آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مولانا زبیراحمد صدیقیؔ

بلاشبہ، دنیائے انسانیت اعتقادی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، عدالتی، تعلیمی، ثقافتی تنزلی کی جانب گامزن اور رواں دواں ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ایک بار پھر زمانۂ جاہلیت کی طرف عود کر چکے ہیں۔ ہدایت کی راہیں مسدود اور ضلالت کی شاہراہیں کھلی ہیں۔ زندگی کے ہر محاذ پر مسلسل پستیوں نے انسانیت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اطمینان نام کی کوئی شے لوگوں کو میسر نہیں۔ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی انسانیت مضطرب و پریشان نظر آتی ہے۔ گویا زندگی کی یہ ناؤ ڈوبنے کے قریب ہے اور اسے کسی ایسے ناخدا کی ضرورت ہے جو اسے کنارے لگائے۔ 

یہ بھٹکتی انسانیت الحاد، کفر و شرک سے مایوس اور نامراد کھڑی حق کی راہ تک رہی ہے۔ مادہ پرست دنیا ہر طرح کی آسائش و آرائش کے باوجود اطمینان حاصل نہ کر کے روحانیت کی تلاش میں ہے۔ معاشی ناہمواریوں سے تنگ لوگوں نے اولاً اشتراکیت (سوشلزم) کا بت توڑ کر اب سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کر دیا ہے۔ مذکورہ بالا دونوں عالمی معاشی نظاموں کی ناکامی کے بعد دنیا کو ذاتی ملکیت، دولت کی منصفانہ تقسیم اور مزدور و محنت کش کی موزوں اُجرت پر مشتمل کسی غیر سودی معاشی نظام کی تلاش ہے۔ امن کے نام پر جنگ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ظلم اور فساد و الحاد سے تنگ آ کر ظالم خود راہِ امن کا متلاشی ہے۔

غرض دنیا ہر لحاظ سے تہی دامن ہو چکی ہے اور انسانیت کو سچی اور صحیح راہنمائی کی ضرورت ہے۔ لیجئے آسمانوں سے راہنمائی حاصل کیجئے اور پیغمبر اسلام ﷺ کے اس مثالی خطبے کا ایک ایک حرف اپنے دلوں میں اُتارئیے جو ۱۰ہجری کے ۹ ذی الحجہ کی دوپہر میں ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد صحابہؓ کے جم غفیر کے درمیان جبلِ عرفات پر دیا گیا ، بلاشبہ ،یہ خطبہ انسانی حقوق کا سب سے بہترین چارٹر، انسانی مساوات کا ضامن، قیامِ امن کا فارمولا، معاشی ناہمواریوں سے نجات کا راہ دہندہ، معاشرتی، سیاسی، سماجی، تعلیمی، اعتقادی الغرض ہر میدان میں صحیح سمت متعین کرنے والا ایک آسمانی پیغام ہے، جسے بیان کرتے ہوئے حقوقِ انسانیت کے عظیم علم بردار حضرت محمدﷺ نے عملاً مساواتِ انسانی کا درس دیا۔ 

جب آپﷺ یہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ کے سب سے قریب آزاد آدمیوں کی بجائے دو ایسے غلام تھے جو غلامی سے پیغمبر اسلام ﷺکی بدولت رہائی حاصل کر چکے تھے۔ ان میں سے ایک سیدنا بلال بن رباح ؓ سیاہ فام اور حبشی النسل آپﷺ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے اور دوسرے سیدنا اُسامہ بن زید ؓ آپﷺ کے وجود مسعود پر چادر تان کر سایہ کیے ہوئے تھے۔ اس خطبے کو ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ سے موسوم کیا جاتاہے۔ یہ خطبہ حدیث کی مختلف کتب میں مختلف صحابہ کرامؓسے متفرق طور پر منقول ہے۔ ان بکھرے موتیوں کو جمع کر کےذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

خطبۂ مسنونہ کے بعد:

تاکید تقویٰ:

میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی فرماںبرداری کی تاکید کر رہا ہوں اور میں خیر سے شروع کر رہا ہوں۔ تقویٰ کا سب سے ادنیٰ درجہ شرک سے بچنا اور توحید اختیار کرنا ہے اور سب سے اعلیٰ درجہ دل کو ماسوائے اللہ تعالیٰ کے سب سے فارغ کرنا ہے۔ گویا کہ آپﷺ نے خطبے کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرنے اور اس کی کامل اطاعت کا حکم دیا ۔ بندے کا جس قدر حق تعالیٰ سے معاملہ درست ہوتا ہے،اس قدر بندے کے معاملات درست ہوتے ہیں۔

