آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’قربانی‘‘ عربی زبان کے لفظ’’ قُرب‘‘ سے ہے، جس کا مطلب’’ کسی شے کے نزدیک ہونا‘‘ ہے۔ شرعی اصطلاح میں قربانی سے مُراد’’ عبادت کی نیّت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اللہ کی راہ میں قربان یا ذبح کرنا ہے۔‘‘گویا قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قُرب مقصود ہے۔ ماہ ذی الحج کی دس، گیارہ اور بارہ تاریخ میں سے کسی بھی دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے سُنّتِ ابراہیمیؑ کو پورا کرنے کے لیے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ قربانی کی تاریخ حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل سے شروع ہوتی ہے۔ حق تعالیٰ جلَّ شانُہ کا اِرشاد ہے” اور آپﷺ اہلِ کتاب کو آدمؑ کے دو بیٹوں کا واقعہ سُنا دیجیے، جب اُن میں سے ہر ایک نے اللہ کے لیے کچھ نیاز پیش کی، تو اُن میں سے ایک کی نیاز مقبول ہوگئی اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔‘‘ علّامہ اِبنِ کثیرؒ نے اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلّہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی۔ اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا گئی، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔دراصل، قربانی ہر اُمّت میں رہی ہے،جیسا کہ سورۂ حج میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے قربانی مقرّر کر دی تھی تاکہ اللہ نے جو چوپائے اُنہیں دیے ہیں، اُن پر اللہ کا نام یاد کیا کریں۔‘‘(آیت34) البتہ، قربانی کے احکامات اور طریقۂ کار میں ضرور فرق رہا ہے۔ یہودیوں کی کُتب میں بہ کثرت قربانی کا ذکر ملتا ہے، جب کہ عیسائیوں میں تو اسے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔تاہم، حضرت اِبراہیم ؑاور حضرت اِسماعیلؑ کے واقعے سے قربانی کے فریضے کو اِک خاص پہچان اور شان حاصل ہوئی۔ نیز، اسی واقعے کی یادگار کے طور پر اُمّتِ محمّدیہﷺ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔

عشق و قربانی کا عظیم واقعہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بڑھاپے میں حضرت اسماعیل ؑ کی صُورت اولاد کی نعمت سے نوازا، بعدازاں، حضرت اسحاق علیہ السّلام پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السّلام کچھ بڑے اور باپ کا سہارا بننے کے قابل ہوئے، تو ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے مُرادوں سے مانگے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ چوں کہ انبیائے کرامؑ کے خواب بھی سچّے ہوتے ہیں، تو آپؑ نے اس حکمِ الٰہی کی تعمیل کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے کہا’’اے میرے پیارے بیٹے! مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ مَیں تجھے ذبح کر رہا ہوں، بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ بیٹے نے کہا’’ابّا جان! آپؑ وہ کام کر گزریں، جس کا آپؑ کو حکم دیا گیا ہے۔ آپؑ اِن شاءاللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ ( سورۂ الصٰفٰت، 102)یہ امتحان کس قدر سخت تھا، اِس کا اندازہ صاحبِ اولاد ہی کر سکتے ہیں۔ مفسّرین نے لکھا ہے کہ’’ خود اللہ تعالیٰ نے’’ فَلَمَّا بَلَـغَ مَعَہُ السَّعْیَ‘‘ سے اشارہ فرما دیا کہ ارمانوں سے مانگے اُس بیٹے کو قربان کرنے کا حکم اُس وقت دیا گیا، جب وہ باپ کے ساتھ چلنے پِھرنے کے قابل ہوگیا تھا اور پرورش کی مشقّتیں برداشت کرنے کے بعد اب وقت آیا تھا کہ وہ قوتِ بازو بن کر باپ کا سہارا ثابت ہو۔‘‘قصّہ مختصر،حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کے لیے چہرے کے بَل لِٹایا اورتیز دھار چُھری پوری قوّت سے بیٹے کی گردن پر پھیر دی۔حضرت جبرائیل علیہ السّلام ،اللہ تعالیٰ کے حکم سے جنّت سے ایک مینڈھے کو لے آئے اورحضرت اسماعیلؑ کو ہٹا کر اُسے چُھری کے نیچے لِٹا دیا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے آنکھوں پر بندھی پٹّی کھولی، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ حضرت اسماعیلؑ قریب کھڑے مُسکرا رہے ہیں اور اُن کی جگہ ایک مینڈھا ذبح ہوا پڑا ہے۔اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی”اے ابراہیمؑ !تم نے خواب سچ کر دِکھایا، بے شک، ہم اِسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘نیز، اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کو’’ ذبحِ عظیم‘‘ قرار دیا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اور ہم نے عظیم قربانی کا فدیہ دے کر اس کو بچا لیا۔‘‘ (سورۂ الصٰفٰت) اس واقعے کے دَوران شیطان نے حضرت ابراہیمؑ اور اُن کی اہلیہ، حضرت ہاجرہؑ کو ورغلانے کی کئی کوششیں کیں، مگر اُسے ہر بار منہ کی کھانی پڑی۔اللہ تعالیٰ کو اپنے مخلص اور برگزیدہ بندوں کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اسے قیامت تک کے لیے زندہ کردیا۔ مسلمان ہر سال عید الاضحیٰ پر اسی بے مثال قربانی کی یاد مناتے ہیں۔

