آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

PAS،PSP افسران کی روٹیشن پالیسی کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا

اسلام آباد (انصار عباسی) حکومت نے بدھ کو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز (پی اے ایس) اور پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) افسران کیلئے روٹیشن پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کا اطلاق بغیر کسی استثنیٰ کے یکم جنوری 2021ء سے ہوگا۔ 

روٹیشن پالیسی کو ان افسران کی ترقی سے جوڑا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پی اے ایس اور پی ایس پی گروپ کے مختلف گریڈز میں کام کرنے والے افسران تمام حکومتوں میں خدمات انجام دیں اور ساتھ ہی ان افسران کے برسوں تک ایک ہی حکومت میں مسلسل کام کرتے رہنے کا رجحان ختم کیا جا سکے اور بیرونی دبائو کا معاملہ ختم کیاجا سکے۔ 

پالیسی میں لکھا ہے کہ پالیسی پر عملدرآمد کے معاملے میں کسی بھی بنیاد، بشمول صنف، ازدواجی حیثیت ماسوائے جہاں سخت ضرورت پڑ جائے، پر کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ 

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ معیاری استثنیٰ جیسا کہ نجی مشکلات پریشانیاں اور شریک حیات کے مقام ، جو ملک بھر کے مختلف کیڈرز اور محکموں میں معمول بن چکے ہیں، پی اے ایس اور پی ایس پی گروپ میں کسی کو بھی ایسا استثنیٰ حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پی اے ایس اور پی ایس پی افسران پر شادی شدہ جوڑوں کیلئے مختص پالیسی (ویڈ لاک پالیسی) کا بھی اطلاق نہیں ہوگا۔ 

اس پالیسی کے تحت پی اے ایس اور پی ایس پی گروپ کے افسران کے ٹرانسفر یا پوسٹنگ کیلئے درج ذیل کیٹگریز بنائی گئی ہیں۔ 1) پہلی ایلوکیشن، اور مخصوص تربیتی پروگرام کے بعد بعد سروس افسر کے ڈومیسائل کے صوبے سے باہر۔ 2) گریڈ 17؍ تا 19؍ کے مرد افسران کیلئے سخت علاقوں میں لازمی سروس۔ 3) 

ایک ہی جغرافیائی مقام پر مسلسل خدمات انجام دینے والے افسران کیلئے روٹیشن۔ 4) تمام حکومتوں میں، ہر گریڈ میں افسران کی کمی کیلئے ریشنلائزیشن کی جائے گی جس کیلئے کم سے کم روٹیشن والے افسر کو ایسی حکومت میں ٹرانسفر کیا جائے گا جہاں اس گریڈ میں قلت پائی جاتی ہے۔

 ایک مرد افسر لازماً اس وقت تک صوبائی حکومت / اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری / گلگت بلتستان میں کام کرے گا جب تک اسے 18؍ گریڈ میں ترقی نہیں مل جاتی یا کم از کم پانچ سال تک کام کرے۔ تاہم، نئی بھرتی ہونے والی خاتون افسر اپنے صوبے کے ڈومیسائل سے باہر کسی صوبے میں کم از کم تین سال کیلئے یا پھر 18؍ گریڈ میں ترقی تک کیلئے (جو پہلے آئے) کام کرے گی۔ 

پی ایس پی افسران کیلئے گریڈ 17؍ میں ایک سال کی ایف سی پوسٹنگ کو ابتدائی ایلوکیشن کو صوبائی حکومت میں خدمات انجام دینا سمجھا جائے گا۔ پی اے ایس اور پی ایس پی گروپ کے ہر افسر کیلئے لازم ہوگا کہ وہ کم از کم دو سال تک سخت علاقوں میں خدمات انجام دیں جس کا نوٹیفکیشن گریڈ 17؍ تا 19؍ کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جاری کرے گی۔ 

گریڈ 20؍ سے کم کسی بھی افسر کو مسلسل 10؍ سال تک کسی ایک حکومت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ رخصت، تربیت اور غیر ملکی پوسٹنگ کے عرصے کو بریک نہیں سمجھا جائے گا۔ 