شاید آئندہ ملاقات نہ ہو سکے:۔

آپﷺ نے فرمایا’’ لوگو! اللہ کی قسم، مجھے نہیں معلوم شاید آج کے دن کے بعد میں تمہیں اس جگہ نہ مل سکوں، بس اللہ اس پر رحم کرے جو آج کے دن میری بات سنے ،پھر اسے محفوظ رکھے‘‘۔ (سنن دارمی: ۲۳۲)

شاید حضورﷺ کو قرائن و اشارات یا وحی کے ذریعے معلوم ہو چکا تھا کہ آپﷺ کا سفر آخرت شروع ہونے کو ہے اور آپ ﷺدنیا کو سدھار کر سوئے جنت و رفیق اعلیٰ کی جانب روانہ ہونے کو ہیں اور یہ ملاقات آخری حج کی اجتماعی ملاقات ہے، مکرر فرمایا میری باتوں کو پورے دھیان سے سنو، سمجھو یاد کرو، یاد رکھو کہ میں تمہیں وصیتیں و نصیحتیں کر رہا ہوں۔

جان و مال کا تحفظ:۔

’’بلاشبہ ،تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں باہمی طور پر ایسے ہی محترم و مقدس ہیں جیسے یہ یومِ حج، ماہِ حج اور بلد حرام مکہ مکرمہ مقدس و محترم ہیں‘‘(صحیح بخاری: ۱۶۲۲)

ایک مسلمان کی جان اور اس کے مال کا احترام و اکرام مکہ مکرمہ، کعبۃ اللہ، یوم الحج ، عشرۂ ذی الحج اور ماہِ حج سے کسی درجہ کم نہیں۔ کون بدنصیب ہوگا جو کعبۃ اللہ کی حرمت کو پامال کرتا ہو…؟ کون ایسا شقی ہو گا جو ایامِ مقدسہ کی حرمت کو تارتار کرتا ہو…؟ کوئی نہیں! ہر گز نہیں! تو ایک دوسرے کی جان و مال کو ایسے ہی محترم جانو، نہ کسی کو بدنی ایذا پہنچاؤ اور نہ ہی مالی ایذا، نہ کسی کو مارو پیٹو، ظلم و ستم ڈھاؤ اور نہ ہی کسی کا مال ناحق طریقے سے غصب کرو،نہ چوری کرو یا ہتھیا لو۔

سیرت ابن ہشام میں اس خطبے کے آخر میں اس خوبصورت قانون کو مزید توضیح سے یوں پیش کیا گیا ہے: ’’سو کسی مسلمان کےلیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے خوش دلی سے لئے ہوئے مال کے علاوہ کوئی مال لے۔ سو اپنے اوپر ظلم نہ کیا کرو۔

امام بخاری ؒ نے جان، مال اور عزت کی حرمت سے متعلق مذکورہ بالا اعلان کے ساتھ متعدد روایات میں اس قانون کی مزید اہمیت اُجاگر کرنے والے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں: اور تم عنقریب اپنے رب سے جا ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال سے متعلق سوال کرے گا، خبردار! میرے بعد گمراہی میں نہ لوٹ جانا کہ تمہارے بعض بعض کی گردنوں کو مارتے رہیں، آگاہ رہو!موجود(میرا پیغام) غائب تک پہنچادے۔ (صحیح بخاری: ۵۲۴۵، ۷۰۱۵)

یعنی اگر کوئی شخص کسی کی جان و مال یا عزت و آبرو سے کھیلے گا تو اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بہت جلد خالقِ کائنات کی عدالت میں پیشی ہونے والی ہے، جہاں جواب دہ ہونا پڑے گا اور وہاں سفارش کارگر ہے ،نہ ہی رشوت کے طور پر مال و فدیہ کام آئے گا اورنہ ہی زور و طاقت بچا سکے گی، اس لئے کسی کی جان سے کھیلنے اور مال ہڑپ کر جانے سے خوب خوب احتیاط برتو۔

