آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

غیر منقسم ہندوستان میں مغل بادشاہوں کی حکومتوں کا سلسلہ سولہویں صدی میں ظہیر الدین بابر کی حکم رانی سے شروع ہوا۔ بابر کا دورِ حکم رانی ساڑھے چار برس سے کچھ زیادہ رہا۔ اس کے بعد اُس کے بیٹے ہمایوں کو تخت نشینی کا موقع ملا، جس نے لگ بھگ سوا نو برس حکومت کی۔ یوں تو ہندوستان پر حکومت کرنے والے اکثر و بیش تر مغل حکمراں کچھ نہ کچھ انفرادی و امتیازی حیثیتوں کے حامل رہے۔ تاہم، ہمایوں کے بیٹے، جلال الدین اکبر نے بہت سے معاملات میں شہرت حاصل کی۔ اکبر کی بادشاہت کا عرصہ بھی نصف صدی کے آس پاس پر مشتمل ہے۔ اکبر کو جہاں اپنے فکر و عمل کے باعث بہت سے حلقوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ،وہاں اُسے اپنے بعض اُمور کی وجہ سے یاد بھی رکھا گیا۔ 

ایسے ہی یاد رکھے جانے والے اُمور میں سے ایک اکبر اور اُس کے نو رتن کا معاملہ بھی تھا۔ محمد اقبال چغتائی نے اپنی تصنیف ’’وسطِ ایشیا کے مغل حکمران‘‘ میں مُغل حکمرانوں کے سلسلے کو پوری تحقیق کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں سابق صدر، شعبہء تاریخ،پنجاب یونی ورسٹی لاہور،پروفیسر محمد اسلم نے اکبر بادشاہ کے دربار کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تحریر کیا ہے’’اکبرِ اعظم کے دربار پر بھی علمی اکیڈمی ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ابو الفضل ،فیضی، ،عُرفی،عبدالرحیم خانِ خاناں،حکیم ابوالفتح،میاں تان سین،نظیری اور شاہ فتح اللہ شیرازی جیسے فضلاء اس دربار میں موجود تھے۔‘‘ یوں تو اکبر نے امورِ سلطنت چلانے کے لیے مختلف شعبوں میں بہت سے کامل مشیر مقرّر کیے تھے،تاہم اُن میں نو انتہائی اہم تھے اور اسی مناسبت سے ’’نو رتن‘‘ کہلاتے تھے۔ رتن ہندی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے قیمتی پتھر یا جوہر۔یوں ’’نو رتن ‘‘کے لُغوی معنی ہوئے، نو قیمتی پتھراور اس کے مُرادی معنی ہوئے نو زیرک،عاقل اور سمجھ دار لوگ۔گویا اکبر بادشاہ نے اپنے پاس ایسے نو افراد جمع کر لیے تھے، جو اپنے اپنے میدان میں یکتا تھے۔اکبر کے نو رتنوں میں جو لوگ شامل تھے اُن کے نام کچھ یوں ہیں۔ راجا بیربل،فیضی(ابوالفیض)، ابوالفضل (فیضی کے چھوٹے بھائی)، راجا ٹوڈرمل، مرزا عزیز کوکلتاش (خانِ اعظم)، حکیم ابوالفتح، حکیم ہمام، عبدالرحیم خان خاناں، تان سین۔(تاریخ نویسوں میںنورتنوں کے ناموں پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔)یوں تو متذکرہ بالا سارے ہی افراد یا رتن اپنے اپنے شعبوں میں طاق تھے،مگر اُس کے نو رتنوں میں جو شہرت اور مقبولیت راجا بیربل کو حاصل ہوئی ،اُس سے دوسرے محروم رہے۔ 

گویا معاملہ کچھ یوں ہوا کہ اکبر اور بیربل ’’لازم و ملزوم‘‘ قرار دیے جانے لگے۔راجا بیربل کو بیر بربھی کہا جاتا تھا ۔اُس کے خاندانی پس منظر کے سلسلے میں متضاد روایات سامنے آتی ہیں۔اُن ہی میں سے ایک کے مطابق وہ ذات کے اعتبار سے برہمن ہندو تھا۔ اس کی خوبیوں کی خوبی حد سے زیادہ حاضر جوابی، حسِ مزاح اور ذہانت تھی۔ وہ شاعری بھی کرتا تھا اور ’’برہیہ‘‘ تخلّص اختیار کرتا۔ اکبر دراصل بیربل کی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے اُسے دل و جان سے پسند کرتا۔ جب کبھی اکبر اپنی طبیعت میں بوجھل پن محسوس کرتا، تو بیربل سے فرمایش کی جاتی کہ ایسی باتیں کی جائیں، جو بادشاہ کی طبیعت کو فرحت و انبساط عطا کریں۔ بیربل کے سلسلے میں اہم بات یہ بھی ہے کہ اُس کے بیان کیے جانے والے لطائف، برجستگی، حاضر جوابی اور ذہانت کے قصّوں کی سند زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے۔ تاہم، یہ حقیقت اپنی جگہ بدستور موجود ہے کہ اکبر کے نو رتنوں میں بیربل ہی وہ کردار ہے کہ جس پر بہت سی کتابیں تحریر کی جاچکی ہیں، متعدد ڈرامے بن چکے ہیں اور اس سے منسوب جھوٹے سچّے واقعات کو لوگ آج بھی ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔

بیربل کا اصل نام مہیش درس تھا۔ وہ ہندوستانی ریاست ستیش گڑھ کے ضلع کینکر کے گاؤں، کاپسی میں پیدا ہوا۔ اس کی تاریخِ پیدایش کے بارے میں بھی اختلاف ہے، تاہم سولہویں صدی کے اوائل تا نصف پر بہت سے مورخین متفق ہیں۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ پیدایش کے بارے میں ایک اور روایت یہ ہے کہ وہ شہر ٹہر، بندیل کھینڈ میں پیدا ہوا۔ کہتے ہیں کہ بچپن ہی سے حافظہ غیرمعمولی اور ذہن عام بچّوں سے ہٹ کر تھا۔ پانچ برس کی عمر میں باپ نے مکتب میں بٹھا دیا۔ ابتدائی مدارج طے کرکے دسویں برس کو پہنچا، تو ذہانت اور سُوجھ بوجھ اس درجہ کمال پر پہنچ چکی تھی کہ شہر کے اتالیق اُسے پڑھانے اور سکھانے سے عاجز آچلے۔ 

بہرطور، مروّجہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ اُس زمانے کے رواج کے مطابق فنِ سپہ گری میں بھی محض ڈیڑھ برس کے اندر وہ مہارت حاصل کی کہ شہر کے تمام تیر اندازاور نیزہ باز اُس کے معترف ہوگئے۔ تیر اندازی اور نیزہ بازی میں مہارت کے سفر کو اسی طرح جاری رکھنے کے لیےفوج میں بھرتی ہونے کے لیے باپ سے اجازت طلب کی، تو باپ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’حرب و ضرب کے مظاہرے تو راجپوتوں کے لیے ہیں، برہمنوں کو تو پڑھنے اور علم حاصل کرنے کی لگن ہوتی ہے، لہٰذا یہ خیال دل سے نکال دو۔‘‘ بیربل نے باپ کی یہ بات سننے کے بعد کہا کہ ’’توپھر بابا! میں نے سنا ہے کہ کانشی (الٰہ آباد) میں بڑے بڑے پنڈت ہیں۔ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اُن کے درمیان بیٹھ کر ودّیا (علم و فن) حاصل کروں۔‘‘ اب باپ کے پاس انکار کی گنجایش نہ تھی، نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹے کو خود سے دُور اس طرح کرنا پڑا کہ اسے خود الہ آباد چھوڑ آئے۔ یہاں سے نیا سفر شروع ہوا اور بیربل اساتذہ کی رہنمائی میں جلد ہی بہت سے علوم میں طاق ہوتا چلا گیا۔ کہتے ہیں کہ بیربل نے پنڈتوں کے پاس لگ بھگ پانچ برس گزارے۔ اسی اثناء میں باپ کا بھی انتقال ہوا،جس کا بیربل کو بہت صدمہ تھا۔ باپ کے انتقال کے بعد بیربل اپنی ماں کے پاس واپس آگیا۔ کچھ دن بعد اکبر آباد پہنچا اور عربی و فارسی کی مبادیات سے واقفیت حاصل کی۔ 

اسی دوران ایک دن بیمار ہوا۔ علالت نے طول پکڑا، تو اسے علاج کی غرض سے وہاں کے ایک مشہور حکیم ’’بنیا‘‘ کے پاس لے جانے والے نے حکیم کے سامنے بیربل کی ذہانت، ہنرمندی اور لیاقت کی تعریف کی اور اس کی علالت سے متعلق بتایا، تو حکیم نے ایک مُجرّب دوا دیتے ہوئے کہا کہ ’’بیماری کی وجہ محض ضُعفِ دماغ ہے اور اس کا سبب حد سے زیادہ محنت ہے، اس دوا کے استعمال سے تم چند ہی دن میں بھلے چنگے ہوجاؤگے۔‘‘ بہرحال، حکیم کی تشخیص کارگر رہی اور بیربل تندرست ہوگیا۔ حکیم کا ملنا جُلنا راجا ٹوڈرمل سے تھا۔اُسی حکیم کی مہربانی سے بیربل کو راجا ٹوڈرمل تک رسائی حاصل ہوئی۔ راجا ٹوڈر مل خود ایک غیر معمولی آدمی یوں تھا کہ شہنشاہ اکبر کے دربار سے بحیثیت مشیر خزانہ اس کی وابستگی تھی۔ 

بیربل کی گفتگو اور اُس میں ذہانت کی چمک دیکھ کر ٹوڈرمل بہت محظوظ ہوا۔ اُسے بیربل اس حد تک پسند آیا کہ اُس نے اپنی مصاحبت میں رکھ لیا۔ چند ہی دنوں میں یہ خبر شہنشاہ اکبر تک اس طرح پہنچی کہ ٹوڈرمل نے ایک ایسے نوجوان کو اپنی مصاحبت میں رکھا ہے، جو بہت سے علوم و فنون میں کامل ہونے کے ساتھ حاضر جواب اور غیر معمولی حد تک ذہین بھی ہے۔شہنشاہ اکبر نے ٹوڈرمل کو حکم دیا کہ لڑکے کو دربار میں حاضر کیا جائے۔ اگلے دن بیربل کی اکبر کے دربار میں پیشی تھی۔ بیربل نے اپنی ذہانت بروئے کار لاتے ہوئے بادشاہوں کے حُضور پیش ہونے کے جملہ لوازم ذہن نشین کرلیے اور جب دربار میں حاضری دی، تو اُن اُمور کو آدابِ دربار کے عین مطابق پورے طور پر انجام دیا۔ 

گفتگو بھی اتنی نپی تُلی کی کہ اکبربادشاہ گویا جھوم جھوم اٹھا۔ عنایتِ خُسروانہ جوش میں آئی اور یوں شہنشاہ اکبر نے مرحمتِ خاص کے تحت نہ صرف یہ کہ اعزاز و خلعت سے سرفراز کیا کہ بلکہ فرمانِ شاہی کے تحت دربار کے مستقل ارکان میں جگہ کا سزاوار بھی ٹھہرایا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا رہا،بیربل اپنی ذہانت، معاملہ فہمی، دُوراندیشی اور حاضر جوابی سے بادشاہ کے اس حد تک نزدیک ہوا کہ وہ اپنے دیگر مصاحبین پر بیربل کو فوقیت دینے لگا۔ بیربل کی یہ آن بان دیکھ کر دوسرے درباری اُس سے جلنے لگے اور اس کوشش میں رہنے لگے کہ بادشاہ کو بیربل کے خلاف کردیا جائے۔ تاہم، ایسی کوئی کوشش کام یاب نہ ہوئی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بیربل بادشاہ کے نزدیک تر ہونے لگا۔

ایک دوسری روایت کے مطابق بیربل بنارس کے رہنے والے بھاٹ خاندان میں پیدا ہوا۔ (زیادہ تر مورّخین اس روایت کو معتبر قرار دیتے ہیں)ایک ہندی مثل بھاٹ کو کچھ یوں بیان کرتی ہے’’بھاٹ، بھٹیاری، بیسوا، تینوں جات کجات..... آنے کا آدر کریں، جاتے نہ پوچھیں بات۔‘‘مطلب یہ کہ متذکرہ تینوں گروہ مطلب پرست ہوتے ہیں۔ فائدے کی اُمید پر آنے والے کی خاطر تواضع کرتے ہیں، مگر واپسی کے وقت قطعاً پروا نہیں کرتے۔ ہندی میں بھاٹ خوشامدی، گیت گانے والے یا ایسے شخص کو بھی کہا جاتا ہے کہ جس کا کام خاندانی شجرے یاد رکھنا اور شادی بیاہ کے موقعے پر لوگوں کو سنانا ہوتا ہے۔جب بیربل پیدا ہوا، تو باپ نے اپنے سب دوست جمع کیے اور خوب جشن منایا۔اُس زمانے کے دستور کے مطابق ایک برہمن کو بلا کر بیربل کا زائچہ نکلوایا گیا۔ زائچے کی رُوسے باپ کو بتایا گیا کہ تمہارا بیٹا بہت خوش قسمت ہوگا کہ ایک عظیم الّشان حکومت کے معاملات کو چلانے میں اُس سے مدد لی جایا کرے گی اور بیربل کا نام اُس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لیا جایا ئے گا۔جشن میں شامل لوگ اس بات کو یوں سمجھے کہ یہ سب کچھ بیربل کے باپ کو خوش کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ 