پالیسی کے تحت لازمی طور پر اگر کوئی افسر روٹیشن سے گزرا تو مرد افسران اپنی گزشتہ دس سال کی خدمات والے صوبے میں نہیں جا سکے گا تاوقتیکہ وہ اپنی سابقہ دس سالہ پوسٹنگ کی حکومت کی جغرافیائی حدود سے باہر دو سال تک کام نہ کر لے۔ اسی طرح خواتین افسران اس اپنی سابقہ دس سالہ پوسٹنگ والی حکومت میں اس وقت تک نہیں جا سکیں گی جب تک وہ اس صوبے یا حکومت سے باہر ایک سال تک خدمات انجام نہ دیں۔

 موجودہ افسران جنہوں نے کسی ایک حکومت میں دس یا اس سے زیادہ سال کے عرصہ تک خدمات انجام دی ہیں؛ انہیں تین مراحل میں دیگر حکومتوں میں ٹرانسفر کیا جائے گا، یہ تین مراحل 6؍ ماہ پر مشتمل ہوں گے اور اس میں شروعات ایسے افسروں سے کی جائے گی جن کا پوسٹنگ کا عرصہ سب سے زیادہ ہے۔ 

خواتین افسران کو دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔ کسی بھی حکومت میں افسران کی قلت کو دور کرنے کیلئے، افسران کو دس سال مستقل خدمات انجام دینے کی پالیسی سے پہلے ہی ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے اور ایسا افسر پہلے ٹرانسفر ہوگا جس کی روٹیشن کم سے کم رہی ہو۔ 

پالیسی کے تحت، حکومت کسی بھی افسر کو کسی بھی حکومت سے ٹرانسفر کر سکتی ہے اور اس کے کیریئر کے کسی بھی سال میں اسے کسی دوسری حکومت میں تعینات یا ٹرانسفر کر سکتی ہے، اس میں طرز حکمرانی کی ضروریات کو مد نظر رکھا جائے گا اور یہ اقدام حکومت میں دس سال کی مستقل سروس سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

کسی بھی صوبے میں افسران کی قلت کو پوسٹنگ کو مد نظر رکھ کر مرتب کیا جائے گا اور یہ کام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہر سال جنوری اور جولائی میں کرے گی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہر سال دو مرتبہ افسران کی روٹیشن کی گریڈز کے ساتھ فہرست جاری کرے گی۔ 

حکومت کو اختیار ہوگا کہ وہ گریڈ 21؍ اور 22؍ کے کسی بھی افسر کو کسی بھی حکومت سے ٹرانسفر کرکے کسی دوسری حکومت میں بھیج سکتی ہے۔ 

گریڈ 19؍ میں پروموشن کی اہلیت کیلئے ضروری ہوگا کہ مرد افسران اپنے ڈومیسائل کے صوبے سے باہر پانچ سال اور خواتین تین سال تک خدمات انجام دے چکی ہوں۔ 

یہ شرط ایسے امیدواروں پر بھی لاگو ہوگی جو سی ایس ایس کے 2020ء اور اس کے بعد کے امتحانات میں حصہ لے کر سروس حاصل کریں گے۔ 

اگر کسی مرد افسر نے سخت علاقے میں دو سال تک کام نہیں کیا تو اس کے پروموشن پر غور کیا جائے گا۔ 

یہ شق پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین سال بعد موثر سمجھی جائے گی۔ کسی بھی مرد یا خاتون افسر کو گریڈ 21؍ میں پروموشن کا اہل نہیں سمجھا جائے گا اگر اس نے مستقل ایک ہی حکومت میں 10؍ سال کام کیا ہو اور تاوقتیکہ اسے اُس حکومت سے باہر ٹرانسفر کیا گیا ہو۔ 

یہ شق پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے دو سال بعد قابل اطلاق سمجھی جائے گی۔ اگرچہ ان افسران پر شادی شدہ جوڑوں کی پالیسی (ویڈ لاک پالیسی) کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن شریک حیات افسر کو پوسٹنگ کے قریبی علاقے میں تعینات کیا جائے گا۔ افسران ملک میں کہیں بھی کم از کم ایک سرکاری رہائش گاہ رکھ سکتے ہیں جہاں وہ اپنے اہل خانہ کو رکھ سکیں۔

اہم خبریں سے مزید