آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ملی نغمے عسکری اور ثقافتی تاریخ کا درخشاں باب

65ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ملکہء ترنم نور جہاں کے گائے ہوئے ملّی اور قومی ترانے ہماری عسکری اور ثقافتی تاریخ کا درخشاں باب ہیں۔ دنیا کے کسی ملک کو یہ اعزاز حاصل نہیں کہ کسی ایک گلوکارہ نے جنگ کے دوران اپنے فن کے ذریعے مسلح افواج اور عوام کے حوصلوں کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے خدمات انجام دی ہوں۔ ستمبر 65ء کے دوران اس ضمن میں ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ملکہء ترنم نے بتایا تھا کہ ’’ جنگ کے موقع پر میں نے جو ترانے پیش کیے، وہ محض رزمیہ گیت ہی نہیں، بلکہ ان نغمات میں میری ممتا شامل تھی۔ 

دشمن کے بزدلانہ حملے کے بعد جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا، تو ملک کی فن کارہ ہونے کے ناتے مجھے اس جنگ میں کس طرح حصہ لینا تھا۔ صورتِ حال یہ تھی کہ ان دنوں میری تین بیٹیاں علیل تھیں، انہیں شدید بخار تھا، گھر پر میرے سِوا ان کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا، میں نے چند منٹ میں فیصلہ کیا کہ سرحدوں پر میرے ہزاروں بیٹے دشمن سے برسرپیکار ہیں، ان حالات میں ان بہادر سپوتوں کو میری زیادہ ضرورت ہے، لہٰذا میں نے اسی وقت ریڈیو پاکستان لاہور فون کر کے صوفی تبسم، سینئر پروڈیوسر اور ریکارڈسٹ اعظم بٹ، اسٹیشن ڈائریکٹر شمس الدین بٹ کو جنگ کے حوالے سے اپنے جذبات سے آگاہ کیا اور اپنی خدمات پیش کردیں کہ میں سرحدوں پر دشمن سے برسرپیکار بہادر مجاہدوں کے لیے ترانے پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میرا فون سن کر اعظم خاں نے کہا کہ آپ فوراً ریڈیو اسٹیشن آجائیں۔ اعظم خاں نے بتایا کہ ملکہء ترنم کے فون کے بعد صُوفی تبسم، شمس الدین بٹ اور میں نے 65ء کے پہلے ملی اور قومی ترانے کی ریکارڈنگ کے حوالے سے غور و خوض شروع کردیا۔ صُوفی تبسم نے کاغذ پنسل لے کر ترانہ لکھنا شروع کیا ، اس ترانے کے بول تھے؎!!

اے پتر ہٹاں تے نیں وکدے

توں لبدی پھریں بازار کڑے

اس وقت میوزک کے شعبے میں موسیقار حسن لطیف، لئیق، صادق علی مانڈو، عالم علی، سردار لطیف، رحمت خاں موجود تھے۔ موسیقار محمد علی منو، ملکہء ترنم کے ساتھ آئے تھے۔ صُوفی تبسم کے ترانے کے بول مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دُھن بھی موزوں ہوتی رہی، شام کو 65ء کے معرکے کے پہلے ترانے کی ریکارڈنگ مکمل ہوگئی۔ دریں اثنا یہ بھی طے پا گیا کہ روزانہ ایک ترانہ ریکارڈ کر کے اسے نشر کردیا جایا کرے گا۔ اُس دور میں ایک تو ریڈیو عوام سے رابطے کا واحد ذریعہ تھا، صورتِ حال یہ تھی کہ اس دور میں ریڈیو سیٹ بھی محدود اور چند افراد کے پاس تھے۔ عام شہری پان، سگریٹ فروخت کرنے والی شاپس اور چائے خانوں کے باہر کھڑے ہو کر ریڈیو سنتے تھے، چناں چہ جہاں جہاں ریڈیو پاکستان لاہور کی رینج تھی، عوام نے ان دکانوں کے سامنے کھڑے ہو کر نعرہء تکبیر، پاکستان اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں کے ساتھ یہ پہلا ملی ترانہ سُنا، اس دوران عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔

پہلے ترانے کے نشر ہونے کے ساتھ، دوسرے ترانے کی تیاری شروع ہوگئی، جس کے بول تھے

میریا ڈھول سپاہیا

تینوں رب دیاں رکھاں

اس ترانے کی دُھن موسیقار سلیم اقبال نے بنائی تھی اور بول ایوب رومانی نے تحریر کیے تھے۔ اس کے بعد ایوب رومانی کا ترانہ، میرا ماہی چھیل چھبیلا کرنیل نی جرنیل نی۔ ریکارڈ کیا گیا۔ پروگرام کے مطابق ہر ترانہ دن میں ریکارڈ ہو کر شام کو نشر کر دیا جاتا تھا۔ اسی دوران نغمہ نگار تنویر نقوی کا ترانہ؎