ادائیگی امانت کی تاکید:۔

’’جس شخص کے پاس کسی کی امانت ہو، وہ صاحب ِامانت کے سپرد کر دے‘‘۔ (مسند احمد: ۲۱۶۷)امانت کی ادائیگی و پاس داری کو ایمان کی نشانی اور امانت کے ضیاع اور خیانت کو حدیث پاک میں نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ امانت، مال اور سیم و زر، منصب و عہدہ ہو یا حکومت و اقتدار، علم و آگہی ہو یا دانش و فہم، راز ہو یا خفیہ دستاویز سب ہی کا پاس رکھنا ضروری ہے۔ امانت کا پاس و لحاظ رکھے بغیر معاشرہ کبھی بھی سکون و اطمینان حاصل نہیں کر سکتا، خیانت و بددیانتی استحصال اور سلبِ حقوق کا ذریعہ ہے، جس سے طبقات میں عداوتیں، دشمنیاں اور مخالفتیں جنم لیتی ہیں اور یہ عداوتیں قتل و غارت گری پر منتج ہوتی ہیں۔

جاہلانہ رسوم اور دشمنیوں کا خاتمہ:۔

آپﷺ نے فرمایا’’سن لو ! جاہلیت کے معاملے کی ہر چیز میرے پاؤں کے نیچے روند دی گئی اور جاہلیت کے تمام خون (قتل) بھی ختم کر دیے گئے (بطور نمونہ کے) سب سے پہلے میں اپنے بدلے سے ربیعہ بن الحارث کے بیٹے کا خون ختم کر رہا ہوں، جو بنی سعد میں شیرخوار بچہ تھا اور اسے قبیلہ ہذیل نے قتل کر دیا تھا۔‘‘(صحیح مسلم :۲۱۲۹)

آپﷺ نے جاہلانہ طور و طریق، رسوم و رواج کے خاتمے کا نہایت ہی بلیغ انداز میں اعلان فرمایااور ان امورِ جاہلیت کو اپنے قدموں تلےروندنے کا اعلان فرمایا۔ زمانۂ جاہلیت کی قومی، لسانی، علاقائی عصبیتیں و عداوتیں، مشرکانہ افعال و اعمال، جاہلانہ ضد و عناد، توہّم پرستی، اخلاق و حیاسوز تمدن ،غرض سب ہی جاہلانہ عادات و حرکات و سکنات کا آپﷺ نے نہ صرف خاتمہ فرما دیا، بلکہ عملاً محبت و بھائی چارے پر معاشرے کی تعمیر فرما کر دشمنوں کو دوست بنایا۔

قدیم رقابتیں اور پرانی دشمنیاں خاتمے کے باوجود کبھی کبھار پھر سے زندہ ہو کر معاشرے کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ آپﷺ نے زمانۂ جاہلیت کے ان جرائم کو یکسر ختم فرما کر پہل کرتے ہوئے دوسرے مسلمانوں کو بطور نمونہ کے ربیعہ بن حارث کے بچے کے قتل و خون کے خاتمے کا اعلان فرمایا۔ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب آپﷺ کے چچازاد بھائی تھے، ان کے بیٹے بنی سعد قبیلے میں شیرخوار تھے، بنی سعد اور بنی لیث قبیلے کی باہمی جنگ میں اس بچے کو پتھر لگا جس کی وجہ سے یہ بچہ فوت ہو گیا۔ آپﷺ نے اس بچے کے خون کے خاتمے کا اعلان فرمایا، کیونکہ یہ سارا معاملہ زمانۂ جاہلیت کا تھا، اور آپﷺ نے جاہلیت کے تمام خون ختم فرما دیے۔

زمانۂ جاہلیت کے سود کے خاتمے کا اعلان:۔

آپﷺ نے اس موقع پرفرمایا’’اور زمانۂ جاہلیت کے ہر قسم کے سود ختم کئے جاتے ہیں۔ میں سب سے پہلے خود (اپنے چچا) عباس بن عبدالمطلب کے سود کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ سارا سود ختم کیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم:۲۱۲۹)سنن ترمذی اور سنن ابو داؤد میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ہے: ’’تمہیں اصل سرمایہ ملے گا، نہ تم کسی پہ ظلم ڈھاؤ، نہ کوئی تم پہ ظلم کرے۔‘‘