وہ یہ بھی خیال کرتے تھے کہ بھلا ایک بھاٹ کی اولاد کسی عظیم الّشان حکومت کو چلانے میں کیا مدد کر سکے گی۔ بچّے کی پرورش شروع ہوئی۔ بیربل خداداد ذہانت لے کر پیدا ہوا تھا۔ چھوٹی سی عُمر ہی میں خُوب خُوب باتیں کرتا اور سوال کرنے والوں کو بہت حاضر جوابی اور ذہانت سے جوابات دیتا۔ باپ نے اُسے بہت سے ایسے اشعار یاد کروادیے، جو اُمراء کے سامنے پڑھے جاتے۔ بچّے کا حافظہ غضب کا تھا۔ باپ سے جو کچھ سنتا، یاد ہوجاتا۔ یوں باپ نے اُسے اُمراء کی محفل میں لے جانا شروع کیا، جہاں بیربل اُن کی شان میں بہت عُمدگی سے اشعار پڑھتا اور وہ خوش ہوکر انعام سے نوازتے۔ اس کا اندازِبیان اتنا دل کش ہوتا کہ لوگ اُس میں کھو کر رہ جاتے۔ یوں کچھ ہی عرصے میں اس نے باپ کو اچھا خاصا کما کر دے دیا۔ گویا پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آنے لگے تھے۔ اب بیربل کے باپ کی خواہش ہوئی کہ کسی ایسی جگہ جایا جائے کہ جہاں کے اُمراء اور رؤساء نوازنے میں اپنی مثال آپ ہوں۔ سو، بنارس سے لکھنؤ کا سفر اختیار کیا۔ بیربل کو اشعار پڑھتے پڑھتے اس حد تک مہارت حاصل ہوچکی تھی کہ اب وہ خود بھی طبیعت کے مطابق شعر موزوں کرنے لگا تھا۔ اہلِ لکھنؤ تو یوں بھی فن کے قدردانوں میں تھے۔ بیربل کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہاں کچھ وقت گزارنے پر باپ، بیٹے کے پاس خاصا سرمایہ جمع ہوگیا۔ بیربل کو اب لوگوں کی جھوٹی تعریفیں ناگوارِ خاطر ہوتیں۔ وہ تعلیم پانے کے لیے بے چین رہتا۔ لکھنؤ ہی کا ذکر ہے کہ وہ بیٹے کے ساتھ شاہ راہ پر موجود تھا کہ ایک امیر شخص کی سواری گزری۔ باپ نے بلند آواز سے اُس کی شان میں اشعار پڑھے۔ تاہم، وہ امیر شخص تعریف سے بے نیاز رُکے بغیر آگے بڑھ گیا۔ 

باپ نے بیٹے سے کہا کہ ’’اگر تم بھی آواز میں آواز ملاتے، تو امیر شخص کے کانوں میں ضرور جاتی اور اچھی خاصی رقم ہمارے ہاتھ آجاتی۔‘‘ لڑکپن سے نوجوانی کی عُمر میں قدم رکھنے والے بیربل نے کہا کہ ’’اب مجھے اس کام سے گِھن آتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سنسکرت، عربی اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پیسے کماؤں۔‘‘ باپ اُس وقت تو کچھ نہ بولا، مگر سمجھ چکا تھا کہ بیٹا اب اس کام میں دل چسپی نہیں لے گا۔ کچھ ہی عرصے بعد باپ کا انتقال ہوگیا، تو بیربل نے لاہور میں ایک پنڈت سے سنسکرت کی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ کہتے ہیں کہ اُس زمانے میں پنڈت، سوائے برہمن کے کسی اور کو سنسکرت کی تعلیم نہیں دیا کرتے تھے۔ بیربل نے خود کو برہمن بتاکر تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ پنڈت سُندر لال بہت سخت مزاج کا حامل تھا۔ 

گرچہ وہ بیربل کی ظرافت اور بذلہ سنجی سے محظوظ تو ہوتا، تاہم اُسے کسی بنیاد پر شک ہوا کہ بیربل برہمن نہیں ہے۔ سُندر لال نے تہیّہ کرلیا کہ وہ بیربل سے اس بارے میں سچ اُگلوا کرہی رہے گا۔ اسی اثناء میں بیربل نے حیرت انگیزطور پر سنسکرت پر اتنا عبور حاصل کرلیا کہ اُسے استاد کی ضرورت نہ رہی۔ آخر وہ دن آہی گیا جب سُندر لال نے شاگرد سے کہا کہ ’’استاد کا شاگرد پر جو حق ہوتا ہے، اُس کا واسطہ دے کر تم سے دریافت کرتا ہوں کہ سچ سچ بتاؤ تم برہمن ہو یا نہیں؟‘‘ بیربل نے چند لمحوں کا توقف کیا اور بالآخر استاد پر منکشف کردیا کہ وہ برہمن نہیں ہے۔ استاد کو شاگرد کی راست بازی پر خوشی تو ہوئی،تاہم شاگرد کو تاکید کر دی کہ کسی سے بھی میری استادی کا ذکر نہ کرنا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اب تعلیم دینے سے قاصر ہے۔ 

