آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان عطیۂ خداوندی ہے ،جوبے شمارقدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان وسائل میں مختلف جڑی بوٹیاں بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے متعدّد امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔

ازمنۂ قدیم سے مختلف جڑی بوٹیوں کو بطور دوا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ ادویہ جینیاتی عناصر متحرک کرکے علاج معالجےمیںفائدہ مند ثابت ہوتی ہیں کہ ان عناصر کو متحرک کرنے کاکام جڑی بوٹیوں میں موجود ایک کیمیائی مادّے"phytochemicals"کے ذریعےانجام پاتا ہے۔ اگرچہ مختلف عوارض کے علاج معالجے میں جڑی بوٹیوں کا استعمال صدیوں سے ہورہا ہے، مگر موجودہ دَور میںیہ رجحان مزید بڑھ گیا ہے، کیوں کہ اوّل توجڑی بوٹیوں سے علاج کےسائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتےیا پھر بہت کم اور ہلکی نوعیت کےہوتے ہیں۔دوم،یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید ایلو پیتھک طریقۂ علاج کی ادویہ خاصی منہگی ہیں۔ بہرحال، جڑی بوٹیوں سے علاج مستند، سستا اور ہر قسم کے مضراثرات سے پاک ہے۔دورِ جدیدمیں امراض قلب کے علاج میں استعمال ہونےوالی ایک مخصوص دوا Digitalis""ایک پودے "foxglove"سے کشید کی جاتی ہے،تو کونین کا مآخذCinchona"" نامی درخت کی چھال ہے۔ اِسی طرح اسپرین ایک پودے""Meadowsweetسے حاصل کی جاتی ہے۔

اس وقت چینی ماہرین کورونا وائرس کے علاج کے لیے جہاں جدید ادویہ استعمال کررہے ہیں، وہیں قدیم روایتی طریقۂ علاج سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ چین کے 26 صوبوں میں سرکاری طور پر یہ امر لازمی قرار دےدیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے جدید کے ساتھ روایتی اور قدیم ادویہ بھی استعمال کی جائیں۔ حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق"National Administration of Traditional Chinese Medicin"نے دعویٰ کیا ہے کہ نباتاتی نسخہ "Qing Fei Pai Du Tang" کورونا وائرس کے علاج میں90فی صد فائدہ مندثابت ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ چین کی روایتی ادویہ میں شامل کیاجانے والا ایک جزوجو طبّی اصطلاح میںChymotrypsin-like Protease""کہلاتا ہے، وائرس کی افزایش محدود کردیتا ہے۔ جس طرح چین میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے روایتی طریقۂ علاج پر توجّہ دی جا رہی ہے، تو اس ضمن میں یہاں کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

ایک تو نیم اینٹی بیکٹیریل ہے، دوسرا عالمی ادارۂ صحت نے ایڈز اور سرطان کے علاج میں نیم کے اثرات کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ نیم سے حاصل کردہ "Acetone Water Neem Extract"کے استعمال سے ایڈز کے مریضوں میں"CD4"نامی مدافعتی خلیات کی تعداد میںکسی بھی قسم کے مضر اثرات ظاہر ہوئے بغیر اضافہ ہوجاتاہے۔واضح رہے کہ ایڈز کے مریضوں میں خون کے سفید خلیات کی ایک قسم لمفاسائٹس کی( جوCD4 کہلاتے ہیں) کمی واقع ہونےکے باعث مختلف عوارض لاحق ہوجاتے ہیں۔

برِّصغیر میں ہزار ہا سال سےنیم کے درخت کے مختلف حصّوں مثلاً پتّوں، ٹہنیوں، نبولیوں اور چھال وغیرہ کو کئی بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اب توامریکا میں بھی نیم کی افادیت تسلیم کرلی گئی ہے۔ امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس نے 1992ء میں "Neem:A Tree For Solving Global Problems" کے نام سے ایک رپورٹ شایع کی،جس میں اس کی اہمیت و افادیت تفصیلاً بیان کی گئی ہے۔ نیم میں کئی ایسے مفید اجزاء پائے جاتے ہیں، جو جِلدی خارش، ملیریا، ذیابطیس پھپوندی(Anti Fungal)، اینٹی وائرل، سوزش، پیچش، دست اوربخار وغیرہ کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوتےہیں۔اس کے علاوہ نیم جراثیم کُش ہے۔نیم کے تیل میں 135کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں، جن میں شامل Quercetin اور Beta-Sitosterolبیکٹیریا اور فنگس کے علاج کے لیےمفید ہیں۔ 

