آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

والدین کا ادب و احترام اور اُن سے حُسنِ سلوک

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

اسلام کے عائلی نظام اور معاشرتی زندگی میں خاندان کو بنیادی اکائی قرار دیتے ہوئے اسے بنیادی اہمیت اور کلیدی مقام دیا گیا ہے۔خاندان میں ایک مظہر والدین کا وجود ہے۔ارشادِ ربانی ہے: اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ بجزو(اللہ)اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اورا ن کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی ”اُف “ بھی مت کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے با ت کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے(صرف ظاہر داری نہیں، دل سے ان کا احترام کرنا ) تمہارا رب تمہارے دل کی بات خوب جا نتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔

(سورۃ الاسراء )اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنی بندگی و اطاعت کا حکم ارشاد فر ما یا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی بندگی ہر گز مت کرنا ، اس کے بعد فر ما یا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔اولاد کو یہ سوچنا چاہیے کہ والدین نہ صرف میرے وجود کا سبب ہیں، بلکہ آج میں جو کچھ بھی ہوں، ان ہی کی برکت سے ہوں ، والدین ہی ہیں جو اولاد کی خاطر نہ صرف ہر طرح کی تکلیف دکھ اور مشقت کو برداشت کرتے ہیں،بلکہ بسا اوقات اپنا آرام و راحت اپنی خوشی و خواہش کو بھی اولاد کی خاطر قربان کردیتے ہیں ۔

جب بچہ پیدا ہو تا ہے تو اس کی پرورش کے لیے باپ محنت و مشقت برداشت کرتا ہے ، سردی ہو یا گر می ،صحت ہو یا بیما ری، وہ اپنی اولاد کی خاطر کسبِ معا ش کی صعوبتوں کو برداشت کر تا ہے اور ان کے لیے کما کر لاتا ہے، ان کے اوپر خرچ کرتا ہے ، ماں گھر کے اندر بچے کی پرورش کرتی ہے ،اسے دودھ پلاتی ہے، اسے گرمی و سردی سے بچانے کی خاطر خود گرمی و سردی برداشت کرتی ہے ،بچہ بیما ر ہوتا ہے تو ماں باپ بے چین ہو جا تے ہیں ، ان کی نیندیں حرام ہو جاتیں ہیں، اس کے علاج و معالجے کی خا طر ڈاکٹروں کے چکر لگاتے ہیں ۔ 

غرض والدین اپنی راحت و آرام کو بچوں کی خاطر قربان کر تے ہیں،اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنا شکر ادا کر نے کا حکم دیا ہے، وہیں والدین کی شکرگزاری کا بھی حکم ارشاد فر مایا ہے ،سو رۂ لقمان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔

اسلامی معاشرے میں ’’ماں باپ‘‘کی خدمت،ان کی اطاعت و فرماں برداری اور حسنِ سلوک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے

اسلامی تعلیمات میں والدین کی اطاعت و فرماں برداری،ان کی خدمت اور ان سے حسنِ سلوک کی سخت تاکید ملتی ہے۔حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے دریافت کیا کہ اولاد پر والدین کا کیا حق ہے؟آپﷺ نے فرمایا،وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔(سنن ابن ماجہ)یعنی تم ان کی خدمت و اطاعت اور ان سے حسن سلوک اوران کی رضا و فرماں برداری کی بدولت جنت حاصل کرسکتے ہو اور ان سے بدسلوکی اور نافرمانی تمہیں جنت سے جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گی۔

حضرت ابوہریرہؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی ناک خاک آلود ہوئی(وہ ذلیل و رسوا،ناکام و نامراد ہوا) اس کی ناک خاک آلودہ ہوئی۔ اس کی ناک خاک آلودہ ہوئی۔ عرض کیاگیا:اے اللہ کے رسول ﷺ! کس کی؟ آپ ﷺ نےفرمایا، جس نے ماں باپ میں سےکسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپےکی حالت میں پایا اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا۔(صحیح مسلم)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے اپنے والدین کو راضی کرلیا،اس نے یقیناً اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیا اور جس نے اپنے والدین کو ناراض کیا،اس نے یقیناً اللہ کو ناراض کیا‘‘۔آپﷺ نے فرمایا :جتنے بھی گناہ ہیں ،ان میں سے اللہ تعالیٰ جس کی چاہے سزا کو قیامت تک مؤخر فرماتا،لیکن والدین کی نافرمانی کی سزا اللہ تعالیٰ مؤخرنہیں فرماتا،بلکہ والدین کے نافرمان کو اللہ دنیا ہی میں جلد سزا سے دوچار فرماتا ہے۔(ابن جوزی)

اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیاہے:’’وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا‘‘ یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری اور ا کرام و احترام کے ساتھ پیش آئے، بے ادبی نہ کرے ، تکبر نہ کرے ، ہر حال میں ان کی اطاعت کرے ۔

اسلام نے والدین کے ادب و احترام اور ان سے حسن معاشرت کی جو تعلیم دی ہے، دنیا کے کسی مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی

امّ المؤمنین حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ فر ما تی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی بھی تھا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ یہ بوڑھا کون ہے؟ اس شخص نے کہا کہ یہ میرا باپ ہے، آپﷺ نے فرمایا: ان کے آگے مت چلنا ، مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا ، ان کا نام لے کر مت پکارنا، انہیں برا بھلا مت کہنا۔(معجم الاوسط، طبرانی)

بڑھا پے میں جب والدین کی کوئی با ت نا گوار گزرے تو ان سے کیسے گفتگوکی جا ئے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فر ما یا: ﴿ ان سے خوب ادب سے با ت کر نا ، اچھی بات کر نا ، لب ولہجہ میں نر می اور الفا ظ میں تو قیر و تکریم کا خیا ل رکھنا ۔(سورۃ الاسراء)

حضرت عبد اللہ بن عمر وؓفر ما تے ہیں کہ رسول ا للہ ﷺنے ارشاد فر ما یا : اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضی ماں باپ کی ناراضی میں ہے۔ (شعب الایمان)اللہ تعالیٰ نے جہاں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، وہیں ان کے لیے دعا کرنے کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی ہے؛ چناں چہ ارشاد خداوندی ہے: ﴿ اے میرے پروردگار! تو میرے والدین پر رحم فر ما،جیسا کہ انہوں نے بچپن میں (رحمت و شفقت کے ساتھ) میری پرورش کی ہے۔(سورۃ الاسراء )ہر نماز کے بعدوالدین کے لیے دعا کرنے کا معمول بنالیں، دو بہت آسان دعائیں جن کی تعلیم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دی ہے، اے میرے پروردگار ! روزحساب تو میری، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی بخشش فرما۔(سورۃ الابراہیم: ۴۱)

والدین کے ساتھ حسن سلوک رزق و عمر میں اضافے کا سبب ہے، حضرت انس ؓ فر ماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی عمر دراز کردے اور رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے اور رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ (شعب الایمان)ایک حدیث میں حضور اقدس ﷺنے فر ما یا : تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو تمہا ری اولاد تمہارے ساتھ حسن سلوک کرے گی۔(المعجم الأوسط)

والدین یا ان میں کوئی ایک فوت ہوجائیں اور زندگی میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک میں کوتاہی ہوئی ہو تو اس کے تدارک کا طریقہ حضور اقدس ﷺنے سکھایا۔حضرت ابواسید ؓ کہتے ہیں کہ ہم حضور اکرم ﷺکی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ ماں باپ کی وفات کے بعد بھی کوئی چیز ایسی ہے جس کے ذریعے ان سے حسن سلوک کروں؟ توآپ ﷺ نے فرمایا! ان کے لیے رحمت کی دعا کر نا ، ان کے لیے مغفرت کی دعا کر نا، ان کے بعد ان کی وصیت کو نا فذکر نا اور اس صلۂ رحمی کو نبھا نا جو صرف ماں باپ کے تعلق کی وجہ سے ہو، ان کے دوستوں کا اکرام کر نا ۔(سنن ابوداؤد)

مختصر یہ کہ اسلامی معاشرے میں ماں باپ کی خدمت،ان کی اطاعت و فرماں برداری اور ان سے حسنِ سلوک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اسلام نے والدین کے ادب و احترام اور ان سے حسن معاشرت کی جو تعلیم دی ہے،دنیا کے کسی مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