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

یہ لہو سرخی ہے، آزادی کے افسانے کی

مکمل ہوگیا۔ اس کی دُھن تنویر نقوی اور ملکہ ء ترنم نے مل کر کمپوز کی۔ اس کے بعد امید فتح رکھو اور عَلم اٹھا کے چلو

ریکارڈ ہوا۔ یہ ترانہ نور جہاں اور اعظم خاں کی مشترکہ کاوشوں سے ریکارڈ کیا گیا۔ اعظم خاں نے بتایا کہ ایک دن ترانہ تخلیق نہ ہوسکا تو طے پایا کہ علامہ اقبال کی نظم ’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘

کو ترانے کے طور پر ریکارڈ کرلیا جائے، اس کے بعد اس نظم کے پشتو ترجمے کو بھی ترانے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ ملکہء ترنم کے شہر قصور پر تخلیق کیا گیا ملی نغمہ ’’میرا سوہنا

شہر قصور نی‘‘ کے بعد ہوائی اور بحری افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ’’یہ ہوائوں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی‘‘ تخلیق ہوا۔ اسی دوران ملکہء ترنم، ریڈیو کا اسٹاف، موسیقار اوردوسرے لوگ مجاہدوں کی خیریت دریافت کرنے ’’سی ایم ایچ‘‘ گئے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی ساتھ تھی، مجاہدوں اور زخمیوں کے لیے تحائف بھی لیے گئے، اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے لان میں بھی خندقیں کھودی گئی تھیں، ہوائی حملے کے دوران ملکہء ترنم، شاعر، موسیقار اور تمام عملہ خندقوں میں پناہ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد جمیل الدین عالی کا تخلیق کردہ سپر ہٹ ملی نغمہ ’’اے وطن کے سجیلے جوانو! میرے نغمے تمہارے لیے ہیں‘‘

ریکارڈ ہوا۔ اس کی دُھن موسیقار شہریار نے موزوں کی تھی۔ اسی دوران ؎’’اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں‘‘ کی ریکارڈنگ ہوئی۔ اسی رو میں تاج ملتانی نے ڈاکٹر رشید انور کا لکھا ترانہ ’’جنگ کھیڈ نئی ہوندی، زنانیاں دی‘‘ ریکارڈ کروایا۔ریڈیو پاکستان کے علاوہ نغمہ نگار مشیر کاظمی نے ’’اے راہء حق کے شہیدوں، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں‘‘

یہ ترانہ گلوکارہ نسیم بیگم کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس ترانے کو کلاسیکی حیثیت حاصل ہے۔ جنگ شروع ہوئی تو کئی گلوکار، موسیقار اور نغمہ نگار کراچی میں تھے۔ گلوکار مہدی حسن اور نغمہ نگار مسرو ر انور نے لاہور پہنچ کر بتایا کہ جنگ شروع ہوتے ہی ہمارے لبوں پر ایک سوال تھا کہ ہم کیا کریں۔ اسی سوال کے جواب میں مسرور انور کے ذہن میں یہ شعر آئے۔ ’’اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کرو ں

قوم کے مردِ مجاہد! تجھے کیا پیش کروں‘‘

یوں مہدی حسن کا گایا ہوا مقبول نغمہ تخلیق پایا، نغمہ نگار مسرور انور نے سینکڑوں ملی نغمات تخلیق کیے ، جو ہمارے عسکری اور ملی ادب کا سرمایہ ہیں۔ گلوکارہ نیّرہ نور کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا ترانہ؎ ’’وطن کی مٹی گواہ رہنا‘‘

جیسے ترانے مسرور انور ہی کی ملّی شاعری کا حاصل ہیں۔ 65ء کی جنگ کے حوالے سے ملی ترانوں کا مقابلہ بھی منعقد کرایا گیا، اس مقابلے میں نغمہ نگار سیف زلفی کا ترانہ ’’ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم‘‘ پہلے نمبر پر آیا۔ منتخب ہونے کے بعد یہ ترانہ گلوکارہ ناہید اختر کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس ترانے کا شمار 65ء کی جنگ کے مقبول ترین ترانوں میں ہوتا ہے۔ اس ترانے کی گائیکی پر ناہید اختر نے کئی ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ اسی دوران استاد امانت علی خاں کا گایا ہوا ملی ترانہ ’’چاند میری زمیں، پھول میراوطن‘‘ریڈیو پاکستان لاہور میں ریکارڈ ہوا۔ اس ترانے میں ایک الاپ بھی ریکارڈ ہوا، اس الاپ میں استاد حامد علی خاں اور اسد امانت علی خاں کی آوازیں ہیں۔ 

