آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر سیّد عاقل شاہ 13 فروری، 1950ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ والد، لالہ ایس ایم ایوب ’’خدائی خدمت گار تحریک‘‘ کے سرگرم رہنما اور خان عبدالغفار خان کے دستِ راست تھے۔ انگریز حکومت نے 1930ء میں اُنھیں مُلک بدر کیا، تو افغانستان چلے گئے اور 1936ء کے برلن اولمپکس میں افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ہاکی کھیلی۔ وطن واپسی پر 1938ء میں گرینز ہوٹل کی تعمیر شروع کی، جو اُس وقت مسلمانوں کا پہلا ہوٹل تھا۔ 

سیّد عاقل شاہ نے برن ہال اسکول ایبٹ آباد، کیڈٹ کالج، حسن ابدال اور گورنمنٹ کالج، لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ 1970ء میں عوامی نیشنل پارٹی کے رُکن کی حیثیت سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ 1986ء میں کنٹونمنٹ بورڈ ،پشاور کے رُکن منتخب ہوئے۔ 1988ء کے انتخابات میں اے این پی کے پلیٹ فارم سے حصّہ لیا، لیکن کام یاب نہ ہوسکے۔ 

البتہ 3مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈ کا الیکشن ضرور جیتا۔ 1997ء میں اے این پی کی جانب سے سینیٹر بنائے گئے۔ قائمہ کمیٹی برائے ثقافت، اسپورٹس، ٹورازم اور خواتین کی ترقّی کے رُکن رہے۔ 2002ء کے انتخابات میں خود تو حصّہ نہیں لیا، تاہم اہلیہ، فرح عاقل شاہ اے این پی کے ٹکٹ پر رُکن خیبر پختون خوا اسمبلی بنیں۔2008ء کے انتخابات میں کام یابی ملی، تو صوبائی کابینہ میں کھیل و ثقافت کے محکموں کا قلم دان سونپا گیا۔ دو مرتبہ اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر، چار مرتبہ صوبائی سینئر نائب صدر، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات رہے۔

اِن دنوں اے این پی کے مرکزی سیکرٹری برائے فارن افیئرز کی حیثیت سے خدمات سَرانجام دے رہے ہیں۔ دو مرتبہ اولمپکس، تین بار سیف گیمز اور ایک مرتبہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرچُکے ہیں، جب کہ پاکستان اولمپکس ایسویسی ایشن کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔ سیّد عاقل شاہ نے گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ، پشاور کے دفاتر کا دورہ کیا، اس دوران اُن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا احوال نذرِ قارئین ہے۔

س: خیبر پختون خوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی پارٹی مسلسل دوسری بار برسرِ اقتدار آئی،تو کیا تحریکِ انصاف کی کارکردگی سابقہ حکومتوں سے بہتر ہے؟

ج: دیکھیں جی! پختون بے حد سادہ ہیں، اسی لیے آسانی سے دھوکے میں آ جاتے ہیں۔ ہمارے صوبے کو کبھی اسلام، کبھی شخصیت پرستی اور کبھی تبدیلی کے نام پر دھوکا دیا گیا۔ جس کسی نے کوئی خوش نُما نعرہ بلند کیا، عوام اُسی کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ جہاں تک تحریکِ انصاف کا تعلق ہے، تو اس نے نہ صرف خیبر پختون خوا بلکہ مُلک بھر کے عوام کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ 

عوام کو انتخابات سے قبل جو سبز باغ دِکھائے گئے، وہ کہاں ہیں؟ کہاں ہے احتساب؟ کہاں ہیں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ مکانات؟ کہاں ہیں غیر مُلکی سرمایہ کاروں کی قطاریں؟ اپنے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے نااہلوں کی حکومت نے مُلک کی معیشت تباہ کرکے لاکھوں افراد کو بے روزگار اور گھروں کے چولھے ٹھنڈے کردئیے۔ 

بدقسمتی سے آج بڑے عُہدوں پر پارلیمانی آداب سے عاری لوگ براجمان ہیں، جو مُلک کے لیے ناسور بن چُکے ہیں۔دراصل، عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہیں، جو جمہوری اقدار اور سویلین بالادستی کےخلاف ایک مُہرے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ کرپٹ افراد نہ صرف پی ٹی آئی میں جمع ہوچُکے ہیں، بلکہ وہاں پناہ لینے کے بعد صاف و شفّاف بھی قرار پائے ہیں۔ ہم باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک کے امین ہیں۔ 

ہم نے ایسے ادوار کئی بار دیکھے ہیں اور اِن نااہلوں کا دَور بھی گزر جائے گا۔ پختونوں کی اپنی روایات ہیں اور ہمارے ہاں مخالفت کرنے کا بھی اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک منفرد انداز ہے، مگر پی ٹی آئی ان روایات سے نابلد ہے۔ عمران خان نے افسوس ناک طور پر قومی سیاست میں گالم گلوچ اور جھوٹ شامل کر دیا ہے۔

