آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عرفان جاوید ممتاز و معروف ادیب، افسانہ نگار، محقّق ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے برصغیر کی نام ور شخصیات پر اُن کےسوانحی خاکے ’’جنگ، سنڈے میگزین ‘‘ میں تواتر سے شائع ہوتے رہے۔ بعدازاں، ان خاکوں کے علاوہ کچھ دیگر خاکوں پر مشتمل اُن کی دو کُتب ’’دروازے‘‘ اور ’’سُرخاب‘‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آئیں اور ایسی مقبول ہوئیں کہ پھر اُن کے کئی ایڈیشن شائع کیے گئے۔

گزشتہ چند برسوں سے علمی وفکری موضوعات میں عرفان جاوید کی جُست جو اور فکروتحقیق کا حاصل، آئینہ تمثال مضامین کا مجموعہ ’’عجائب خانہ‘‘ ہے۔ یہ دنیا حیرت انگیز مظاہر و مناظر، موجودات و خیالات کا عجائب خانہ ہی تو ہے۔ سو، اس سلسلے کے کچھ منتخب مضامین اِس یقین سے قارئینِ جنگ کی نذر کیے جارہے ہیں کہ کئی اعتبار سے اپنی نوعیت کی یہ منفرد تحریریں یقیناً معلومات میں اضافے اور ذہنی تربیت کا سبب بنیں گی۔ ’’عجائب خانہ‘‘ سلسلے کی اس ساتویں کڑی ’’فِکشن کیوں پڑھا جائے؟‘‘ میں نہ صرف فِکشن بلکہ عمومی طور پر کتابوں کے مطالعے کے اہم اورقابلِ پیمایش اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ دیکھیے، قلم کار نے مختلف علمی و فکری موضوعات کا کیسے کیسے پہلوؤں اور زاویوں سے جائزہ لیا ہے یا کہیے، پردہ اُٹھایا ہے۔ (ایڈیٹر، سنڈے میگزین)

ایک لغت میں ’’فِکشن‘‘ کاترجمہ ’’جعل سازی‘‘ مرقوم ہے۔ گویا اس تناظر میں فِکشن نگار’’جعل ساز‘‘ ٹھہرا۔ شمس الرحمان فاروقی اپنے مضمون ’’فِکشن کی سچائیاں‘‘ میں رقم طراز ہیں ’’فِکشن کی پہلی تعریف یہ ہوئی کہ وہ جھوٹ ہوتا ہے‘ یا سراسر جھوٹ نہیں تو جھوٹ پر مبنی ضرور ہوتا ہے۔ دوافراد کے درمیان ہونے والا مکالمہ بھی دو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے تو اس میں دروغ، مبالغہ، ابہام یا تفہیم کا فرق موجود ہوتا ہے۔‘‘ فِکشن پر چند نکتہ چیں معترض ہیں کہ جب یہ معلوم ہے کہ فِکشن کسی کے دماغ کی اختراع و ایجاد ہے تو مصنوعی دنیا میں داخل ہو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائی کیوں ضائع کیے جائیں۔ اس استدلال کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ایسے معترضین کو ایجادات کے استعمال سے بھی اِس بنا پراحتراز کرنا چاہیے کہ ان کے موجد بھی دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ فِکشن کی علمی تشریح سے پہلے دو چشم کُشا امور کا تذکرہ بےجا نہ ہوگا۔ مرد شعوری یا لاشعوری طور پر فِکشن یا کہانی کو عورت کے پڑھنے کی شے سمجھتا رہا ہے۔ 

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچپن اور لڑکپن میں اُس نے کہانیاں گھر کی عورتوں کی زبانی سُنی ہوتی ہیں، سو وہ کہانی کو لاشعوری طور پر عورت سے منسوب کرتا چلاآرہاہے۔ ہمارےہاں فِکشن کے مطالعے میں عورت، مرد پربرتری رکھتی ہے۔ اور خواتین کے وسیع حلقۂ اشاعت والے ڈائجسٹ، ناول نگاروں کے قابل رشک تعداد میں شائع ہونے والے ناول، ہلکے پھلکے سامانِ شوق والے ہفتہ وار رسالے اس امر کی تائیدکرتے ہیں۔ قاری، تخلیق کار و موجد ہوتا ہے۔ فِکشن کے قاری کو دیگر کے علاوہ فلم بین پربھی امتیازحاصل ہے کہ اُسے ایک خیال کاغذ کے صفحات پر الفاظ کی صُورت میسّر آتا ہے اور وہ اس سے اپنے ذہن میں موجود میسّر اجزا سے ایک پورا جہان خود تخلیق کرتا ہے۔ ہر قاری کا جہان، دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنے جہان کا خودخالق ہوتاہے۔ گویا وہ مطالعے کے توسّط سے فن کار اور تخلیق کار ٹھہرتا ہے۔ اس کے برعکس فلم بین کو پکا پکایا پکوان پیش کیاجاتا ہے۔ فلم، ڈراما، تمثیل وغیرہ میں اُسے آزادیٔ اختراع میسّر نہیں آتی، اُسے پیش کیے گئے کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ 

یہ معاملہ فِکشن کے مصنف پر منحصر ہے کہ وہ قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کی ایجاد میں کس درجہ مواقع فراہم کرتا ہے اور بقول نذیر احمد دہلوی، ’’قیدی‘‘ بنا کر رکھتا ہے۔ وہ ’’منتخب الحکایات‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’ایک قصّہ خواں، سرِبازار دل سے بنابنا کر جھوٹی کہانیاں کھڑا کہہ رہاتھا اورصدہا آدمی اُسے گھیرے کھڑے تھے۔ اتنے میں ایک ریچھ والا ریچھ لیے اُدھر سے نکلا۔ سب لوگ لگے ریچھ کو دیکھنے۔ ریچھ نے کہا ’’تم سب لوگ کیا تعجب کے ساتھ مجھے دیکھتے ہو کہ میں خون خوار اور زبردست جان وَر ایک آدمی کی قید میں ہوں، ناک چِھدی ہے۔ جدھر چاہتا ہے، لیے پھرتا ہے۔ اس طرح مجھے تم پر تعجب ہوتا ہے کہ تم سب عقل مند ہو کر اس قصّہ خواں کی قید میں ہو۔ وہ جس بات کی طرف چاہتا ہے، تمھیں متوجّہ کرتا ہے۔ میری ناک چِھدی اور تمھارے کان۔‘‘ فِکشن پڑھنے کے مختلف پہلوؤں کے تجزیے سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ درحقیقت فِکشن کہتے کسے ہیں۔ 

فِکشن کے لغوی معنی بناوٹ، ساخت، بندش، ایجاد اور اختراع کے ہیں۔ عمومی طور پر اس کی اقسام میں داستان، ناول، افسانہ اور ڈراما شامل ہیں۔ پروفیسر انور جمال نے اپنی عُمدہ تصنیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ میں داستان اور فِکشن کو ہم معنی لیا ہے۔ وہ لکھتےہیں ’’اِسے اُردو نثر کی اوّلین صنف قراردیاگیا ہے۔ یہ جھوٹی کہانی یا مَن گھرٹ قصّہ ہوتا ہے۔ داستان وہ طویل کہانی ہے، جوحقیقی زندگی کے بجائے محیّرالعقول واقعات سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسی کہانی میں مافوق الفطرت واقعات کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ داستان میں چوں کہ حواس کے اعتبار میں آنے والے واقعات نہیں ہوتے، اس لیے دل چسپی اور تجسّس داستان کے اہم اجزا ہیں۔ دنیا کے قریباً ہر اَدب کے شروعات میں داستان موجود ہے، اس کی وجہ انسان کے شعور کی اوّلین حیرت پسند سطح ہے۔ علم و عرفان کے فروغ اور سائنسی مکاشفات کے باعث ادب، داستان کی حیران کُن اور سحر زدہ فضا سے باہر نکلا۔ اُردو اَدب میں داستان ناول، ناولٹ، افسانے اور طویل مختصر افسانے کی مورث ِ اعلیٰ ہے۔‘‘