اس وقت تک گائیکی کے بڑے گھرانے کے ان گلوکاروں نے باقاعدہ گلوکاری شروع نہیں کی تھی۔ اس دور میں حامد علی خاں اور اسد امانت اپنے بزرگوں سے کلاسیکل گائیکی کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ گلوکار شوکت علی اور مسعود رانا کازیادہ وقت بھی ریڈیو پر ہی گزرتا تھا، ان دونوں کا مشترکہ طور پر گایا ہوا ترانہ؎’’ساتھیو، مجاہدو، جاگ اٹھا ہے ساراوطن‘‘کامیابیوں اور مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر چکا تھا، تاہم یہ دونوں گلوکار نئے ترانوں کی ریکارڈنگ کے لیے ریڈیو پر ہی موجود رہتے تھے۔ اس دوران شوکت علی اور مسعود رانا نےکئی پُرجوش ترانے ریکارڈ کروائے۔ فلم سازی کے حوالے سے یہ دور عروج کا دورتھا۔ گلوکاروں، موسیقاروں اور نغمہ نگاروں کے علاوہ اداکار بھی اپنا زیادہ وقت ریڈیو پر ہی گزارتے تھے۔ 

صبیحہ خانم نے اس دوران کئی ترانے بھی ریکارڈ کروائے۔ سید موسی رضا (سنتوش) بھی ان کے ساتھ وہیں موجود رہتے تھے۔ ان کے علاوہ علی زیب بھی اپنے ساتھی فن کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنا زیادہ تر وقت ترانوں کی ریکارڈنگ کے دوران ریڈیو پر ہی گزارتے تھے۔ اداکار محمد علی جنگ کے حوالے سے مختلف پروگراموں کے لیے صوتی اثرات بھی ریکارڈ کرواتے نظر آتے تھے۔ ان کے علاوہ درین، نیّر سلطانہ ، شمیم آرا، سلطان راہی، رانی، قتیل شفائی، مسرور انور، نسیم بیگم، استاد نصرت فتح علی خاں، فریدہ خانم، مالا، ندیم، مسرور انور، کلیم عثمانی، تسلیم فاضلی، عنایت حسین بھٹی، وحید مراد اور دوسرے فن کار اپنا زیادہ تر وقت ریڈیو پر ہی گزارتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ریڈیو پاکستان لاہوراس وقت ثقافتی محاذ کی صورت میں مسلح افواج کے شانہ بشانہ خدمات انجام دے رہا تھا۔ عوامی حلقے بھی وہاں آکر خدمات انجام دیتے دکھائی دیتے تھے۔ ملی ترانوں کا یہ سلسلہ 80, 70 اور 90 کی دہائی میں بھی جاری رہا۔ 

لاہور کے علاوہ کراچی میں بھی ثقافتی سرگرمیوں کے ضمن کراچی کی فلم انڈسٹری سرگرم اور فعال تھی۔ کراچی میں جنید جمشید، محمد علی شہکی، بنجمن سسٹرز، نیّرہ نور، عمر شریف، عالمگیر، لہری، ثقافتی محاذ پر خدمات دیتے رہتے تھے۔ 65ء اور 71ء کے اثرات پوری طرح زائل نہیں ہوئے تھے کہ دہشت گردی کی لعنت نے ملک کو گھیر لیا۔ دہشت گردی کے اثرات اتنے گہرے اور گھنائونے تھے کہ ملکی معیشت، معاشرتی اقدار و روایات، انتظامی امور ملک کی تعمیر وترقی کی رفتار کےعلاوہ فنون لطیفہ اور ثقافتی اقدار بُری طرح متاثر ہوئے، تفریح بہم پہچانے والے ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے۔ دہشت گردوں نے مسلح افواج کے اعلیٰ افسران اور شخصیات کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ صورتِ حال کے تدارک کے لیے مسلح افواج اور حکومت نے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن آج بھی کامیابیوں سے جاری ہے۔ ہماری مسلح افواج اس آپریشن کے حوالے سے بہادری، جواں مردی کی نئی تاریخ رقم کررہی ہیں۔ یہاں یہ پہلو قابلِ ذکر ہے کہ دہشت گردی، معاشی اور سیاسی ابتری کی وجہ سے ملک میں ثقافتی سرگرمیاں پس پشت رہیں، جن کی وجہ سے شاعری، موسیقی، گلوکاری کا شعبہ بُری طرح متاثر رہا۔ 

ثقافتی حوالے سے ملک وہ مقام برقرار نہ رکھ سکا، جو جنگ ستمبر اور اس کے دوران حاصل تھا۔ ملک آئے دن جس سیاسی اور اقتصادی ابتری سے دوچار رہتا ہے، اس میں عسکری قوت کے ساتھ ثقافتی برتری بھی لازم ہے کہ ثقافتی محاذ پر بھی مستعدی ضروری ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ کئی برسوں سے کوئی پُرجوش ملی نغمہ سُننے میں نہیں آیا۔ موجودہ حالات میں قومی جذبات اور امنگوں سے سرشار شاعروں، موسیقاروں اور گلوکاروں کی بہت کمی محسوس کی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی صورتِ حال کے تناظر میں ثقافتی محاذ کو ہر لمحہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید