آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عالمی آفات، وبائی امراض کے تناضر میں رزقِ حلال کی اہمیت

حافظ حسن عامر

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ’’احسنِ تقویم‘‘ یعنی بہترین سانچے میں ڈھال کر ممتاز ترین مخلوق بنا کر بھیجا۔ پھر مادّی اور روحانی ہر دو اعتبار سے اُس کی ہدایت و رہنمائی کا بھی انتظام فرمایا۔ اس رحیم وکریم نے انسان کی مادّی و جسمانی بقا کا انحصار غذا اور خوراک پر قائم فرمایا۔ نیز، غذا کے حصول کے لیے حلال اور پاکیزہ ذرائع اختیار کرنے کا بھی حکم دیا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’لوگو! زمین میں جتنی حلال اور طیّب(پاکیزہ) چیزیں ہیں، اُنہیں کھائو، پیو اور (دیکھو)شیطانی راہ پر نہ چلنا۔ (یاد رکھو) وہ تمھارا کُھلا دشمن ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت168)۔ غذا اگر حلال اور طیّب ہوگی، تو وہ نہ صرف جسمانی صحت، توانائی اور تن درستی کا باعث ہوگی، بلکہ ذہنی سکون، قلبی اطمینان اور روحانی آسودگی کا بھی سبب ہوگی۔ 

اس کے برعکس، رزق اگر حلال اور پاکیزہ نہ ہو، تو جہاں وہ مختلف جسمانی عوارض کا ذریعہ بنے گا، وہیں وہ غذا طبعی انتشار، ذہنی خلفشار، روحانی اضطراب اور اخلاقی پراگندگی کا موجب بھی ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر حلال اور طیّب کی قرآنی اصطلاحات کن معانی و مفاہیم سے عبارت ہیں؟ تو واضح رہے کہ حلال عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی جائز اور درست کے ہیں۔ اصطلاح میں وہ روزی ،جو جائز طریقے سے کمائی جائے ،حلال روزی ہے۔ 

اسی طرح طیّب بھی عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی پاک، پاکیزہ، عمدہ، نفیس اور پسندیدہ کے ہیں۔ اس طرح جائز اور حلال مال سے حاصل کی گئی وہ پاکیزہ اور نفیس غذا جسے شریعتِ مطہرہ نے صحیح اور درست قرار دیا ہو، رزقِ حلال و طیّب کہلاتی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ پاک اور لذیذ غذا جسے طبعِ سلیم اور فطرتِ سلیمہ قبول کرلے اور اس کے استعمال سے طبیعت میں کراہیت اور تنفّر پیدا نہ ہو، طیّب غذا کہلاتی ہے۔ قرآنِ کریم میں غیر حلال یعنی حرام، ناپاک، نجس اور اسی طرح غیرطیّب یعنی خبیث، مُہلک، موذی اور زہریلی چیزوں کے استعمال کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریمﷺ کے فرائضِ منصبی بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا’’(اور وہ پیغمبرﷺ) ان کے لیے طیّبات (پاکیزہ) چیزوں کو حلال اور خبیث(گندی چیزوں) کو حرام قرار دیتے ہیں‘‘( سورۃ الاعراف، آیت 157)۔ایک دوسرے مقام پر حق تعالیٰ شانہٗ طیّبات (یعنی حلال) اور خبائث کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ’’(اے محمّدﷺ) کہہ دیجیے، خبیث اور طیّب برابر نہیں ہوسکتے، گو کہ ناپاک کی کثرت بَھلی ہی لگتی ہو۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اے عقل مندو! تاکہ تم کام یاب ہو جاؤ‘‘(سورۃ المائدہ، آیت100)۔اِس آیت کی تفسیر کے ضمن میں مفسّرین لکھتے ہیں کہ ناپاک چیزسے منفعت اور برکت اُٹھا لی جاتی ہے، جب کہ طیّب یعنی پاک چیز میں منفعت اور برکت دونوں موجود ہوتی ہیں۔ رزقِ حلال میں منفعت اور برکت سے مُراد یہ ہے کہ وہ رزق ایسا ہو کہ اس میں مطلوبہ فوائد بھی ہوں اور نعمت کی فراوانی بھی۔ چناں چہ اِس تناظر میں کلام اللہ کی یہ آیت نہایت اہمیت کی حامل ہے’’(اے پیغمبرﷺ) !لوگ آپؐ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا کچھ حلال ہے۔ آپؐ کہہ دیجیے کہ تمام طیّبات(پاک چیزیں) تمھارے لیے حلال ہیں‘‘(سورۃ المائدہ، آیت 4)۔ سلیم فطرت افراد کی غذا کی مثال اصحابِ کہف کے واقعے سے سمجھی جاسکتی ہے۔ 

