آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ دنوں میری اور میرے بھائی اشتیاق بیگ کی دعوت پر کشمیری حریت پسند رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کراچی کا دورہ کیا۔

اُنہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے ڈگری حاصل کی۔ فروری 2009ءمیں اُنکی شادی 42سالہ یاسین ملک سے اسلام آباد میں ہوئی جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔

یاسین ملک اور مشعال کی ایک بیٹی رضیہ سلطانہ ہیں جو 2012ء میں پیدا ہوئیں۔ مشعال کی یاسین ملک سے شادی سے دو سال پہلے پاکستان میں ایک کانفرنس میں ملاقات ہوئی تھی جو محبت میں بدل گئی اور ایک سال بعد اُن کا رشتہ ہو گیا۔

شادی کے وقت مشعال ملک کی عمر صرف 22سال تھی۔ شادی کے بعد انہوں نے عہد کیا کہ وہ اپنے شوہر کی آزادیٔ کشمیر کی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گی۔مشعال ملک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

اُنکے والد ایم اے حسین ملک ایک ممتاز معیشت دان تھے۔ وہ پہلے پاکستانی تھے جن کو جرمنی میں نوبیل پرائز کی جیوری میں ممبر نامزد کیا گیا تھا، انکا 2002ء میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا تھا۔

مشعال کی والدہ ریحانہ ملک پاکستان مسلم لیگ وومین ونگ کی سیکریٹری جنرل رہ چکی ہیں جبکہ اُن کے بھائی واشنگٹن میں تجزیہ کار ہیں۔

یاسین ملک کو 1987ء میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جسکے بعد مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی تحریک نے زور پکڑا۔

مشعال ملک کے مطابق وہ اپنے شوہر یاسین ملک کی طویل اسیری کے باعث شادی کے 10برسوں میں بمشکل 60دن اپنے شوہر کیساتھ رہ سکی ہیں۔

مشعال ملک سے میری ملاقات رواں سال اگست میں اسلام آباد میں ہوئی جو میرے دوست ظفر بختاوری کی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر منعقدہ تقریب میں مدعو تھیں جہاں مجھے بھی خطاب کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ میں ہمیشہ اس نوجوان لڑکی جو کم عمری سے شوہر کی اسیری کے باعث جدوجہد کشمیر کیلئے دنیا بھر میں آواز بلند کررہی ہیں، کے انٹرویوز قومی اور بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر دیکھ کر متاثر تھا۔

ملاقات میں جب انہوں نے بتایا کہ انہیں اب تک کراچی جانے کا اتفاق نہیں ہوا ہے اور ان کی یہ بڑی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی و معاشی حب کراچی کا دورہ کریں تو میں نے فوراً ہی انہیں کراچی آنے کی دعوت دی۔

4اور 5اکتوبر کو میں نے اور اشتیاق بیگ نےمشعال ملک، اُن کی والدہ اور بیٹی کو کراچی مدعو کیا۔ کراچی آمد پر سب سے پہلے مشعال ملک کو مزارِ قائد کا دورہ کرایا۔

مزارِ قائد کی حاضری کے دوران مشعال کے آنسو رواں تھے اور انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ آزادی کی جدوجہد میں مزارِ قائد پر حاضری انکی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہے۔

شام کو ہمارے گھر پر مشعال ملک کیساتھ ایک خصوصی انٹریکٹو سیشن رکھا گیا جس میں کراچی میں مقیم غیر ملکی سفارتکاروں، بزنس کمیونٹی کے لیڈرز، کراچی اور فیڈریشن کے اعلیٰ عہدیداران، کراچی اور سندھ بار ایسوسی ایشن کے صدور، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مشعال ملک کے پہلی بار کراچی کے دورے کی وجہ سے لوگوں میں ان سے ملاقات کا ناقابلِ یقین جوش دیکھنے میں آیا۔

تقریب سے میرے اور میرے بھائی اشتیاق بیگ کے علاوہ ترکی کے قونصل جنرل Tolga Ucak، کمشنر کراچی افتخار شالوانی، ایڈمرل (ر) عارف اللہ حسینی، مشعال ملک کی والدہ ریحانہ ملک، ایس ایم منیر، آئی بی اے کی ہما بقائی، ہلٹن فارما کے یاسین ملک اور فیڈریشن کے صدر دارو خان نے خطاب کیا۔

رات کو فیملی ڈنر پر مشعال نے جدوجہد آزادیٔ کشمیر کے سفر کی دلچسپ باتیں بتائیں جن کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ کالم میں قارئین سے شیئر کروں گا۔

دوسرے دن میں نے مشعال ملک کو پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI)جس کا میں سینئر نائب صدر ہوں، میں ظہرانے پر مدعو کیا جس میں بزنس کمیونٹی کے ممتاز لیڈرز، صنعتکار اور فیڈریشن کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی اور مشعال ملک کو ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

مشعال ملک نے درخواست کی کہ بزنس کمیونٹی سوشل میڈیا پر کشمیر میں ہونے والے مظالم اور جدوجہد کشمیر کا ایک منظم نیٹ ورک تشکیل دے تاکہ دنیا بھر میں کشمیر کاز کو اجاگر کیا جا سکے۔

مشعال کے دورے کے آخری دن میرے بھائی اشتیاق بیگ نے میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کے لاعلاج بچوں کی ’’وش گرانٹنگ‘‘ تقریب منعقد کی جس میں مشعال اور ان کی فیملی نے لاعلاج بچوں کو ان کی خواہشات کے مطابق تحائف تقسیم کئے اور ان کیساتھ وقت گزارا۔

مشعال ملک نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں نہایت موثر انداز میں پیش کرنے پر وزیراعظم عمران خان کی تعریف کی جس میں وزیراعظم نے کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں انتہا پسند حکومت آگئی ہے جو کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔

وزیراعظم کی تقریر کا امریکہ کے تمام بڑے اخبارات نے خیر مقدم کیا۔ میں نے ہمیشہ اپنے ٹی وی انٹرویوز اور کالموں میں زور دیا ہے کہ مسلم امہ کا اپنا ایک معیاری انگلش چینل ہونا چاہئے اور مجھے خوشی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورۂ امریکہ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور انڈونیشیا مل کر بی بی سی کی طرز پر ایک انگلش چینل کھولیں گے جو امہ کا نقطہ نظر پیش کرےگا۔

قارئین! اگر ہم پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، لیڈی عبداللہ ہارون، لیڈی غلام حسین ہدایت اللہ اور بیگم وقار النساء جیسی خواتین لیڈرز نظر آئیں گی جنہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔

مشعال ملک کا بھی جدوجہد کشمیر میں تاریخی کردار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