نیم کی چھال سے کشید کردہ محلول میں پرولین بھی پایا جاتا ہے، جو جوڑوں کے درد کے لیے اکسیرہے۔ اس کے علاوہ نیم کے تیل کو کئی دماغی امراض ،بشمول الزائمر کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نیم کی چھال سے کشید کیا ہوا گرم پانی خاص طور پر خواتین کے لیے ایک طاقت وَر ٹانک ہے، جب کہ اسے آنتوں کے کیڑوں کے علاج کے طور پربھی استعمال کیا جاتا۔ اس کے علاوہ یہ محلول زخموں اور امراضِ جلد کے علاج کےلیے بھی مؤثر ہے۔ اسی طرح نیم کے خشک پھول، جو نبولی کہلاتے ہیں، ذیابطیس کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ نبولیوں کا تیل جذام، آتشک، السر اور ہر قسم کے دردکے علاج کے لیے مفید ہے۔ عرب مُمالک میں بخار کم کرنے اور ذیا بطیس کے علاج کے لیے نیم کے تیل کا استعمال عام ہے۔

نیم کی چھال سے کشید کیا گیا تیل دافع سوزش ہی نہیں ہے،بلکہ اس میں زخم جلد مندمل کرنے کی بھی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ نیم کی250ایم جی/کے جی خوراک کا استعمال گلوکوز15فی صد، کولیسٹرول 15فی صد، ٹرائی گلیسرائیڈ32فی صد، یوریا13فی صد، کریٹنین23فی صد اور چکنائی15فی صد کم کر دیتا ہے۔واضح رہے کہ چکنائی، ٹرائی گلیسرائیڈ، کولیسٹرول کی مقدار میں کمی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، فالج اور ذیابطیس ، جب کہ یوریا اور کریٹنین کی کمی امراضِ گُردہ میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

نمبولائڈ (Nimbolide)جو نیم سے حاصل کردہ جز ہے، جگر کے لیے ازحد مفید ہے اور اس کی تاثیر امراضِ جگر میں استعمال ہونے والی ایک مخصوص دوا کے مساوی ہے۔ اسی طرح نیم ،دانتوں کے امراض کے علاج کے لیےبھی مفید ہے۔وہ تمام ٹوتھ پیسٹ ،جن میں نیم کے اجزاء شامل ہوں، منہ میں پائے جانے والے جراثیم کا خاتمہ کرتے اورپلاک بننے کے امکانات کم کردیتے ہیں۔ نیز،نیم کی مسواک توزمانۂ قدیم ہی سے استعمال ہورہی ہے، جو دانتوں کی بیماریوں اور منہ کی بدبو زائل کرنے کے لیے اکسیر ہے۔

نیم کے بعض جز جراثیم کے خلا ف کام کرتے ہیں۔ ممکنہ طور پر نیم مختلف خامروںکو(Oxidative Enzymes) متحرک کرتا اوربیکٹیریا کی خلیاتی دیوار توڑ دیتا ہے۔واضح رہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ بھی بیکٹیریا کی خلیاتی دیوارتوڑ کر ان کے خاتمےکاباعث بنتی ہیں۔کسی بھی فرد میں بیماری کا ایک ممکنہ سبب فری ریڈیکلز بھی ہیں۔ فری ریڈیکلز آکسیجن کے متحرک یا ایکٹیو عناصر کو کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فری ریڈیکلزکی کمی سے بیماری میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ نیم کے پھول اور چھال سے کشید شدہ محلول کے استعمال سے یہ فری ریڈیکلز کم ہوکر بیماری رفع کردیتے ہیں ۔ نیم، چکن پاکس کے وائرسـ"Coxsackie Virus"کے خلاف بھی کام کرتا ہے۔ 

چکن پاکس کا وائرس، خلیات میں داخل ہوکراس میں پائے جانے والے نیوکلیک ایسڈکی مدد سے مزید وائرسز کی افزایش کرتا ہے،تونیم کا استعمال اس وائرس کو ابتدا ہی میں خلیات میں داخل ہونے سے روک دیتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ پولیو، خسرے اور ڈینگی جیسے وبائی امراض کے خلاف بھی نیم کا استعمال مؤثر ہے۔کورونا کا سبب بھی ایک وائرس ہے اور چوں کہ نیم کئی وائرل بیماریوں کے علاج میں مفیدثابت ہواہے، تو کوروناوائرس کےعلاج میں بھی نیم کے پاؤڈر کا استعمال یقینی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا ۔

(مضمون نگار، جنرل فزیشن ہیں اور الخدمت اسپتال،کراچی میںخدمات انجام دے رہے ہیں)