آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ خوش آئند بات ہے کہ قومی اسمبلی میں طلبہ یونینز کی بحالی کا بل پیش کئے جانے سے اسٹوڈنٹ یونین پر 35سال سے عائد پابندی ہٹانے کی جانب پیش رفت کا آغاز ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں ملک بھر میں طلبہ یونینز کے حق میں کیے گئے طلبہ کے مظاہروں نے حکمرانوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی اس اہم معاملے پر توجہ مبذول کروائی تھی۔ پارلیمان میں مسلم لیگ (ن) کے رکن نے اس ضمن میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن آرڈیننس 2002میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ جسے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے رائے شماری کے بعد مزید غور کیلئے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔ اچھی بات ہے کہ تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں طلبہ یونینز کی مشروط بحالی کی حامی ہیں۔ اراکین اسمبلی نے بجا کہا کہ طلبہ یونینز سیاست کی نرسریاں ہیں ان کو باقاعدہ قانون و ضوابط کے تحت بحال ہونا چاہئے۔ طلبہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں انہیں ملک کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے، ایسے میں ان میں برداشت، تدبر اور ذمہ داری کے احساس کی نمو کیلئے سیاسی و سماجی تربیت کا ہونا ضروری ہے اور اس باب میں طلبہ یونین اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ وطن عزیز میں بھی طلبہ یونینز نے کئی بڑے سیاسی رہنما پیدا کئے۔ 1970کے عشرے سے قبل طلبہ سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی کشمکش کے باوجود اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا رجحان

قائم رہا لیکن ستر کی نصف دہائی میں تعلیمی اداروں میں اسلحہ کلچر کے متعارف ہونے سے تشدد کا عنصر نمایاں ہوا جسے بنیاد بناتے ہوئے 1984میں طلبہ یونینز پر ہی پابندی لگا دی گئی۔ نتیجتاً تعلیمی اداروں میں سیاسی تنظیموں کا کردار مزید بڑھ گیا اور لسانی و فرقہ وارانہ تقسیم نے بھی اپنی جگہ بنالی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تشدد کے سدِباب کیلئے اسلحہ پر سخت پابندی عائد کی جاتی تاہم ایسا نہ ہوا۔ اب جبکہ کم و بیش تمام سیاسی قوتیں ان کی بحالی پر متفق ہیں تو موثر قانون سازی کے ذریعے راہ ہموار کی جانی چاہئے۔