ چند ماہ کے دوران ڈاکوئوں کا پولیس پارٹی پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل بھی ڈاکوئوں کے حملے میں 2پولیس افسران جام شہادت نوش کرگئے تھے۔پولیس کی جانب سے ڈاکوئوں کے خلاف جاری آپریشن میں ایک ڈاکو کے مارے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ آپریشن کے دوران پولیس کی جانب سے ڈاکوئوں کی درجنوں پناہ گاہوں کو مسمار و نذر آتش کیا جاچکا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد نے سکھر و شکارپور کے کچے کے جنگلات کو ڈاکوئوں سے مکمل پاک کرنے تک آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید اے پی سی گاڑیاں منگوائی گئی ہیں،ان کے پہنچنے کے بعد ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کو مزید تیز کردیا جائے گا۔

دریائے سندھ کے کچے کے جنگلات ڈاکوئوں کی محفوظ پناہ گاہیں سمجھے جاتے ہیں، سندھ پولیس کی جانب سے کچے کے ان جنگلات کو ڈاکوئوں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن جاری ہے۔ سکھر و شکارپور کے کچے کے جنگلات شاہ بیلو میں بھی پولیس نے چند ماہ سے ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن شروع کررکھا ہے۔ آپریشن کے دوران ڈاکوئوں کے گرد گھیرا مسلسل تنگ کیا جارہا ہے تاہم ڈاکوئوں کی جانب سے بھی پولیس آپریشن کے جواب میں سخت مزاحمت کی جارہی ہے۔ چندروز قبل شکارپور کے کچے کے علاقےمیں ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر حملہ کرکے جدید اسلحے سے بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنا یا جس کے نتیجے میں ایک اہل کار شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔کچے کے علاقے شاہ بیلو میں پولیس پارٹی پر آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کا یہ دوسرا حملہ ہے۔ کچے کے علاقےمیں جہاں پر سکھر اور شکارپور پولیس نے گزشتہ ماہ ڈاکوؤں کے حملے میں ایس ایچ اور اے ایس آئی کی شہادت کے بعد آپریشن شروع کررکھا ہے وہاں ڈاکوئوں کے گروہ نے آپریشن میں حصہ لینے والی پولیس پارٹی پر دوبارہ حملہ کردیا اور خصوصی طور پر پولیس کی بکتر بند گاڑیوں کو جدید اسلحہ سے نشانہ بنایا جس سے بکتر بند گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ۔اس حملے میں سکھر پولیس کا ایک اہلکار ذوالفقار علی شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔ ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل حمد کے مطابق زخمی اہل کار کو سکھر کے نجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ حملے کے بعد سے پولیس ڈاکوؤں کے تعاقب میں ہے اوردونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ پولیس کی بھاری نفری کچے کے جنگلات میں موجود ہے اور ڈاکوؤں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جب پولیس پارٹی ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کے لئے کچے کے علاقے شاہ بیلو کے جنگلات میں پہنچی تھی تو ڈاکوئوں نے پولیس کی بکتر بند گاڑی کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 2پولیس افسران ایس ایچ او اور اے ایس آئی شہید ہوگئے تھے اور 3پولیس اہل کار زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد سےکچے کے جنگلات میں پولیس کی جانب سے ڈاکوئوں کیے خلاف آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران پولیس کی جانب سے ڈاکوئوں کی درجنوں پناہ گاہوں کو مسمار کرکے نذر آتش کیا گیا ہے اور کچے کے جنگلات کا وسیع علاقہ ڈاکوئوں سے خالی کرایا گیا ہے۔ تاہم ڈاکوئوں نے ایک مرتبہ پھر پولیس کی بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس سے بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا اور ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ دوسری جانب پولیس کی طرف سے جاری آپریشن کے دوران ایک ڈاکو کے بھی مارے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکوئوں کے پولیس پر حملہ کے بعد پولیس نے آپریشن مزید تیز کردیا گیا ہے اور ایک ڈاکو بھی پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ شکارپور کے کچے کے علاقے میں آپریشن کی نگرانی کرنے والے ایس ایس پی شکارپور ساجد امیر سدوزئی کے مطابق آپریشن میں بکتر بند گاڑیاں، اے پی سی چین اور 300پولیس اہل کارحصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن کے دوران پولیس اور ڈاکووں کے درمیان مقابلہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا ہے،۔ مرنے والے ڈاکو کے قبضے سے ایک عدد کلاشنکوف بھی بر آمد کی گئی ہے۔ مذکورہ ڈاکو، قتل، اغوا، چوری، ڈکیتی، رہزنی، لوٹ مار سمیت دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، جس کا کرمنل ریکارڈ دیگر اضلاع سے منگوایا جارہا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد کے مطابق شکارپور کچے کے جنگلات میں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن جاری ہے ۔پولیس کو ڈاکوؤں کے کچے کے علاقے میں جمع ہونے کی اطلاعات ملی تھیں جس پر آپریشن تیز کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مقابلےکے دوران ڈاکوؤں نے پولیس پر راکٹ لانچرز اور اینٹی ایئر کرافٹ گن سے حملہ کیا ۔ حملے میں اے پی سی کا ڈرائیور ذوالفقار عباسی شہید اور دوسرا اہل کارزخمی ہوا ہے۔انہوں نے کہ ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ آپریشن میں حصہ لینے کے لئے جدید اے پی سی گاڑیاں منگوائی گئی ہیں اور موثر حکمت عملی کے تحت آپریشن کو مزید تیز کیا جائے گا۔ کچے کے جنگلات میں آپریشن کے دوران پولیس کے افسران و جوان جنگل کو کھنگال رہے ہیں، ایک وسیع علاقہ ڈاکوئوں سے کلیئر کرالیا گیا ہے، ڈاکوئوں کی متعدد پناہ گاہوں کو مسمار و نذر آتش کیا جاچکا ہے،ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جاچکا ہے۔ آپریشن میں پولیس کے کمانڈوز، جدید اسلحے، بکتر بند گاڑیوں سمیت حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن میں حصہ لینے والے افسران سے مسلسل رابطے میں ہوں، انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کی جارہی ہے۔آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہل کارنہ صرف جدید اسلحے سے لیس ہیں بلکہ دور تک دیکھنے والی دور بینوں سمیت دیگر جدید آلات و ہتھیار بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ 

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید