آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بیرون ملک بینکوں میں حکومت پاکستان کے 26ملین ڈالرز منجمد

واشنگٹن (واجد علی سید) ریاست پاکستان اور قومی احتساب بیورو کیخلاف مقدمہ جیتنے کی کوششوں کے درمیان، براڈ شیٹ ایل ایل سی نے برطانیہ کے مختلف کمرشل بینکوں میں موجود ریاست پاکستان کے 26؍ ملین ڈالرز منجمد کرا دیے ہیں۔

لندن میں قائم انصاف کی اعلیٰ عدالت (ہائیکورٹ آف جسٹس) کے ذریعے، کمپنی نے تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر حاصل کیا جس میں یونائیٹڈ نیشنل بینک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریاست پاکستان کے مالی اکائونٹس منجمد کر دے۔ اکائونٹس اس وقت تک منجمد رہیں گے جب تک نومبر میں کیس کی حتمی سماعت نہیں ہو جاتی۔

اس کے بعد یہ فنڈز براڈشیٹ کو دیدیے جائیں گے تاکہ ریاست پاکستان کی بقایہ جات ادا کی جا سکیں، اس میں ملک کے پاس اپیل کا حق ہوگا اور نہ ہی قانونی چارہ جوئی کا۔ فیصلے میں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ جب تک سماعت نہیں ہو جاتی اس وقت تک جس فریق کیخلاف فیصلہ سنایا جا رہا ہے (Judgement Debtor) اسے یہ تھرڈ پارٹی رقم ادا نہ کرے، یہ رقم کسی شخص کو بھی ادا نہ کی جائے الا یہ کہ عدالت کوئی اور فیصلہ نہ کر دے۔

فیصلے میں یہ رقم 22؍ ملین ڈالرز بتائی گئی ہے۔ تاہم، پاکستان کو براڈ شیٹ ایل ایل سی کو اب 30؍ ملین ڈالرز ادا کرنا ہیں کیونکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں سود کے جرمانے اور بھاری عدالتی اخراجات بھی جرمانے میں شامل کر دیے ہیں۔

براڈ شیٹ نے پاکستان اور نیب کے وکیل کو بتایا ہے کہ کمپنی کو یونائیٹڈ نیشنل بینک نے بتایا ہے کہ اس نے عبوری آرڈر پر عمل کو یقینی بنانے کیلئے اضافی اکائونٹس کو بھی منجمد کر دیا ہے اور پہلے سے منجمد کردہ 2؍ کروڑ 60؍ لاکھ (26؍ ملین) ڈالرز کی رقم اس کے علاوہ ہے جسے پاکستان کی بقایہ جات کی ادائیگی کیلئے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، براڈ شیٹ نے لندن میں پاکستان کے دیگر کمرشل بینک اکائونٹس کے انتظام سنبھالنے کے متعلق بھی عبوری حکم نامہ حاصل کرلیا ہے۔

کروویل اینڈ مورنگ ایل ایل پی نامی وکلاء کی کمپنی سے نیب اور پاکستان کے وکیل کو خط بھیجا گیا ہے جس میں براڈشیٹ کا کہنا ہے کہ 26؍ ملین ڈالرز منجمد ہونے کے باوجود پاکستان پر واجبات کی مکمل ادائیگی نہیں ہوگی کیونکہ اب مجموعی رقم میں سود کی رقم اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوں گے کیونکہ آپ کے موکیل نے ہائیکورٹ کے فیصلوں کا مان رکھنے میں ناکامی ظاہر کی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک نومبر کی سماعت ہو، اس وقت تک سود کی رقم میں مزید 2.21؍ ملین ڈالرز کا اضافہ ہو چکا ہوگا۔

براڈشیٹ کے خط میں پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ پاکستانی عوام کو مزید بوجھ سے بچانے کیلئے یونائیٹڈ نیشنل بینک میں موجود رقم فوری طور پر ادا کرنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ سود کی رقم میں کچھ کمی واقع ہو سکے۔ جب تک آپ کا موکل بروقت ادائیگی نہیں کرتا، اس وقت تک یقینی طور پر اخراجات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

اہم خبریں سے مزید