آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہر سال دنیا بھر میں کتنے افراد فریکچر کا شکار ہوتے ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے زیرِ اہتمام ہر سال دُنیا بھر میں 20 اکتوبر یعنی آج کے دن ’آسٹیوپوروسس کا عالمی یوم‘ منایاجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عارضہ ہے جس میں ہڈیاں اس قدر کمزور ہوجاتی ہیں کہ معمولی سی چوٹ لگنے سے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

آسٹیوپوروسس کے مرض میں بعض اوقات تو ہلکا سا دباؤ پڑنے، مُڑنے، کوئی وزنی چیز اُٹھانے حتیٰ کہ کھانسنے یا چھینکنے سے بھی فریکچر ہوجاتا ہے۔ دنیا بھر میں، بشمول پاکستان، آسٹیوپوروسس کی شرح مردوں کی نسبت خواتین میں بُلند ہے۔ 

ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دُنیا بھر میں آسٹیوپوروسس نوّے لاکھ افراد میں فریکچر کا سبب بنتا ہے۔

آسٹیوپوروسس کی علامات کیا ہیں؟

آسٹیوپوروسس کو ’خاموش مرض‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور مرض اندر ہی اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتا رہتا ہے۔ تاہم، جو علامات ظاہر ہوتی ہیں، اُن میں جسم کی ہڈیوں، جوڑوں میں درد، ہر وقت تھکاوٹ کا احساس، بھوک کی کمی، معمولی سی چوٹ سے ہڈی کا ٹوٹ جانا اور کمر کا جھکاؤ وغیرہ شامل ہیں۔

زیادہ تر مریض ابتد اء میں ان علامات پر توجّہ نہیں دیتے، اِسی لیے جب شدید کمر درد، جو کسی فریکچر یا دبے ہوئے مُہرے کی وجہ سے ہو یا کسی بھی سبب کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو مرض تشخیص ہوتا ہے۔

آسٹیوپوروسس کے عوامل کیا ہیں؟

آسٹیوپوروسس لاحق ہونے کے کئی عوامل ہیں۔ مثلاً منفی طرزِ زندگی، متوازن غذا استعمال نہ کرنا، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، طویل عرصے تک مخصوص ادویہ کا استعمال، جسمانی کمزوری، تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال اور خواتین میں سنِ یاس (مینوپاز) وغیرہ۔

نیز، بعض ایسے محرّکات بھی ہیں جو غیر اختیاری ہیں۔ جیسے عُمر بڑھنے کے ساتھ آسٹیوپوروسس کے خطرات بڑھتے چلے جاتے ہیں لیکن بڑھتی عُمر روکنا کسی کے اختیار میں نہیں۔ اسی طرح سفید یا ایشیائی نسل کے افراد میں آسٹیوپوروسس کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔

بعض اوقات یہ مرض وراثت میں بھی ملتا ہے اور ایسے خاندانوں میں فریکچر ہسٹری پائی جاتی ہے، خاص طور پر والدین میں سے کوئی ایک اس عارضے کے سبب کولھے کی ہڈی کے فریکچر کا شکار ہوجائے  تو مرض کےامکانات بڑھ جاتے ہیں۔

عُمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں میں کیلشیم کی مقدار کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہڈیوں کے افعال متحرّک رکھنے میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر جسم میں ان دونوں کیمیائی عناصر کی کمی واقع ہوجائے تو یہ مرض جلد لاحق ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ جو افراد بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، اُن میں زیادہ فعال رہنے والوں کی نسبت آسٹیوپوروسس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آسٹیوپوروسس کی پیچیدگیوں میں سب سے زیادہ خطرناک کیا ہے؟

آسٹیوپوروسس کی پیچیدگیوں میں سب سے عام اور خطرناک کولھے کی ہڈی یا کمر کے مُہرے کا فریکچر ہونایا پچک جانا ہے۔ کولھے کا فریکچر اکثر گرجانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور زیادہ تر مریض معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بعض اوقات ریڑھ کی ہڈی کے مہرے آہستہ آہستہ پچک یا دب جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمر درد، روزانہ کے حساب سے قد چھوٹا ہونے اور آگے کی جانب جُھک جانے جیسی تکالیف کا

سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیشنل آسٹیوپوروسس فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق کولھے کے فریکچر کے 50برس یا اس سے زائد عُمر کے مریضوں میں سے24فیصد ایک سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں،تو ہپ فریکچرکے چھے ماہ بعد85فیصد مریض کسی سہارے کےبغیر چل پھر نہیں سکتے۔نیز، سالانہ رپورٹ ہونے والے کولھے کے فریکچر کے کیسز میں سے 25فیصد مریض خود اپنی دیکھ بھال نہیں کرپاتے اور 50فیصد تاعُمر محتاجی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔

آسٹیوپوروسس سے کیسے بچا جائے؟

آسٹیوپوروسس سے محفوظ رہنے کے لیے ابتداء ہی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو ہڈیاں طویل عرصے تک مضبوط و توانا رہتی ہیں۔ مثلاً متوازن غذا کا استعمال کیا جائے چونکہ کیلشیم ہڈیوں کی کثافت بڑھانے، ان کی مضبوطی اور فریکچر کے بڑھتے امکانات کم کرنے میں معاون ہے، لہٰذا کیلشیم کا استعمال تو ناگزیر ہے۔

عمومی طور پر روزانہ کی بنیاد پر 18سے 50 سال کے افراد کو (مرد و خواتین) 1000ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر جب خاتون کی عُمر 50 اور مرد کی 70 سال ہوجائے  تو کیلشیم کی ضرورت 1200ملی گرام تک بڑھ جاتی ہے۔

کیلشیم کے حصول کا بہترین مآخذ کم چکنائی والے دودھ کی مصنوعات، گہرے ہرے پتّوں والی سبزیاں اور سنگترے ہیں۔ اگر کیلشیم کی مقدار غذا کے ذریعے پوری نہ ہو رہی ہو تو پھر سپلیمینٹ کیلشیم کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تاہم، کیلشیم کی زائد مقدار میں استعمال کئی طبّی مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے، جن میں گُردے کی پتھریاں بننا بھی شامل ہیں۔ اس کے سدِّباب کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پیئں۔

وٹامن ڈی کی بات کریں تو عام طور پر ایک فرد کو روزانہ وٹامن ڈی کی 600 سے 800 یونٹ مقدار درکار ہوتی ہے جس سے ہڈیاں مضبوط و توانا رہتی ہیں اور قوّتِ مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

پروٹین کا استعمال بھی ضروری ہے، جو سویا بین، گِری دار میووں، لوبیا، انڈوں اور گوشت وغیرہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

مختلف وجوہ کی بنا پر بڑی عُمر کے افراد کم خوراکی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر عُمر رسیدہ افراد کو مناسب مقدار میں پروٹین حاصل نہیں ہورہا ہے تو بہتر ہوگا کہ معالج سے مشورہ کرلیا جائے۔

جوانی میں شروع کی گئی ورزش کے ہڈیوں پر بہت مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں، لہٰذا جتنی جلد ہو سکے، ورزش شروع کریں اور اسے تا عُمر جاری بھی رکھیں۔

یاد رکھیں کہ وزن اُٹھانے کی ورزشیں بازوؤں، ریڑھ کی ہڈی کے اوپری مُہروں اور پٹّھوں کو مضبوط بناتی ہیں اور چلنا، ٹہلنا، دوڑنا، سیڑھیاں چڑھنا، رسّی کودنا وغیرہ پیروں، کولھوں اور نچلے حصّے کی ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔

تیراکی اور سائیکل چلانا بھی اچھی ورزشیں ہیں لیکن یہ ہڈیوں کی صحت اور مضبوطی میں کچھ خاص معاون ثابت نہیں ہوتیں۔

صحت سے مزید