ناول، داستان کی جدید اور ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس کے لغوی معنی انوکھا، نیا اور نمایاں ہیں۔ عموماً یہ نثری شکل میں ہوتاہے۔ ناول مغرب سے اُردو میں درآمد ہوا۔ ابتدائی اردو ناول طلسماتی، رومانی اور تاریخی نوعیت کے ہوتے تھے، جن کی بعد ازاں حقیقت بیانی نے جگہ لی۔ بیس ویں صدی کو اردو افسانے کی صدی کہا جاتاہے، جب کہ اکیس ویں صدی میں اردو ناول بہت تیزی سے آگے بڑھا۔ افسانہ ایک ایسی نثری صنف کو کہتے ہیں، جس میں قصّہ، کہانی یا واقعہ بیان کیا گیا ہو۔ عمومی طور پر اس میں ایک واقعہ یا پہلو بیان کیا جاتاہے۔ وحدتِ تاثر اس کا بنیادی جوہر ہوتا ہے۔ افسانے کے معاملے میں ایک تصحیح ضروری ہے۔ افسانوں کے مجموعے کوغلط العام زبان میں افسانوی مجموعہ کہا جانے لگا ہے، جس کی وضاحت لغاتِ روزمرّہ میں شمس الرحمان فاروقی صاحب نے کی ہے۔ 

وہ فرماتے ہیں، ’’افسانوی‘‘ کے معنی ہیں، افسانے کی طرح کا تجسّس انگیز، رومانی اور دل چسپ۔ مثلاً کسی کی شخصیت کو افسانوی کہا جاتا ہے، یعنی ایسا آدمی، جس کی طرح کا شخص، یقین نہ آنے والے افسانوں میں ملتا ہو، یعنی جس میں کچھ پرُاسراریت اور کشش ہو۔ پھر افسانوی کے معنی ہیں،غیرحقیقی۔ اس لفظ کے تیسرے معنی ہیں، بہت مشہور، جسے انگریزی میں Legendary کہا جاتاہے۔لیکن آج کل کچھ لوگ ’’افسانوں کا مجموعہ‘‘ کے معنی میں ’’افسانوی مجموعہ‘‘ لکھنے اور بولنے لگے ہیں لیکن مندرجہ بالا معنی کی روشنی میں صاف ظاہر ہے کہ افسانوں کے مجموعے کو ’’افسانوی‘‘ کہنا مضحکہ خیز ہے۔ ’’افسانوی مجموعہ‘‘ کی جگہ سیدھا سیدھا ’’افسانوں کا مجموعہ‘‘ کہنا چاہیے۔‘‘ فِکشن کی صنف ڈراما، یونانی الاصل ہے۔ اس کے معنی حرکت کے ہیں۔ گویا یہ زندگی کی متحرک تصویر ہے۔ عمومی طور پر ڈراما ایک خاص ترتیب اور توازن سے تمام اجزائے داستان کو صوت و آہنگ کے ساتھ پیش کرنے کا نام ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی منتشر اور بعض صُورتوں میں بےسروپا حادثات و واقعات کا مجموعہ ٹھہرتی ہے۔ ؎ رَو میں ہے رخشِ عُمر، کہاں دیکھیے تھمے…نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پاہے رکاب میں۔

عمومی طور پر علمائے ادب، بشمول حسن عسکری اور دیگر نے تاریخی فِکشن کو فِکشن کی عمومی بحث سے خارج رکھا ہے۔ اُن کا استدلال ہے کہ تاریخی فِکشن کا بنیادی مغز حقیقی واقعات اور کرداروں سے اخذشدہ ہوتا ہے، جس میں زیب ِ داستان کے لیے ترامیم کردی جاتی ہیں۔ چناں چہ اس کی بنیادیں حقائق کی زمین میں گڑی ہوتی ہیں۔ سو، اسے فِکشن کی مکمل تعریف سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث ایک استثنا حاصل ہے۔ انسان جبلی طور پر مبالغہ پسند ہے۔ ازمنۂ قدیم سے فطرت کے مدوجزر سے جنم لیتے معمولی حادثے کو دیوتاؤں کی ناراضی اور ابرق سے پُھوٹتے شعلے کو قدرت کے غضب پرمحمول کرتا آیا ہے۔ دیومالا، ایک انسان سے وابستہ جناتی خصوصیات اور واقعات کی ترتیب میں غیرمرئی قوت کی مداخلت کے خیال کا موجد بھی انسانی دماغ ہے اور اس کا پرستار بھی۔ گویا انسانی دماغ اپنا ہی پرستار ہے۔ مبالغے کے ساتھ ساتھ دروغ بھی انسانی فطرت کو مرغوب ہے۔ 