کہتے ہیں کہ اس واقعے کے ایک آدھ ماہ کے اندر ہی سُندر لال اپنے مکان کی چھت کے نیچے دب کر انتقال کرگیا۔ بیربل کو اُس کی موت کا بہت دُکھ ہوا، کیوں کہ اُس نے سُندرلال ہی سے سنسکرت زبان کی کُل مہارت حاصل کی تھی۔اب بیربل نے اکبر آباد کا قصد کیا۔ یہاں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصے بعد سرکاری فوج میں بھرتی ہوگیا۔ گرچہ وہ شمشیر زنی اور نیزہ بازی کے فن سے واقف تھا،تاہم علمی لیاقت کے سبب اسے فوج کی تن خواہ تقسیم کرنے پر مامور کیاگیا۔اُس کی سوجھ بوجھ، لیاقت اور دیانت نے اُس کے افسران اور ماتحتوں میں اُس کے لیے اپنائیت کا احساس پیدا کر دیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن بیربل کے افسر، خان احمد پر اُس کے گھوڑے نے اچانک حملہ کردیا۔ 

خان احمد حملے کے لیے قطعاً تیار نہ تھا۔ سو، بری طرح زخمی ہوگیا۔ قریب تھا کہ اُس کی جان چلی جاتی کہ بیربل وہاں آنکلا اور بہت بہادری اور بے خوفی سے اپنے افسر کو سرکش گھوڑے کے حملوں سے بچایا۔ افسر نے اس کے صلے میں اعلیٰ حکّام سے سفارش کرکے دفع داری کا عہدہ دلوا دیا۔ یہیں سے بیربل کو شہنشاہ اکبر سے قُربت نصیب ہونا شروع ہوئی، جس نے دیکھتے دیکھتے اُن کے مابین ایک نہ ختم ہونے والا تعلق قائم کردیا۔ بیربل اپنی ذہانت، لیاقت، معاملہ فہمی،حاضر جوابی اور طبیعت کی شگفتگی کے باعث شہنشاہ اکبر کے نزدیک ہوتا چلا گیا۔ پھر تو یہاں تک نوبت آگئی کہ اکبر کو بیربل کے بغیر ایک لمحہ بھی شاق گزرتا۔ سرکاری اُمور کی انجام دہی کے بعد جب شہنشاہ اکبر سیرو تفریح اور شکار کے لیے نکلتا، تب بھی بیربل کی ہم راہی میسّر آتی اور یوں اکبر کا وقت بہت اچھے انداز میں بسر ہوتا۔ اکبر یوں تو اپنے نو رتنوں پر اعتماد کیا کرتا، تاہم بیربل سے اُس کو خاص اُنسیت رہتی۔

کہتے ہیں کہ ایک دن اکبر اپنے شاہی باغ کی سیر کر رہا تھا۔ صُبح کا وقت تھا، شہنشاہ کی طبیعت ترو تازہ تھی، مصاحبین بھی ساتھ تھے۔ باغ میں رنگ برنگے پھولوں،درختوں کی شاخوں پر بیٹھے طُیور اپنی فطری راگنیوں سے وہاں موجود افراد کو فرحت و انبساط سے سرشار کر رہے تھے۔ باغ کی سیر کرتے کرتے اچانک شہنشاہ اکبر کو نہ جانے کیا خیال آیا کہ مصاحبین سے یوںگویا ہوا ’’دیگر پرندوں کی آوازیں تو اچھی لگ رہی ہیں، مگر کوّوں کی کائیں کائیں سماعت پر گراں گزر رہی ہے۔ کوئی ہے، جو ہمیں بتاسکے کہ اس وقت پورے آگرہ میں کتنے کوّے ہیں؟‘‘ مصاحبین نے ہاتھ جوڑ لیے اور کہا کہ ’’حُضورِ والا! یہ سوال انسانی استطاعت سے باہر ہے،کیوں کہ کوّوں کو گننا ممکن ہی نہیں۔‘‘ تاہم، بیربل نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور آگے بڑھ کر کہا ’’جہاں پناہ! میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آگرے میں اس وقت کتنے کوّے ہیں۔‘‘ 