معاشی نظام میں سود ہی وہ عنصر ہے جس کی وجہ سے دولت سمٹ کر چند ہاتھوں میں اور اکانومی پر چند خاندانوں یا کمپنیوں کا قبضہ ہو جاتا ہے، اس معاشی تسلط کے نتیجے میں اشیاء کی مصنوعی قلت اور قیمتوں کی بہتات جنم لیتی ہے۔ قرضوں کے سود کی عدم ادائیگی کی وجہ سے لوگ اپنی جان اور اولاد تک کو فروخت کر دینے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اسی سودی نظام کا لازمی نتیجہ ہے کہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے سود کو حرام قرار دے دیا۔ 

سود کی حرمت کے ساتھ یہ اشکال ہو سکتا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں دیے گئے قرض کا سود تو وصول کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس وقت حرمتِ ربوٰا نازل نہیں ہوئی تھی، آپﷺ نے اس ظلم کا خاتمہ فرما دیا اور اعلان فرما دیا کہ جاہلیت کے جملہ سود ختم کیے جا رہے ہیں اور ابتدا اپنے خاندان سے فرمائی، تاکہ سب کے لئے ایسا کرنا سہل و آسان ہو جائے۔ اور اعلان فرما دیا میں عباس بن عبدالمطلبؓ کے سود کو ختم کرتا ہوں۔

حقوقِ نسواں:۔

آپﷺ نے فرمایا’’ہاں عورتوں کے متعلق اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی امانت کے ساتھ حاصل کیا ہے اور تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ حلال کیا ہے… اور تمہارے ذمے لازم ہے کہ ان کے رزق و روزی اور لباس، پوشاک کا انتظام کرو۔‘‘(صحیح مسلم: ۲۱۲۹)اور مجھ سے عورتوں کے متعلق خیر کی وصیت قبول کرو، عورتیں تمہارے ہاں تمہاری مددگار ہیں۔(سنن ترمذی: ۱۰۰۰، سنن ابن ماجہ: ۱۸۴۰)رسول اللہﷺ کی ان ہدایات کواس دور کے عرب معاشرے کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو زندگی کا حق دیا، غلامی سے نجات دی، انسانی حقوق سے محروم اس صنف ِنازک کو باعزت و محترم بنایا، لوگوں کو خوفِ خدا دلا کر خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم سے منع کیا اور انہیں یہ حقیقت باور کرائی کہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم و کلمہ سے یہ تمہارے لئے حلال ہوئی ہیں، گویا یہ تمہارا ملکیتی مال نہیں کہ تم ان سے باندیوں والا سلوک کرو یا انہیں اپنا مملوک جان کر ان میں تصرف کرو،بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہارے ہاں امانت ہیں ،سو ان کے بود و باش، رزق و طعام اور لباس و کپڑوں کا انتظام تمہارے ذمے ہے۔ اسلام نے عورت کو معیشت کی ذمہ دار اور کمانے کا مکلف نہیں بنایا اور اس ضعیف و نازک صنف کے بس میں ہی نہیں کہ وہ کماتی پھرے، بلکہ ان کے تمام لوازمات مردوں کے ذمہ لگائے گئے ہیں۔

عورتوں کے ساتھ حسنِ معاملہ کو آپﷺ نے اپنی خیر کی وصیت قرار دے کر اسے قبول کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی ان کا مقام و مرتبہ بتایا کہ یہ تمہاری عوان و مددگار ہیں۔ تمہارے گھروں کی تدبیر کرنے والی ہیں۔ ان کے بغیر تمہارے خاندان اور گھرانےسب ہی نامکمل ہیں۔ وہ تمہارے بغیر ذمے داریاں کیسے انجام دے سکتی ہیں۔ آخر میں حضور علیہ السلام نے باقی وصیتوں کے برعکس اس وصیت سے متعلق مزید تاکید پیدا کرنے کے لئے فرمایا: لوگو! میری بات سمجھو، میں پیغام پہنچا کر اپنے فریضےسے سبکدوش ہو رہا ہوں۔

خاوندوں کے حقوق:۔

آپ ﷺ نے فرمایا’’اور تمہارا ان کے ذمہ یہ حق ہے کہ تمہارے بستر پر کسی کو نہ آنے دیں کہ یہ تمہارے لئے ناگوار ہے، اگر وہ ایسا کریں تو تمہیں انہیں سزا دینے کی اجازت ہے، لیکن ایسی مار نہ ہو جو زخمی کر دے۔ (صحیح مسلم:۲۱۲۹)