اس کی سب سے اہم مثال افسانے، ناول اورڈرامے کے مصنّف کے تخلیق کردہ اتفاقات ہیں اور ان کی ترتیب بھی۔ اس کے علاوہ فلم کی عوامی مقبولیت انسان کی دروغ پسندی پردلالت کرتی ہے۔ فلم میں المیہ و حُزنیہ مناظر کے ساتھ موسیقی اور پس منظر میں روشنی اور تاریکی کی کمی بیشی یقیناً ڈرامائی کیفیات پیدا کرکے انسانی ذہن کولطف وتحیّر فراہم کرتی ہیں۔ عموماً حقیقی زندگی سے اِن کا تعلق نہیں ہوتا۔ موت کے یا حادثے کے پس منظر میں بجلی کی کڑک، جرائم کے مناظر میں نیم تاریکی یا دیگر لوازمات کا حقیقی زندگی سے کیا تعلق۔ سڑک پار کرتے راہ گیر کی موت یا بجلی کے تار کو چُھو کر جل مرنے والے پرندے کی موت کے ماحول میں فرق فقط ناظر کے احساس کا ہے۔ اس میں مبالغہ اور دروغ قصّے کو رنگینی عطا کرکے دل چسپ بنا دیتے ہیں۔

اگر معروف معنی میں فِکشن اور حقیقت میں تفریق کرلی جائے تو یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی حقیقت مکمل سچ نہیں ہوتی اور کوئی فِکشن مکمل جھوٹ نہیں ہوتا۔ فِکشن میں پیش آنے والے واقعات یا ادا کیے جانے والے مکالمات بہرحال کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی یا تو پیش آرہے ہوتے ہیں یا آچُکے ہوتے ہیں۔ اس جہانِ ممکنات سے مشاہدے، تجربے یا تخیّل کو بروئے کار لاکر کشید کیا جانے والا عِطر تخلیق کار کے پانچ حواس کی دنیا ہی کا عرق ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ الہام یا وہب بھی بےبہرہ پر نہیں اُترتا۔ مشّاق وخلّاق کے گمان ہی پر القا کے پرندےاُترتے ہیں۔ 

فاروقی صاحب فِکشن کی سچائی بیان کرنے کی خُوبی پر قلم طراز ہیں، ’’فِکشن کو شاعری سے برتر ثابت کرنے کا ایک ذریعہ یہ تھا کہ اگرچہ شاعری پورا سچ نہیں پیش کرسکتی، لیکن فِکشن یہ کام کرسکتا ہے۔ بہت سے ناقدین کا خیال تھا کہ ’’حقیقت‘‘ اور ’’واقعیت‘‘ یا’’حقیقت نگاری‘‘ ایک ہی شے ہیں اور واقعیت کی ضد عینیت (Idealism) ہے۔‘‘مزیدبرآں، وہ کسی واقعےکے فِکشن میں ڈھل جانے کی وضاحت کرتے ہیں، ’’ایک مدّت ہوئی، جب مَیں نے فِکشن کے ’’افسانہ پن‘‘ کی تعریف یہ کی تھی کہ کوئی واقعہ اُس وقت فِکشن یا افسانہ بن جاتا ہے، جب وہ انسانی سطح پر ہماری دل چسپی کو برانگیخت کرتا ہے۔ مثلاً یہ بیانیہ متن ملاحظہ ہو۔ ایک درخت سے ایک پتّا ٹوٹ کر گرا اور نیچے بہتے ہوئے چشمے میں ڈوب گیا۔ 