اکبر کو اوّل تو حیرانی ہوئی کہ جس سوال کے جواب پر سب نے عاجزی کا اظہار کیا، بیربل نے فوری طور پر اُس کا جواب دینے کی بات کی ہے۔ اُس نے بیربل سے کہا کہ ’’بیربل! یاد رکھو، اگر تمہاری بتائی ہوئی تعداد سے کم کوّے پائے گئے، تو تمہیں سزا بھی مل سکتی ہے۔‘‘ حاضر جواب بیربل نے کہا ’’حضورِ والا! اس گھڑی آگرے میں تیس ہزار دو سو پچاس کوّے موجود ہیں۔‘‘ بادشاہ نے حیران ہوکر کہا ’’بیربل! تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟اگر تمہاری بتائی ہوئی تعداد سے کم تعدادنکلی تو سزا کے لیے تیار رہنا۔‘‘ بیربل نے کہا ’’حضورِ والا! آپ کوّوں کی گنتی کروالیں، اگر میری بتائی گئی تعداد سے کم پائے گئے، تو سمجھ لیجیے گا کہ آگرے کے کوّے اپنے رشتے داروں سے ملنے آگرے سے باہر گئے ہیں اور میری تعداد سے زیادہ ہوئے، تو سمجھیں کہ آگرے میں رہنے والے کوّوں سے ملنے اُن کے رشتے دار کوّے باہر سے آئے ہیں۔‘‘ شہنشاہ اکبر نے بیربل کی اس حاضر جوابی سے خوب لُطف لیا۔

شہنشاہ اکبر تک بیربل کی رسائی کی ایک اور روایت بھی ایک قصّے کے طور پر کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ جب بیربل لکھنؤ، لاہور اور اکبر آباد سے گھومتا گھماتا عالمِ بے روزگاری میں دہلی آیا، تو وہاں کسی بازار میں تنبولی یا پان بیچنے والے سے ملاقات ہوئی،جو اتفاق سے اُسی کے گاؤں کا تھا۔ دونوں گزری باتوں کو یاد کرنے لگے۔ بیربل نے سوچا کہ چلو پردیس میں کوئی تو اپنے وطن کا رہنے والا نصیب ہوا۔ 

اب بیربل روزانہ پنواڑی کی دُکان پر کچھ وقت گزارنے لگا۔ ایک دن شہنشاہ اکبر کا ملازم درباری لباس زیبِ تن کیے اُسی دُکان پر آیا اور آدھا سیر چُونا طلب کیا۔ بیربل جو وقت گزاری کے لیے وہاں موجود تھا،ملازم سے دریافت کر بیٹھا کہ ’’اتنا چونا کس کے لیے لے جارہے ہو؟‘‘ اُس نے بتایا کہ ’’ظلِ سبحانی (اکبر بادشاہ)نے حُکم دیا ہے۔‘‘ بیربل نے استفسار کیا ’’تم بادشاہ کے دربارمیں کس خدمت پر مامور ہو؟‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’میں ظلّلِ سبحانی کو گلوریاں بنا کر پیش کرتا ہوں۔‘‘ بیربل نے مزید دریافت کیا کہ ’’جب بادشاہ نے چونا لانے کا حکم دیا، تو خوش تھے یا ناراض؟‘‘ ملازم نے کہا ’’ناراض تھے۔‘‘ یہ سن کر بیربل نے ملازم کو مشورہ دیا کہ ’’بھائی! اگر جان پیاری ہے، تو چونے کے بجائے بادشاہ کی خدمت میں دہی لے جاؤ۔‘‘ ملازم پہلے تو ہنسا کہ شاید بیربل نے یوں ہی کوئی بات کہہ دی ہے، مگر جب بیربل نے زور دیا، تو وہ پریشان ہوا اور کہا ’’میں دہی کیوں لے جاؤں، مجھے چُونا لانے کا حکم ہے۔‘‘ بیربل نے بے زاری سے کہا ’’اگر تم نے مرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے، تو چونا لے جاؤ،مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ ملازم نے اُلجھن کے عالم میں پنواڑی کی دُکان چھوڑ کر برابر کی دُکان سے دہی لیا اور دربار پہنچ گیا۔ اکبر نے دریافت کیا کہ چونا لے آئے اور جب ملازم نے اثبات میں جواب دیا، تو شہنشاہ اکبر نے گرج کر حکم دیا کہ ’’اسے کھالو۔‘‘ ملازم پہلے تو یہ حکم سُن کر لرز اٹھا، تاہم دل ہی دل میں خدا کا شُکر ادا کر کے دہی کا پورا کٹورا منہ سے لگالیا۔ بادشاہ نے اُسے اپنے گھر چلے جانے کا حکم دے کر دربار برخاست کر دیا۔ 

