آپ آف لائن ہیں
ہفتہ10؍شعبان المعظم 1441ھ4؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کچھ انجمن ترقی پسند مصنفین کی بابت

روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
لاہور میںانجمن ترقی پسند مصنفین کے ارکان سے بہت اچھی ملاقات ہوئی بہت اچھا لگا کہ لاہور میں ایسے لوگ موجود ہیں جو آج پچاسی 85 برس بعد بھی اس تحریک سے حدت لے رہے ہیں اور اس حدت سے سماج کے لہو کو بھی گرمانا چاہتے ہیں۔ یوں تو انجمن ترقی پسند مصنفین تحرک اور تعطل کے عمل سے گزرتی رہی ہے اور کئی دفعہ ایسے لوگوں کے ہتھے بھی چڑھتی رہی ہے جنہوں نےا س تنظیم کو فقط اردو کی اجارہ داری میں لے لیا اور دیگر زبانوں کو اس تحریک کے ساتھ جڑنے نہ دیا لیکن لاہور میں جاوید آفتاب اور کامریڈ تنویر احمد خان نے انجمن کو پاکستان کی سطح پر جس طریقے سے منظم کرنا شروع کیا ہے اور 2015 سے باقاعدہ طور پر اس کا جس طریقے سے ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ اس کے ارکان میںپنجابی کے شاعر اور ادیب بھی وہی عزت و تکریم رکھتے ہیں جو اردو والے رکھتے ہیں، اس لحاظ سے انہوں نے تنظیم کو کسی ایک زبان کا فرقہ نہیں بنائےرکھا نہ ہی وہ اسے ایسی متعصبانہ تنگ نظری سے چلانا چاہتے ہیں۔ وگرنہ کئی شہروں میں اس تحریک کو چلانے والے ایسے ترقی پسند بھی موجود ہیں جو ادبی اور سیاسی فرقہ پرستی میںمبتلا ہیں۔ دوسری دلچسپ بات جو مجھے ان لاہور کے انجمن ترقی پسند مصنفین والوں میں اچھوتی اور اچھی لگی کہ وہ اسے فقط ادبی تنظیم تک ہی محدود نہیں رکھنا

چاہتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی طاقت اور ممبر سازی اتنی بڑھ گئی کہ وہ آئندہ منعقد ہونےو الے ملک کے انتخابات میں بھی اپنے امیدوار کھڑے کرسکتے ہیں تو وہ ایسا ضرور کریں گے۔ ان کے پاس اس بات کی اچھی ترجیح ہے کہ اگر کوئی اور پارٹی ہمارے نظریات اور منشور سے مطابقت نہ رکھتی ہے تو پھر ہم کسی Lesser Evilکے فارمولے پر کیوں عمل کریں۔ خود میدان میںکیوں نہ اتریں۔ یہ زبردست بات ہے کہ سوکھی نظریاتی جو گالی کرنے کا کیا مقصد ہے نظریہ اور عمل اکٹھے ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں کیونکہ اس تنظیم کے بڑے تو ادب اور سیاست ساتھ ساتھ چلا گئے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ بھی ان کی کمٹمنٹ اتنی ہی مضبوط تھی جتنی کہ اس انجمن کے ساتھ۔ اس لحاظ سے یہ لوگ مجھے روایتی انجمن چلانے والوں سے مختلف لگے۔ یہ سوچ کہ نظریہ دانی اور شعروادب تو ہم کریں لیکن اپنے اوپر حکمرانی کرنے کے لئے موقع پرستوں اور استحصالی طبقے کیلئے میدان خالی چھوڑ دیں۔ جتنی بساط ہے اتنا ضرور کریں گے۔ مجھے ان کے سارے View Point میں بہت وزن دکھائی دیا۔ ان کا گروپ بھی بڑا ہے اور سب لکھنے پڑھنے والے لوگ ہیں۔ اس وقت ان کے 20شہروں میں یونٹ موجود ہیں جو کہ انتہائی خوش کن بات ہے۔ یہاں میںقارئین کی دلچسپی کے لئے انجمن ترقی پسند مصنفین کی تاریخ کا انتہائی مختصر ذکر بھی کرتا چلوں۔ اس انجمن کی ابتدا تو 1935 میںپیرس میںمنعقد ہونے والی ترقی پسند ادیبوں اور مشاعروں کی کانفرنس سے ہوئی جس میں برصغیر سے راج آنند اور سجاد ظہیر نے نمائندگی کی تھی۔ 1935 ہی میںانجمن کے تیار کیلئے منشور پر آلہ باد میںدستخط ہوئے اور انجمن کی بنیاد پر پڑی۔ پہلے منشور پر دستخط کرنے والوں مںپریم چند، جوش ملیح آبادی، مولوی عبدالحق، فراق گور کپھوری کے علاوہ دیگر کچھ بڑے ادیب شامل تھے بعد میںسجاد ظہیر کی کوششوں سے فیض احمد فیض، صوفی تبسم، رابندر ناتھ ٹیگور، میاں افتخار الدین اور چند اور نام اس منشور پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہوئے۔ 1936 میں آل انڈیا کانفرنس میں سجاد ظہیر کو پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ 1954 میں جب کمونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی عائد کی گئی تو انجمن پر بھی پابندی لگا دی گئی اور انجمن میںشامل بڑے بڑے ادب اور شعراء کے نام جن میں سجاد ظہیر، سبط حسن، فیض احمد فیض، حسن عابدی، حمیداختر، صبوبر حسین، احمد ندیم قاسمی، فارغ بخاری وغیرہ کو جیلوں میںڈال دیا گیا۔ یہ جیل کی داستان الگ سے ایک کتاب ہے۔ پھر 1973 میں پیپلز پارٹی کے زمانے میں انجمن پر سے پابندی ختم کئی گئی۔ 1974 تک انجمن پھر سے زندہ ہوگئی اور اس تحریک سے وابستہ ادیبوں، شاعروں، فنکاروں ک لوگوں نے آرٹ اور کلچر میںنئی روح پھونکی لیکن جنرل ضیاء کے زمانے میںانجمن پر پھر سے عتاب ٹوٹا۔ مجھے یاد ہے کہ اگر کسی کے گھر سے فیض صاحب کی نظم بھی برآمد ہوجاتی تو اسے اینٹی اسٹیٹ لٹریچر گردانا جاتا تھا۔ پھر 1997 اور بعد میں2015 سے پنجاب میںاس کی نئے سر سے تنظیم سازی ہوئی۔ گوکہ دوسرے صوبوں کے کچھ شہروں میں کچھ اس انجمن کے دعوے دار تو تھے لیکن لسانی تعصبات ان کے عمل میں نمایاںتھے۔ مجھے اس مذکورہ بالا تنظیم کا مستقبل قریب میں عملی سیاست میںحصہ ڈالنے کا فیصلہ بہت مثبت لگا۔ آج اسی طرح کی علاقائی اور لسانی تعصبات سے بالا ہوکر توقی پسند سوچ رکھنے والوں کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے جو ترقی پسندوں میںفرقہ واریت کے وائرس کو ختم کرسکیں۔ پاکستانی لیفٹ میں خواہ وہ پاکستان میں ہے یا پاکستان سے باہر یہ لیفٹ کی فرقہ واریت کا وائرس بہت عام ہے۔

یورپ سے سے مزید