جب لگ بھگ تین سو سال کی نیند کے بعد وہ بیدار ہوئے اور بھوک محسوس ہوئی، تو اس بات کا خاص خیال رکھا کہ جو کھانا لینے شہر جائے، وہ حلال اور طیّب چیزوں میں سے نہایت پاکیزہ، نفیس، عمدہ اور لذیذ غذا(کھانا) تلاش کرکے لائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’تو اب اپنے میں سے کسی کو یہ روپیا دے کر شہر کی طرف بھیجو، سو وہ تحقیق کرے کہ کون سا کھانا(غذا) پاکیزہ ہے، پھر اس میں سے کچھ کھانا تمھارے لیے لے آئے‘‘(سورۃالکہف آیت ۱۹)۔ آیتِ مذکورہ میں غذا کے لیے’’ازکیٰ طعاماً‘‘ کے الفاظ قابلِ غور ہیں، یعنی حلال اور طیّب کھانوں میں سب سے زیادہ نفیس اور پاکیزہ رزق کی تلاش اہلِ حق کا شعار رہا ہے کہ جب بھی وہ اپنے لیے رزق کا انتخاب کرتے ہیں، تو حلال اور طیّب ہی کو تلاش کرتے ہیں، کیوں کہ رزق جس قدر حلال ہوگا، اتنی ہی اعمالِ صالحہ کی توفیق ہوگی۔ جیسا کہ باری تعالیٰ نے تمام انبیاءؑ اور رُسلؑ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ اے رسولوؑ!نفیس چیزیں کھائواور نیک عمل کرو ‘‘ (سورۃ المومنون، آیت51)۔اس آیت میں حق تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم السّلام کو حضرت آدم ؑ سے لے کر خاتم النبیّینؐ، حضرت محمدﷺ تک تمام کو رزقِ حلال کھانے کا حکم دے کر دراصل قیامت تک آنے والے انسانوں کو حلال اور طیّب رزق کے حصول کا پابند بنایا ہے۔

چوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت شفیق و مہربان ہے، اِس لیے قرآنِ کریم میں متعدّد مقامات پر اُن لوگوں کو بھی حلال اور طیّب رزق کی ترغیب دی ہے، جو ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ ور نہیں۔ اُنھیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگرچہ تم نے رُوح و قلب کی غذا، ایمان و ایقان کو فراموش کر دیا، مگر اپنے جسم و جان کی عافیت کے تقاضوں کو تو پامال نہ کرو اور حرام و ناجائز کا بے دریغ استعمال کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں، اُنھیں کھائو، پیو اور شیطانی راہ پر نہ چلو،وہ تمھارا کُھلا دشمن ہے، وہ تمھیں صرف برائی اور بے حیائی کا اور اللہ تعالیٰ پر اُن باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے، جن کا تمھیں علم نہیں‘‘(سورۃ البقرہ،آیت 168 ، 169)۔بعد ازاں،اللہ تبارک و تعالیٰ، صاحبانِ ایمان و ایقان کومخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تم تو حلال اور پاکیزہ غذا کو اپنا وظیفۂ زندگی بنالو اور اپنے ربّ کے شُکر گزار بن کر رہو۔ اپنی عبادت و بندگی کا رُخ اپنے خالقِ حقیق ہی کی طرف رکھو۔

واضح رہے، پاکیزہ چیزیں اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے بھی نہایت پاکیزہ ہوتی ہیں، جب کہ خبائث اور مشکوک اشیاء کو اللہ تعالیٰ نے اِس لیے بھی حرام قرار دیا کہ وہ اپنے نتائج و اثرات کے اعتبار سے نہ صرف نجس اور ناپاک، بلکہ مُہلک ثابت ہوتی ہیں۔جدید تحقیق کی رُو سے ثابت ہو چُکا ہے کہ وہ غذائیں، جو قرآن و سنّت میں حلال اور طیّب قرار دی گئی ہیں، انسانی صحت کے لیے انتہائی مناسب اور مفید ہیں، جب کہ ناپاک و نجس غذائیں، جن کی ممانعت کی گئی ہے، ان کے مضر اثرات اور نقصانات بھی دنیا پر عیاں ہو چُکے ہیں۔ذرا غور تو فرمائیے، چین میں ایک خطرناک وائرس نے جنم لیا، جسے’’ کورونا وائرس‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ مہلک، خطرناک اور موذی وائرس جو انسان کے لیے پیغامِ موت ثابت ہوا۔ ابتدائی معلومات بتاتی ہیں کہ اس کا ایک مارکیٹ سے، جو سمندری اور جنگلی جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے مشہور ہے، آغاز ہوا۔ اس مارکیٹ میں زندہ جنگلی جانور کھانے کے لیے فروخت کیے جاتے ہیں۔ حکومت کی پابندی کے باوجود چینی باشندے یہاں سے چمگادڑ، سانپ، چوہے اور دیگر اسی نوعیت کے جانور خرید کر کھاتے تھے۔

حقائق کچھ بھی ہوں، مگر یہ بات مسلّمہ ہے کہ انسان کے لیے رزق کا حلال اور پاکیزہ ہونا نا گزیر ہے۔باریِ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ خشکی اور تَری میں لوگوںکی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا ، اِس لیے کہ اُنھیں اُن کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھادے، بہت ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں ‘‘(سورۃ الروم، آیت41)۔اس آیتِ مبارکہ میں بحروبر میں فساد کا سبب انسان کے اعمال کو قرار دیا گیا ہے۔ فساد سے مُراد ہر وہ برائی اور بگاڑ ہے، جس کی وجہ سے انسانی معاشرے یا انسانی آبادی کا امن و سکون تہہ و بالا ہو جاتا ہو۔جب ایسا ہوتا ہے، تو پھر ارضی وسماوی آفات و مصائب بطورِ تنبیہہ نازل ہوتے ہیں۔مثلاً وبائی امراض، کثرتِ موت، قحط ، طوفان، سیلاب، ٹڈی دَل جیسی ناگہانی آفات انسانوں پر مسلّط کردی جاتی ہیں تاکہ غافل بندے نادم و شرمندہ ہوکر ربّ ِ حقیقی کی طرف رجوع کریں اور توبہ استغفار کرکے اُسے راضی کرلیں۔

سنڈے میگزین سے مزید