اگلے دن بادشاہ نے ملازم کا حال جاننے کے لیے اپنے خدمت گاروں کو اُس کے گھر دوڑایا۔ خدمت گاروں نے بادشاہ کو واپس آکر اطلاع دی کہ وہ ملازم تو اپنے کام کاج میں مصروف ہے۔ اکبر بادشاہ کو یقین نہ آیا کہ ایک شخص آدھا کلو چونا کھا کر بھی کس طرح بھلا چنگا ہے۔ اُس نے ملازم کو فوری طور پر اپنے دربار میں طلب کیا اور پوچھا کہ ’’تم اتنا چُونا کھانے کے بعد بھی اب تک کسی طرح کی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوئے۔ اس کا سبب بتاؤ؟‘‘ ملازم نے جان کی امان دی جانے پر دُکان پر بیربل سے ملاقات اور اُس کے مشورے کا ذکر کیا۔ شہنشاہ اکبر یہ سن کر دنگ رہ گیا۔ اُس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ دُکان پر موجود شخص کو کیسے یہ اندازہ ہوا کہ مَیں ملازم سے چونا منگوا کر کیا کرنا چاہتا ہوں اور اُسے کیوں کر یہ پتا چل گیا کہ چونا لے جانے کی صورت میں ملازم کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ 

بادشاہ نے ملازم سے کہا کہ ’’فوری طور پر جاؤ اور اُس شخص کو دربار میں لے کر آؤ۔‘‘ ملازم دوڑا اور جونہی دُکان پر پہنچا،بیربل نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا کہ ’’کیوں ظّلِ سبحانی نے ہمیں دربار میں طلب کیا ہے؟‘‘ ملازم ایک بار پھر ہکّا بکّا رہ گیا کہ اِسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ بادشاہ نے اُسے دربار میں طلب کیا ہے؟ بیربل نے اُس سے کہا کہ ’’میں کسی معمولی خدمت گار کے کہنے پر بادشاہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوسکتا۔ مَیں ایک آزاد شخص ہوں۔‘‘ ملازم نے واپس دربار پہنچ کر بادشاہ کو بیربل کے انکار کی بات بیان کردی۔ اس مرتبہ بادشاہ نے شاہی نقیب اور چوب دار کو ملازم کے ساتھ روانہ کیا، مگر وہ بھی ناکام واپس آئے۔ اب بادشاہ سمجھ گیا کہ ایک انتہائی زیرک اور ہوشیار شخص سے اس کا پالا پڑا ہے۔ وہ اُسے اپنے دربار طلب کرنے اور عُمدہ منصب دینے کے لیے بے چین ہوگیا، مگر سب سے بڑا تجسّس یہ تھا کہ بیربل کو بادشاہ کے ارادوں کا علم کیسے ہوجاتا ہے؟ اس مرتبہ بادشاہ نے شاہی سواری اس شان کے ساتھ بازار روانہ کی کہ منادی کرنے والا کہتا جاتا کہ ’’بادشاہ سلامت نے حضرت بیربل کو شاہی دربار میں بہت عزّت و احترام سے طلب کیا ہے۔‘‘ یوں بیربل دربار میں داخل ہوا، تو وہاں موجود ہر شخص مع شہنشاہ اکبر، احتراماً اُس کی آمد پر کھڑے ہوگئے۔ 

اس موقعے پر بیربل نے شاہی آداب ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بادشاہ کو بہت خُوب صُورت کلمات سے سلام کیا۔ بادشاہ نے دریافت کیا کہ ’’بیربل! تم کہاں کے رہنے والے ہو اور اس جگہ کیوں کر آئے؟‘‘ بیربل نے مودّبانہ عرض کیا ’’خادم ایک مسافر ہے اور تلاشِ روزگار یہاں تک لے آئی ہے۔‘‘ شہنشاہ اکبر نے کہا کہ ’’مگر ہم تو اس بات پر خفا ہیں کہ گزشتہ روز تم نے ہمارے خدمت گار کو ہمارے حکم کی تعمیل سے روکا۔ تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘بیربل نے جواب میں کہا،’’حضورِ والا کو خادم نے ایک بے گناہ کی جان لینے سے روکا۔‘‘بادشاہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’مگر تمہیں ہمارے ارادوں کا علم کیوں کر ہوا؟‘‘بیربل گویا ہوا، ’’جہاں پناہ! جب میں نے خدمت گار سے استفسار کیا کہ اتنا زیادہ چُونا کیوں لے جارہے ہو، تو اُس نے آپ کا نام لیا۔ میں نے اُس پر دریافت کیا کہ تم بادشاہ کے دربار میں کس خدمت کی انجام دہی پر مامور ہو، تو اُس نے کہا کہ وہ بادشاہ سلامت کو گلوریاں بنا کر پیش کرتا ہے۔ بس، وہیں سے مجھے اندازہ ہوا کہ خدمت گار نے پان میں چُونے کی آمیزش زیادہ کی، جس سے حضور کی زبان کٹ گئی اور جہاں پناہ نے شدید غصّے کے باعث اُسی چونے سے خدمت گار کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ سو، میں نے خدمت گار کو چونے کی جگہ دہی لے جانے کا مشورہ دیا۔ دراصل اس طرح میں نے ایک کو قاتل ہونے اور دوسرے کو مقتول ہونے سے بچایا۔‘‘ شہنشاہ اکبر نے بیربل کی ایسی غیر معمولی ذہانت کی بات سُن کر آگے بڑھ کر بیربل کو گلے لگالیا اور بعدازاں اپنے دربار کا ایک مستقل رُکن بنالیا۔

