آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

2جون 1953ء کو ملکہ برطانیہِ کی حیثیت سے تخت نشین ہونے والی ملکہ الزبتھ دوئم نہ صرف آئین کی رُو سے 16آزاد ممالک کی شاہی حکمراں اور سربراہِ مملکت ہیں بلکہ دولتِ مشترکہ میں شامل54 ممالک کی سربراہ اور چرچ آف انگلینڈ کی سپریم گورنر بھی ہیں۔ 

تاہم آج کی تحریر میں ہم ملکہ برطانیہ کے شاہی مرتبہ ومقام کے بجائے ان کے شاہی محلات کی بات کریں گے، جن میں وہ مختلف اوقات میں قیام پذیر ہوتی ہیں۔ ملکہ برطانیہ کے لیے کہا جاتا ہے کہ ملکہ کے پاس’’ہر موقع (ocassion) کے لیے ایک محل‘‘ ہے۔ان میں سے کچھ جائیدادیں مختلف ناموں سے منسوب ہیں جبکہ کچھ ملکہ برطانیہ کو ورثہ میں ملی ہیں۔ آئیے آج آپ کو ان محلات کی غائبانہ سیر کرواتے ہیں۔

رہائشی معمولات

لندن میں قیام کے دوران ملکہ الزبتھ اورڈیوک آف ایڈنبرگ بکنگھم پیلس میں رہتے ہیں۔ وہ اپنی ہفتہ وار چھٹیاں گزارنے ونڈسر کیسل چلے جاتے ہیں۔ اگست اور ستمبر کے مہینوں میں وہ بالمورل کیسل میں قیام کرتے ہیں جبکہ کرسمس کی چھٹیاں سینڈرنگھم ہاؤس میں گزارتے ہیں۔

بکنگھم پیلس

1837ء میں ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے بکنگھم پیلس کی تزئین نو کے فیصلہ کے بعد سے اب تک اسے حاکم شہنشاہ/ملکہ کی شاہی رہائش گاہ کی حیثیت حاصل ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ بکنگھم پیلس کئی برسوں سے شاہی خاندان کے مہمانوں اور دیگر اہم تقریبات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم اورڈیوک آف ایڈنبرگ جب لندن میں ہوتے ہیں تواپنی سرکاری رہائش گاہ بکنگھم پیلس کو ہی استعمال کرتے ہیں۔1837ء میں ملکہ وکٹوریہ نے بکنگھم پیلس کی تعمیر نو کے حوالے سے کئی اہم فیصلےکیے تھے، ان فیصلوں میں محل کے عین سامنے موجود بالکنی کا اضافہ بھی شامل تھا، جہاں شاہی خاندان شادیوں اور مختلف تقریبات میں رنگ برنگے دستوں کو دیکھنے کے لیے جمع ہوتا ہے۔ 

اس محل کی تعمیر1703ء میں ڈیوک آف بکنگھم کے لیےکروائی گئی تھی مگر 1761ء میں بادشاہ جارج سوئم نےاسے ملکہ چارلوٹ کی ذاتی رہائش کے لیے حاصل کرلیا، جو بعد میں ’کوئنزہاؤس‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت بکنگھم پیلس میں 775کمرے ہیں، جن میں 19اسٹیٹ روم ( ریاستی ضیافت کیلئے) ،52شاہی مہمان خانے،92 آفسز اور 78 باتھ روم ہیں۔اس کے علاوہ پیلس میں ایک سوئمنگ پول ،سینما، پوسٹ آفس اور پولیس اسٹیشن بھی ہے۔

ونڈسر کیسل

ونڈ سر کیسل(Windsor Castle) ملکہ الزبتھ دوم کی ملکیت ہے۔ ونڈسر کیسل جنوب مشرقی انگلستان کی کاؤنٹی برکشائر میں ونڈسر کے مقام پر ایک شاہی رہائش گاہ ہے، جو ماضی سے اب تک 40بادشاہوں کی رہائش گاہ بن چکی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے، جس کی تعمیر 1066ء میں شروع ہوئی تھی۔ تعمیر کے کچھ عرصے تک اسے رہائش کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا، تاہم1110ء سے لے کر اب تک یہ قلعہ مسلسل کسی نہ کسی شاہی خاندان کے زیر استعمال رہا ہے۔یہ تاریخی قلعہ تقریباً 13ایکڑ پر محیط ہے۔ 

ونڈسر محل میں داخل ہونے کے لیے تقریباً 2.65میل لمبی اور240فٹ چوڑی طویل راہداری (واک ایریا) موجود ہے، جو دونوں اطراف درختوں سے گھری ہوئی ہے۔ اس کی عمارت میں کم و بیش ایک ہزارکمرے ہیں، جہاں 500سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں۔ 

اس قلعے میں سینٹ جارج چیپل نامی چرچ بھی موجود ہے، قلعہ کی ہر عمارت میں چھت کی اونچائی 30فٹ سے لے کر50فٹ تک ہے۔ پہلے پہل ملکہ حفاظتی خدشات کی بنیاد پر اپنی بہن مارگریٹ کے ساتھ ونڈسر کیسل منتقل ہوئی تھیں، تاہم اب ملکہ برطانیہ ہر ہفتہ کے آخری دن یہیں گزارتی ہیں۔ اس دوران وہ ملکہ برطانیہ کی حیثیت سے کئی طرح کی خدمات بھی سر انجام دیتی رہتی ہیں۔

بالمورل کیسل

اسکاٹ لینڈ میںواقع یہ مشہور قلعہ 1852ء سے برطانیہ کے زیرانتظام ہے۔ بالمورل کیسل ملکہ الزبتھ دوم کی پسندیدہ ترین دورہائش گاہوں میں سے ایک ہے۔ ملکہ برطانیہ ہر سال موسم گرما کے آخری کئی ہفتے یہیں گزارا کرتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ملکہ کے پسندیدہ ایام ہیں۔ 

ابرڈینشائر میں واقع اس ریاست کو خوبصورت پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان تعمیر کروایا گیا ہے۔ 50ہزار ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا یہ ایک خوبصورت شاہی قلعہ ہے۔ اس کے ارد گرد قائم پہاڑ ، وادیاں ،جنگلات ، چراگاہیںاور باغات ایک الگ ہی ماحولیاتی نظارہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں اس ریاست میں 150 عمارتیں اور بھی موجود ہیں، جن میں کریگوان لاج(Craigowan Lodge)، متعدد کاٹیجز اور پرنس چارلس کا برک ہال (Birkhall)شامل ہیں۔

سینڈرنگھم ہاؤس

سینڈرنگھم ہاؤس انگلش کاؤنٹی نورفوک کے ساحلی علاقے میں 20ہزار ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا ایک خوبصورت محل ہے۔ اس کی تعمیر 1870ء سے1892ء کے دوران سرخ اینٹوں اور لائم اسٹون کے ساتھ کروائی گئی تھی۔

وسیع وعریض رقبے پر تعمیر کیے گئے تین منزلہ سینڈرنگھم ہاؤس میں سونے اور بیٹھنے کے لیے بے شمار کمرے ہیں۔ محل کے پرنسپل روم میں بال روم، سیلون، ڈرائنگ روم اور ڈائننگ روم کے علاوہ تفریحی سرگرمیوں کے لیے مختلف کمرے موجود ہیں۔ 

سینڈرنگھم ہاؤس کو طویل عرصے سے ملکہ برطانیہ کا پسندیدہ اور نجی گھر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے پھولوں کے باغات اور مشہور میوزیم کی وجہ سے یہ ایک ورسٹائل اسٹیٹ کہلاتی ہے۔ یہاں شاہی خاندان کی بہت سی تقریبات کا انعقاد کیا جاچکا ہے۔ تاہم، یہ محل اس حوالے سے زیادہ مقبول ہے کہ ملکہ اپنی کرسمس کی چھٹیاں خاندان بھر کے ساتھ یہاں گزارنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہر سال کرسمس سے لے کر 6فروری تک یہ محل ملکہ کی رہائش گاہ کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔

تعمیرات سے مزید