احادیثِ مبارکہؐ میں قربانی کی فضیلت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں قربانی کا اہتمام فرمایا اور اپنی اُمّت کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عُمرؓ فرماتے ہیں’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینے میں دَس سال قیام فرمایا اور(اس قیام کے دَوران) آپﷺ قربانی کرتے رہے۔‘‘(ترمذی) آپﷺ نے ایک موقعے پر ارشاد فرمایا’’ عید الاضحیٰ کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نز دیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں، سینگوں اور کُھروں سمیت آئے گا(اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی)۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہذا تم خوش دِلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘(ترمذی) ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابۂ کرامؓ نے دریافت کیا کہ’’ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ تمہارے باپ، اِبراہیم علیہ السّلام کا طریقہ (یعنی اُن کی سُنّت) ہے۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا کہ’’ پھر اس میں ہمارے لیے کیا (اجر وثواب) ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ (جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔‘‘ اُنہوں نے عرض کیا کہ’’ (دُنبہ وغیرہ اگر ذبح کریں تو اُن کی) اُون (میں کیا ثواب ہے؟)‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ اُون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔“(ابنِ ماجہ)ایک موقعے پر فرمایا’’ عید والے دن قربانی پر کیے جانے والے خرچ سے افضل کوئی خرچ نہیں ہے۔‘‘(دارقطنی) حضور اکرم ﷺ نے’’ حجۃ الوداع‘‘ کے موقعے پر ایک سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں سے63 اونٹ آپﷺ نے خود نحر (ذبح) کیے۔ آپﷺ نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر سخت تنبیہہ فرمائی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو، پھر بھی قربانی نہ کرے، تو (ایسا شخص) ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو۔‘‘ (مسندِ احمد، ابنِ ماجہ)نیز، آپﷺ نے عیدین کی راتوں میں عبادت کرنے کی بھی ترغیب دی ہے۔ چناں چہ ایک موقعے پر ارشاد فرمایا’’جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادت کی نیّت سے قیام کرتا ہے، اُس کا دل اُس دن بھی فوت نہیں ہوگا ،جس دن تمام دِل فوت ہو جائیں گے۔‘‘(ابنِ ماجہ)حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا’’جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لیے جنّت واجب ہوجاتی ہے۔ وہ راتیں، آٹھ، نو اور دَس ذی الحج، عید الفطر اور پندرہ شعبان کی رات (یعنی شبِ برات) ہیں۔‘‘(منذری، الترغيب والتريب)

قربانی کی غرض و غایت

قربانی کی ان تمام فضیلتوں کو حاصل کرنے کی بنیاد تقویٰ، اخلاص اور للٰہیت ہے۔ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹوں کی قربانی کا ذکر فرماتے ہوئے واضح کردیا کہ اُس کے نزدیک تقویٰ اور اخلاص والوں کا عمل ہی قبولیت کی سند پاتا ہے۔ سورۂ حج میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان(قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘اس آیت کی تفسیر میں مفسرّین لکھتے ہیں’’ قربانی پیش کرنے کی جو ہدایت کی جا رہی ہے، وہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ جل شانہ کو ان قربانیوں سے کوئی نفع پہنچتا ہے۔ تمہاری پیش کی ہوئی چیز تم ہی کو لَوٹا دی جاتی ہے۔ تم خود اس کو کھاؤ اور ضرورت مندوں کو کِھلاؤ۔ اللہ قربانیوں کے خون سے محظوظ نہیں ہوتا، بلکہ اس تقویٰ اور اس اطاعت سے خوش ہوتا ہے، جو ان قربانیوں سے ان کے پیش کرنے والوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ قربانی کی ایک صُورت ہے اور ایک رُوح ہے، صُورت تو جانور کا ذبح کرنا ہے اور اس کی حقیقت اِیثارِ نفس کا جذبہ پیدا کرنا اور تقرب اِلی اللہ ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ قربانی کا بہ ظاہر مقصد جانور ذبح کرنا ہے، مگر اس کی اصل رُوح تقویٰ اور اخلاص کی آب یاری ہے۔الغرض، قربانی کا اصل فلسفہ تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ اگر اسی جذبے سے قربانی کی جائے تو یقیناً وہ بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتی ہے ۔