شہنشاہ اکبر کا یہ حال تھا کہ بیربل کو ہر وقت خود سے قریب رکھتا۔ دیکھنے والے یوں محسوس کرتے کہ بیربل کے بغیر شہنشاہ اکبر کا گویا دل ہی نہیں لگتا۔ تاہم، وہ بیربل کہ جس کے بغیر اکبر کو کسی پَل چین نہ ملتا،بہت دردناک انجام سے دوچار ہوا۔ کہتے ہیں کہ افغانوں سے مقابلے کے لیے اکبر نے اپنے بہت کام یاب سپہ سالار، زین خان کو روانہ کیا۔ اُس نے ایک حد تک تو مقابلہ کیا،مگر شہنشاہ اکبر کو مراسلہ بھیجا کہ مجھے مزید کمک کی ضرورت ہے۔ اپنی خدمات پیش کرنے والوں میں بیربل بھی تھا۔ بادشاہ اُسے خود سے جدا تو نہ کرنا چاہتا تھا،تاہم کسی جوتشی یا نجومی نے یہ کہہ دیا کہ یہ مہم بیربل کے بغیر سَر نہ ہو پائے گی۔ اب تو بیربل کو جانا ہی تھا۔ تاہم،جنگی چالوں سے ناواقف بیربل اور اُس کی افواج کو بلند پہاڑوں کے درمیان افغان فوجوں نے گھیرلیا، یوں اکبر کا سب سے چہیتا ’’نورتن‘‘ جنگ میں کام آگیا۔ مورّخین نے بالاتفاق تحریر کیا ہے کہ جب شہنشاہ اکبر کو بیربل کی موت کی اطلاع ملی، تو اُس کا غم سے عجیب حال ہوگیا۔ وہ کسی طور بھی اس خبر پر یقین کرنے کو آمادہ نہ ہوتا تھا۔ حالت یہ ہوئی کہ اکبر نے سوگ میں دو دن تک کچھ نہ کھایا۔ شہنشاہ اکبر کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ اگر کوئی اطلاع دیتا کہ اُس نے بیربل کو فلاں مقام پر دیکھا ہے، تو اکبر فوری طورپر وہاں ہرکاروں کو بھیجتا کہ جاکر بیربل کو واپس لاؤ۔ کہتے ہیں کہ اکبر کی بیربل کی جدائی کے بعد کی ساری زندگی بہت الم ناک گزری۔ ’’دربارِ اکبری‘‘ مولانا محمد حسین آزاد کی ایک اور بے مثل تصنیف ہے۔ 

اس کتاب میں اُنہوں نے عہدِ اکبر کے حالات بہت سی قدیم کتابوں کی مدد سے انتہائی تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ آزاد نے بیربل کے سلسلے میں’’مہیش داس راجہ بیربر‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے، ’’ان کا نام اکبر کے ساتھ اسی طرح آتا ہے، جیسے سکندر کے ساتھ ارسطو کا۔ لیکن جب اُن کی شہرت کو دیکھ کر حالات پر نظر کرو، تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبال، ارسطو سے بہت زیادہ لائے تھے۔ اصل کو دیکھو، تو بھاٹ تھے۔ علم و فضل کو خود ہی سمجھ لو کہ بھاٹ کیا اور اُس کے علم و فضل کی بساط کیا۔ کتاب تو بالائے طاق رہی، آج تک ایسا اشلوک نہیں دیکھا، جو گُنوان پنڈتوں کی سبھا میں فخر کی آواز سے پڑھا جائے۔ ایک دُہرا نہ سنا کہ دوستوں میں دُہرایا جائے۔ لیاقت کو دیکھو، تو ٹوڈرمل کُجا اور یہ کُجا۔ مُہمّات اور فُتوحات کو دیکھو، تو کسی میدان میں قبضے کو نہیں چُھوا۔ اُس پر یہ عالم ہے کہ سارے اکبری نورتن میں ایک دانہ بھی اُن کے قدر و قُربت سے لگّا نہیں کھاتا۔ ‘‘