سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ لوگوں کو دو دو ہزار سال کی سزائیں سنادیں کیا ایسے ملک چلے گا۔
لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہماری حکومت کو روز ایک تماشا چاہیے، اپوزیشن کی طرف سے بھی کوئی سنجیدہ بات نہیں کی جاتی ہے، گوہر صاحب نے اگرعہدہ قبول کیا ہے تو تھوڑی ہمت بھی دکھائیں۔
فواد چودھری نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ مذاکرات چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آصف زرداری اور شہباز شریف ان مذاکرات کی اونر شپ لیں، لڑائی آپ کی ہو رہی ہے کہ بھگت پاکستان رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، دوسری طرف سے سہیل آفریدی کے متعلق جو بیان آیا وہ افسوسناک ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم ملتان جارہے ہیں، بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل سے رہا کیا جائے، پی ٹی آئی کے اصل اسٹیک ہولڈرز تو جیلوں میں ہیں، شاہ محمود قریشی سمیت تمام لیڈرشپ مذاکرات کا کہہ چکی ہے، پی ٹی آئی کے اصل لوگوں کو آپ نے ٹھڈے مکے مار کے نکال دیا۔
فواد چودھری نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 30 فیصد پاکستانی تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے، ہماری آمدنی اس وقت 2015 کے لیول پر چلی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی اوور سیز پاکستانی اس وقت ایک ڈالر انویسٹ کرنے کو تیار نہیں، ہم اوور سیز پاکستانیوں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا کہا ہے، مذاکرات کے لیے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت نیچے لانا ہوگا۔