’’اور ان کے ذمہ ہے کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب نہ ہوں، اگر وہ ارتکابِ فاحشہ کریں تو تم ان سے بستر الگ کرو اور انہیں بغیر زخمی کئے مار سکتے ہو۔‘‘

مسلم معاشرے میں جہاں عورتوں کے واضح حقوق دیے گئے ہیں، وہاں انہیں مادر پدر آزاد بننے سے بھی روکا گیا ہے، انہیں شوہر کی عزت وآبرو اور جان و مال کے تحفظ کا پابند بنایا گیا ہے، انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی مکمل اطاعت کریں، اس کے جملہ مفادات کا تحفظ کریں اور خاوندوں کو اپنی بیویوں کی اصلاح کے طریقے بھی سمجھائے گئے، شدید جرم کی صورت میں خاوند اصلاحِ ازواج کےلیے ترکِ کلام، بستر کی علیحدگی اور پھر آخر میں مناسب سزا برائے اصلاح دے سکتے ہیں، لیکن وہ سزا ایسی نہ ہو جس سے عورت زخمی ہو جائے، اس کے باوجود عورت کو منہ پر مارنے سے منع کیا گیا، تشدد سے روکا گیا، بلاوجہ مارپیٹ پر سخت تنبیہ کی گئی۔

شیطان کو خوش کرنے سے اجتناب کرو:۔

آپﷺ نے اس تاریخ ساز خطبے میں ارشاد فرمایا: شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا کہ اب تمہاری سرزمین پر اس کی پوجا کی جائے، لیکن عنقریب اس کی اطاعت کی جائے گی، تمہارے ان کاموں کی صورت میں جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو، تو وہ اسی پر خوش ہو جائے گا۔(سنن ترمذی: ۱۴۸۷)

حضور علیہ السلام کی محنت ِتوحید کی برکت سے جزیرہ عرب میں ہمیشہ کے لئے شرک کا خاتمہ ہو چکا، آئندہ اس خطے میں شرک کا دور دورہ نہ ہو گا، اس لئے شیطان کو بت پرستی سے تو مایوسی ہو چلی، وہ تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہی خوش ہوتا ہے، لہٰذا شیطان کو خوش نہ کرو۔ چھوٹے بڑے سب ہی گناہ ترک کر دو۔ جن گناہوں کو تم معمولی جانتے ہو، حقیقت میں وہ غیر معمولی نہیں ،اس لیے کہ گناہ تو ایک چنگاری ہے، چنگاری چھوٹی ہو یا بڑی بہرحال جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔

تکیمل دین اورختم نبوت کا اعلان:۔

آپﷺ نے فرمایا:’’اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، سنو! اپنے رب کی عبادت کرو، نماز پنج گانہ ادا کرو، رمضان کے مہینے کے روزے رکھو، اپنے پاکیزہ اموال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے فقہاء و حکمرانوں کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔ (کتاب السنۃ للألبانی: ۱۰۶۱)

قرآن و سنت کو تھامے رکھو:۔

اس موقع پر آپﷺ نے ارشادفرمایا’’اور میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑ چلا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہ ہو گے ، وہ دو چیزیں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺکی سنت ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم: ۳۱۷)

اسلامی اخوت اور اس کا تقاضا:۔

رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پرارشاد فرمایا’’اے لوگو! میری بات سنو اور اسے سمجھو، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور تمام مسلمان باہم بھائی، بھائی ہیں۔ سنو! کسی آدمی کے لئے اس کے بھائی کا مال صرف اس قدر حلال ہے ،جتنا وہ خوش دلی سے عطا کر دے ، سنو! ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے اللہ! میں نے یہ پیغام پہنچادیا۔(فقہ السیرۃ للالبانی:۴۵۴)

میرے متعلق تم سے دریافت کیا جائے گا:۔

آپ ﷺ نے خطبے کے آخر میں ارشاد فرمایا، اور تم سے میرے متعلق سوال کیا جائے گا، تو تم کیا کہو گے؟اس موقع پر موجود تمام صحابۂ کرامؓ گویا ہوئے ،ہم گواہی دیں گے کہ آپﷺ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا، امانت ادا فرما دی اور خیرخواہی فرما دی، تب آپ ﷺنے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی جانب بلند کرتے ہوئے لوگوں کی جانب حرکت دی اور تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا!(صحیح مسلم: ۲۱۲۹)