قربانی سے متعلق چند ضروری باتیں

٭ہر عاقل، بالغ، آزاد، مقیم، مسلمان پر اگر وہ مال دار ہو تو قربانی کرنا واجب ہے۔ اگر کسی گھر میں ایک سے زاید افراد مال دار ہوں، تو سب پر الگ الگ قربانی کرنا واجب ہے۔ مثلاً اگر میاں، بیوی دونوں قربانی کے نصاب پر پورے اُترتے ہیں، تو دونوں کو قربانی کرنا ہوگی۔ ایک گھرانے کی طرف سے ایک قربانی کافی ہونے کا خیال دُرست نہیں۔ نصاب سے مُراد یہ ہے کہ اُس کے پاس ساڑھے سات تولہ صرف سونا یا ساڑھے باوَن تولہ چاندی یا اُس کی قیمت کے برابر نقد رَقم ہو یا ضرورت سے زائد اِتنا سامان ہو، جس کی قیمت ساڑھے باوَن تولہ چاندی کے برابر ہو۔٭مُردوں کے اِیصالِ ثواب کے لیے یا زندہ لوگوں کو ثواب پہنچانے کے لیے قربانی کی جا سکتی ہے۔٭بکرا، بکری، بھیڑ ایک سال کی ہونا ضروری ہیں۔ تاہم، ایسی بھیڑ اور دنبے جو چھے ماہ کے ہوں،مگر دیکھنے میں ایک سال کے لگتے ہوں، اُن کی قربانی بھی جائز ہے۔ گائے، بھینس کی عُمر دو سال، جب کہ اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے۔٭نمازِ عید ادا کرنے کے بعد ہی جانور کو ذبح کیا جائے۔حضرت جندبؓ سے روایت ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے عیدالاضحٰی کے دن پہلے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، اُس کے بعد قربانی کا جانور ذبح کیا اور آپﷺ نے فرمایا’’ جو شخص نماز سے پہلے جانور ذبح کرچُکا، اُسے چاہیے کہ اس کے بدلے میں ایک اور جانور ذبح کرے۔‘‘حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’ جس شخص نے نمازِ عید سے پہلے جانور ذبح کردیا، اُس نے محض گوشت کھانے کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نمازِ عید کے بعد جانور ذبح کیا، اُس کی قربانی ادا ہوگئی۔ اُس نے مسلمانوں کے طریقے پر عمل کیا، یعنی سُنّت کے مطابق قربانی کی۔‘‘٭جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور اُن دونوں کو اپنے دستِ مبارک سے ذبح کیا۔ ذبح کرتے وقت’’ بسم اللہ، اللہ اکبر‘‘ کہا اور اپنا پاؤں جانور کی گردن پر رکھا۔‘‘٭ چُھری اتنی تیز ہو کہ جانور فوراً ذبح ہوجائے تاکہ اُسے کم سے کم اذیّت ہو۔ ٭گوشت کے تین حصّے کرنے چاہئیں۔ ایک اپنے لیے، دوسرا ضرورت مندوں میں تقسیم کے لیے اور تیسرا دوست احباب کے لیے۔٭قربانی کے جانور کا عیوب سے پاک ہونا ضروری ہے۔یعنی جس کے ایک یا دو سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں، اندھا یا کانا ہو، اِس قدر لنگڑا ہو کہ چل کر قربان گاہ تک نہ پہنچ سکتا ہو، بیمار ہو، تو اُس کی قربانی جائز نہیں ہے۔حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ ایسا جانور ذبح نہ کریں، جس کا کان اوپر یا نیچے سے کٹا ہو، جس کے کان لمبائی میں کٹے ہوں یا جس کے کان میں گول سوراخ ہو۔‘‘(ترمذی) اسی طرح، حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا ’’کس جانور کی قربانی سے بچا جائے ؟‘‘ تو آپﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا’’ چار قسم کے جانوروں کی قربانی منع ہے (1) لنگڑا جانور، جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو (2) کانا جانور، جس کا کانا پن ظاہر ہو (3) بیمار، جس کی بیماری ظاہر ہو (4) لاغر جانور، جس کی ہڈیوں میں بالکل گُودا نہ ہو۔‘‘( ترمذیِ ابنِ ماجہ) بہرحال، چوں کہ قربانی اور جانور کے انتخاب کے حوالے سے مسائل انتہائی حسّاس اور اہم ہیں، اس لیے مناسب یہی ہے کہ مستند علمائے کرام سے رہنمائی حاصل جائے۔

سنڈے میگزین سے مزید