تحریکِ انصاف نے قوم کو دھوکا دیا
دورانِ گفتگو سیّد عاقل شاہ کے ساتھ اے این پی جاپان کے صدر محمّد نعیم خان اور جنرل سیکریٹری محبوب علی خان بھی موجود ہیں

س: اپوزیشن جماعتیں2020ء کو تبدیلی کا سال قرار دے رہی ہیں، کیا واقعی مُلک میں مِڈٹرم انتخابات اور اِن ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان ہے؟

ج: مَیں شیخ رشید کی طرح کوئی سیاسی نجومی ہوں اور نہ ہی پاکستان کی سیاست کے حوالے سے کوئی پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ یہاں حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ مَیں ایک سیاسی گھرانے میں پیدا ہوا، باچا خان، ولی خان اور اسفندیار خان کی محفلوں میں بیٹھا ہوں، ان کے ساتھ وقت گزارا ہے، ہمارے قائدین اپنا نقصان کرلیتے ہیں، مگر جھوٹ نہیں بولتے، جو باتیں ہمارے قائدین نے40سال پہلے کیں، وہ آج سچ ثابت ہوگئی ہیں۔ 

عمران خان اور اُن کی جماعت نے مُلک کی سیاست کو آلودہ کردیا۔ اِس لیے مَیں اِتنا ضرور کہوں گا کہ 2020ء واقعی نااہلوں سے نجات کا سال ہے۔ اگر اِن سیلیکٹڈ حکم رانوں سے چھٹکارا نہ ملا، تو یہ قوم کی بدقسمتی ہی ہوگی، کیوں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مُلک10دن پیچھے جارہا ہے۔ انھیں بھی معلوم ہوچُکا ہے کہ 2020ء میں اُن کا جانا طے ہے، اِس لیے اُن کی کوشش ہے کہ مُلک کو اتنا مقروض کر دیا جائے کہ آنے والی حکومت صرف قرضے ہی اُتارتی رہے۔

س:وزیرِ اعظم نے مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلانے کی بات کی ہے، اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: مولانا فضل الرحمٰن نے تو صرف ایک بات کی ہے، مگر کپتان نے تو سِول نافرمانی کا اعلان کرکے پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا۔ اگر پھر بھی مولانا صاحب کے خلاف غدّاری کا مقدمہ چلایا جاتا ہے، تو وزیرِ اعظم خود پھنس جائیں گے۔ پاکستان کے میڈیا نے تحریکِ انصاف کو اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن آج عمران خان میں سچ سُننے کی ہمّت نہیں، اس لیے اپنے وزرا کو ٹی وی اور سوشل میڈیا سے دُور رہنے کی ہدایت کررہے ہیں۔

س: اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف نکلنے کا اعلان کیا ہے، کیا اس مرتبہ اپوزیشن متحد ہے؟

ج: پچھلی مرتبہ اپوزیشن جماعتوں کی بجائے صرف مولانا فضل الرحمٰن نے’’ آزادی مارچ‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ باقی جماعتوں کا خیال تھا کہ ابھی حالات سازگار نہیں، تاہم اِس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے مارچ میں تو بھرپور حصّہ لیا، البتہ دھرنے میں شرکت نہیں کی، لیکن اب حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مُلک کا ہر طبقہ پریشان ہے۔ 

منہگائی، بے روزگاری اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچُکا ، اِس لیے اگر اب اپوزیشن کسی احتجاج کی کال دے، تو عوام بھی سڑکوں پر ہوں گے۔ یوں سمجھیے، اگر خیبر پختون خوا سے گوادر تک تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوگئیں، تو ایک ہفتے میں حکومت کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔

س: تحریکِ انصاف کی حکومت میں’’ جنگ‘‘ اور’’ جیو‘‘ گروپ کے ایڈیٹر انچیف، میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری، جیو نیوز کی بندش، کیا یہ آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغن نہیں؟

ج: تحریکِ انصاف نے نیب کو اپنی خدمت پر لگا رکھا ہے۔ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری سے ثابت ہوگیا کہ حکومت میں تنقید برداشت کرنے کا مادّہ ہی نہیں۔ اس لیےحکومت مخالف سیاست دان ہو یا صحافی، نیب کو اس کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ درحقیقت، میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کا مقصد جنگ اور جیو پر دباؤ ڈالنا ہے، کیوں کہ جنگ اور جیو حق، سچ اور انصاف کی بات کرتے ہیں۔ 

یہ حکومت کو آئینہ دِکھاتے ہیں، جو اُسے ناگوار گزرتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں، حکومت دھونس، دھمکی اور دباؤ کے ذریعے جنگ، جیو کو آزادانہ رپورٹنگ سے نہیں روک سکے گی۔ حکومت اِس طرح کے اقدامات سے میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری دیگر صحافتی اداروں کے لیے وارننگ ہے کہ حکومتی اقدامات کی تعمیل کریں۔ تاہم تاریخ گواہ ہے، صحافت پر وار کرنے کے بعد کوئی حکومت نہیں بچی۔