یہاں دو واقعات بیان ہوئے ہیں، لیکن کوئی واقعہ ایسا نہیں، جو ہماری انسانی حیثیت میں ہمارے لیے دل چسپ ہو یا ان میں کوئی ایسی بات بظاہر نہیں ہے، جو ہمارے انسانی سروکاروں کے لیے معنی خیز ہو۔ لیکن اگر ہم یہ فرض کریں کہ ’’درخت‘‘ سے مراد ’’شجرحیات‘‘ ہے اور درخت کے نیچے جو ندی بہہ رہی ہے، وہ موت ہے، جو ہر چیز کو بہالے جاتی ہے اور پتّے کاٹوٹ کر گرنا اور پانی میں غرق ہوجانا کسی زندگی کے ختم ہوجانے کے معنی رکھتا ہے، تو ہماری انسانی ہوش مندی ایک حد تک بیدار ہوجاتی ہے، لیکن اس حد تک نہیں کہ ہمیں ذاتی طور پر درخت یا گرتے ہوئے پتّے سے کوئی ہم دردی یا اُن کے بارے میں کچھ تردّد ہونے لگے یا ہم یہ سوچ کر افسوس میں مبتلا ہوں کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘ مذکورہ مضمون میں فِکشن کے انسانی سروکار سے معاملے پر زور دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں، ’’اس مسئلے پر دو بارہ غور کریں کہ کوئی متن افسانہ یا فِکشن کب بنتا ہے۔ 

میرا خیال ہے یہ بات ایک حد تک واضح ہوچُکی ہوگی کہ فِکشن انسانی صنف سخن ہے، انسان اس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور انسان ہمیشہ ’’انجام‘‘ یا آج کی زبان میں closure چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جو بھی واقعہ ہو، وہ اپنے فطری انجام تک پہنچے اور اگر حقیقی معنی میں فطری انجام ممکن نہ ہو تو پھر ایسا انجام ہو، جو فطری محسوس ہو کہ اب اس کےبعد کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ میرا کہنا ہے کہ فِکشن، واقعات کی ترتیب کا نام ہے اور ترتیب اس طرح ہو، جس میں انسانی سروکار نمایاں ہوں۔ فِکشن ہمیں سوچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ہماری طرف سےفیصلے نہیں کرتا بلکہ ہماری ہمّت افزائی کرتا ہے یا یوں کہیں کہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں۔‘‘

اُردو میں فِکشن کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ امر عیاں ہوتا ہے کہ عموماً اردو کلاسیکی ادب میں درسی نوعیت کا خشک نصیحت آموز نصابی رنگ اُتر آیا، جووقت گزرنے اور معاشرتی حالات بدلنے کے ساتھ بےمحل ہوگیا۔ علاوہ ازیں، ایسا رنگین ماورۃلعقل ادب تخلیق کیا گیا، جس نے قارئین کے تخیّل کو تو خُوب چمکایا، مگر ان کے فکر سے سروکار نہ رکھتا تھا۔ سرسیّد کی ترغیب پر ڈپٹی نذیر احمد اور دیگر اساتذہ نے فِکشن تخلیق کیا، تو اُن پر معاشرتی سدھار کا جذبہ اس درجہ غالب آگیا کہ پیغام کو کہانی میں قوام کے مانند لپیٹنے کے بجائے کہانی کو پیغام میں لپیٹ ڈالا۔ نتیجتاً وقت گزرنے کے ساتھ اور بدلتے حالات میں ایسی تحریریں کارآمد نہ رہیں اور قارئین کی ان میں دل چسپی گھٹتی چلی گئی۔ بے شک انیس ویں صدی کے اواخر اور بیس ویں صدی کے اوائل میں رُوسی اور یورپی ادب میں بھی یقیناً اصلاحی نوعیت کی تحریریں سامنے آرہی تھیں۔ (جاری ہے)