آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشمیریوں کے حق میں ایک توانا آواز

بھارت کی ہندو توا مودی سرکار نے اپنے آئین میں دیا گیا جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے اس کے حصے بخرے کر کے بھارت میں ضم کرنے کا جو غیرقانونی و غیرآئینی اقدام اٹھایا تھا، دنیا اسے روکنے کے لئے تو کچھ نہ کر سکی مگر اقوامِ متحدہ کی واضح قرار دادوں کی موجودگی میں کسی کو اس کی کھل کر حمایت کرنے کی جرأت بھی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس حق و انصاف کی بالادستی پر یقین رکھنے والے ممالک، شخصیات اور تنظیموں نے اس کے خلاف اپنے اپنے انداز میں صدائے احتجاج ضرور بلند کی ہے اور ایک کروڑ مظلوم و محکوم کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود بھارت کے اندر سے بھی کشمیریوں کے حق میں آوازیں تیز تر ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح سے کشمیر پر بھارتی دعوئوں کی تازہ تبطیل جنرل اسمبلی کے 75ویں سیشن کے منتخب صدر وولکن بوزکر، جو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے بھی کی ہے۔ جنرل اسمبلی کے صدر نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتوں میں دنیا پر واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قرار دادیں موجود ہیں جن کی روشنی میں علاقائی سلامتی کے لئے اس تنازع کا حل ناگزیر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ

مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیریوں کے حق استصواب رائے کو یقینی بنائے جس کا سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں میں ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ وولکن بوزکر نے اس کا جواب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس طرح دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی ہے اور مشکل چیلنجز کو بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے انہوں نے پیشکش کی کہ فریقین معاونت کی درخواست کریں تو وہ مینڈیٹ کے مطابق کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اس طرح کی پیشکش امریکی صدر ٹرمپ بھی کر چکے ہیں مگر بھارت کی بدنیتی آڑے آرہی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کشمیر پر اس کا مقدمہ بہت کمزور ہے۔ اس کی واضح مثالیں سلامتی کونسل کی قرار دادیں، تین بڑی پاک بھارت جنگیں اور ان جنگوں کے خاتمے کے لئے ہونے والے معاہدے ہیں جن میں بھارت نے جموں و کشمیر کو متنازع تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل پر اتفاق کیا تھا۔ مودی کی ہندوتوا، نسل پرست حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک طرف مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کیا تو دوسری طرف وہاں ہندوئوں کو آباد کرکے وہ مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی اشتعال انگیز پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دنیا خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ حتیٰ کہ اسلامی تعاون تنظیم بھی زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس صورتحال میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کے انسانی حقوق کی حمایت حوصلہ افزا ہے۔ ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے بھارت کے ’’خاموش‘‘ اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکومت پر دبائو ڈال کر جموں وکشمیر کا خود مختارانہ سٹیٹس بحال کرایا جائے۔ کشمیری شہریوں کے خلاف زیادتیاں بند کرائی جائیں، گرفتار شدہ سیاستدانوں کو رہا کرایا جائے اور انسانی حقوق کی وحشیانہ پامالی رکوائی جائے۔ گروپ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف طاقت کا استعمال، دو ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتائج خطرناک ہونگے۔ بین الاقوامی رائے عامہ اور جنرل اسمبلی کے صدر کی توانا آواز کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