س:کھیلوں کے شعبے میں آپ کا وسیع تجربہ ہے، یہ بتائیے پاکستان میں یہ شعبہ کیوں زوال پذیر ہے؟

ج: کھیلوں کی زبوں حالی کی بڑی وجہ پاکستان اسپورٹس بورڈ ہے، بلکہ مَیں تو اسے ’’پاکستان اسپورٹس بلنڈر‘‘ کہتا ہوں، جس میں ہزاروں لوگ نوکری کر رہے ہیں، اس لیے 70فی صد بجٹ تو تن خواہوں کی ادائی پر خرچ ہوجاتا ہے، صرف 30فی صد بجٹ کھیلوں کے فروغ کے لیے بچتا ہے۔ پہلے جگہ جگہ ہاکی کے میدان ہوتے تھے، لیکن اب ہاکی ٹیرپ پر کھیلی جاتی ہے اور گراؤنڈز میں ٹیرپ نہ ہونے کی وجہ سے ہاکی محدود ہوتی جارہی ہے۔

س:کیا صوبے کے ٹیلنٹ کو بھرپور مواقع مل رہے ہیں؟اور کھیلوں کی ترقّی کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

ج : میرے خیال میں پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کوئی کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف پانچ نکات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں اسکولز کی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ، کوچنگ، گراؤنڈز، مقابلوں کا اہتمام اور سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں۔ دنیا میں اگر کسی مُلک کا کھلاڑی کوئی میڈل جیتتا ہے، تو نہ صرف پورا اسٹیڈیم کھڑا ہوجاتا ہے، بلکہ وطن واپسی پر فقید المثال استقبال بھی ہوتا ہے، مگر ہمارے مُلک کے کھلاڑی میڈل جیتنے کے بعد ائیر پورٹ سے رکشے یا ٹیکسی میں گھر جاتے ہیں اور بعدازاں روزی روٹی کے لیے ریڑھی لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ 

پہلے کھیلوں کے قومی مقابلے تواتر کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن میں اکثر آرمی پہلے، واپڈا دوسرے اور ریلوے کا تیسرا نمبر آتا تھا، لیکن اب سرکاری محکمے فنڈز کی کمی کو جواز بنا کر مقابلے نہیں کرواتے۔ اگر سی پیک رُوٹ پر جگہ جگہ اسپورٹس کمپلیکس قائم کیے جائیں، تو اولمپکس میڈل جیتنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ اولمپکس مقابلوں میں جو مُلک میڈل جیتتے ہیں، اُن کے صرف ایک کھیل کا بجٹ ہمارے پورے مُلک کے 10سالہ اسپورٹس بجٹ سے زیادہ ہے۔

س:آپ نے بحیثیت صوبائی وزیرِ کھیل، صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے؟

ج : 2008ء میں جب مَیں نے وزیرِ کھیل کی ذمّے داری سنبھالی، تو اُس وقت مختلف کھیلوں کے لیے سالانہ 50، 50 ہزار روپے مختص کیے جاتے تھے۔ ہم نے فنڈز میں اضافہ کرتے ہوئے فی کھیل 5لاکھ روپے مختص کیے، لیکن اب تو صوبائی حکومت پسند، نا پسند کی بنیاد پر فنڈز تقسیم کر رہی ہے۔ ایسی ایسوسی ایشنز کو بھی سرکاری فنڈز دئیے گئے ہیں، جن کا اولمپکس ایسوسی ایشن کے ساتھ الحاق تک نہیں۔ 

پہلے صوبے میں ایک ڈائریکٹر اسپورٹس ہوتا تھا، ہم نے کھیلوں کے فروغ کے لیے ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس کا عُہدہ قائم کیا، جس کے نیچے کئی ڈائریکٹرز کام کر رہے ہیں۔ نیز، صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسپورٹس کے شعبے میں انجینئرنگ ونگ قائم کیا۔ ہم نے شندور فیسٹیول بحال اور خان پور فیسٹیول کا آغاز کیا۔ 

کھیلوں کے میدان بنائے، حیات آباد، پشاور میں اسپورٹس کمپلیکس قائم کیا، ہمارے قائم کردہ ’’عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس‘‘ کا شمار مُلک کے بہترین اسپورٹس کمپلیکس میں ہوتا ہے۔ لالہ رفیق اسپورٹس ارینا بنایا۔ ثقافت کے فروغ کے لیے الگ ڈائریکٹریٹ قائم کیا۔ بد امنی کی وجہ سے نشتر ہال بند تھا، ہم نے اُس کی رونقیں بحال کیں۔ 

پشاور اور سوات کے میوزیم بہتر کیے۔ ہنڈ صوابی، مردان اور بنّوں میں نئے عجائب گھر قائم کیے۔ اُس وقت جب فضا میں بارود کی بُو تھی، روزانہ بم پھٹ رہے تھے، ہم نے دہشت گردوں کا مقابلہ کھیلوں کے میدان میں کیا اور دنیا کو بتایا کہ پختون امن پسند قوم ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید