آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہم بعض اوقات یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ہم یاسیت کا شکار ہیں یا اندرونی بے چینی کے سبب ذہنی خلفشار میں مبتلا ہیں۔ ڈپریشن یاسیت یا افسردگی کو کہتے ہیں اور انزائٹی کا مطلب ہے تشویش یا فکرمندی جو بہت ہی تکلیف دہ اور قابلِ رحم بیماریاں ہیں۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتاہے۔ آپ اداس ہیں، آپ کا دل روزانہ کے کاموں میں نہیں لگتا، آپ مایوسی کا شکار ہیں، خود کو بے چینی، گھبراہٹ یا بے بسی کا شکار محسوس کرتے ہیں تو یہ سب ڈپریشن کا شکار ہونے کی علامات ہیں۔ دیگر معاملات میں بھوک نہ لگنا، ٹھیک سے نیند نہ آنا، وزن میں کمی ہونا، فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرنا یا توجہ اور یادداشت میں کمی ہونا شامل ہیں۔ ڈپریشن اگر زیادہ مدت تک رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔

ڈپریشن ہونے کی وجہ؟

مَردوں کے مقابلے میں خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ(NIMH)کے ماہرین کا کہنا ہے، ’’ ڈپریشن مَردوں کے مقابلے میں عورتوں کو زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ مخصوص بائیولوجیکل، ہارمونل اور سماجی پہلو ہیں، جو خواتین کیلئے منفرد ہوتے ہیں‘‘۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خواتین میں خاص طورپر پیریڈز، حمل کے دوران اور زچگی کےبعد ہارمونز کا اتار چڑھاؤ زیادہ ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد عورتیں اکثر پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے گزرتی ہیں، جسے عموماً مرد سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تر نفسیاتی بیماریوں کی وجہ موروثی بیماریاں اور گرد و پیش کے حالات و ماحول ہوتا ہے۔ اگر گھر کے کسی فرد یا رشتہ دار میں سے کوئی ڈپریشن کا شکار رہا ہے تو امکان ہے کہ یہ آپ کو بھی ہوجائے۔ اس کے علاوہ مالی حالات اور اردگرد کا ناساز ماحول بھی ذہنی تناؤ کا باعث بنتا ہے۔ ایسے لوگ بھی ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں جو کینسر، دل کے امراض یا کسی اور دائمی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے لوگوں کے معمولات زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں، وہ لوگوں سے ملنے سے کتراتے ہیں۔

ڈپریشن کا علاج

دوا کے بغیر بھی ڈپریشن سے محفوظ رہنے کے کئی طریقے موجود ہیں، جن میں تناؤ کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں اور یوگا کرنا شامل ہیں۔ تھراپی کروانا اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا بھی ایک اثرانگیز طریقہ ہے، خاص طور کگنیٹو بیہیوریل تھراپی کیونکہ اس میں گفتگو کے ذریعے سوچ و خیالات کا زاویہ اور انداز تبدیل کیا جاتا ہے۔

ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں اور آپ بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہیں تو ایسی صورت میں خوراک کا خیال رکھ کر، نیند پوری کرکے اور باقاعدگی سے ورزش کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ڈپریشن اتنا شدید ہو جس سے آپ کے روزمرہ معمولات متاثر ہوجائیں تو اس کی درست تشخیص کے لیے آپ کو جنرل فزیشن، ماہر نفسیاتی امراض (سائیکالوجسٹ، سائیکاٹرسٹ) یا تھراپسٹ کی مدد لینی چاہیے۔ سائیکالوجسٹ عام طور پر سائیکوتھراپی، کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج کرتا ہے جبکہ سائیکاٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹ کروانے کے بعد دوائی تشخیص کرتا ہے۔

منفی سوچ کو وقت کا زیاں جان کر اپنے حال پر توجہ دیں، ساتھ ہی اپنی سوچ کو منتشر ہونے سے بچا کر پریشان کن خیالات کو ذہن سے جھٹک دیں۔ ایسی چیزوں سے دور رہیں جن کی وجہ سے آپ کا ذہنی سکون خراب ہوتا ہے ۔ کئی لوگ فکر سے بچنے کے لیے ٹی وی، گیمز اور منشیات کا سہارا لیتے ہیں مگر ان کے سہارے دماغ کو طویل عرصے تک پرسکون نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے بجائے آپ مختلف مشقوں کے ذریعے منفی سوچوں کو کمزور سے کمزور کریں اور حال میں مصروف رہ کر پریشان کرنے والے خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔

عالمی ادارہ صحت کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں تین مرتبہ ورزش کرنے سے ڈپریشن کے عارضے میں 16فیصد تک کمی آجاتی ہے جبکہ ہفتہ وار ہر اضافی جسمانی ورزش اس بیماری کے امکانات میں مزید کمی کا باعث بنتی ہے۔ ڈپریشن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ایک عام ورزش یہ ہے کہ آپ فرش یا کرسی پر سیدھے بیٹھ جائیں اور اپنی ٹانگیں کراس کرلیں۔ خیال رہے کہ آپ نے ٹیک نہ لگائی ہوا ور آپ کے پائوں فرش پر ٹکے ہوں۔ اب اپنی آنکھیں بند کریں اور اپنے خیالات پر توجہ دیں۔ 

سانس کو روانی سے آنے جانےدیں۔ اگر کوئی ہلکا سا میوزک چل رہاہو تو اس پر دھیان دیں ورنہ اپنے خیالات پر توجہ مرکوز کریں۔ دھیان بھٹکنے لگے تو واپس انہی خیالات پر واپس آئیں جو تھوڑی دیر پہلے آپ کے دماغ میں موجود تھے۔ آہستہ آہستہ اپنے دماغ سے خیالات کو جامد کرنے کی کوشش کریں۔ یہی عمل ہرروز دس منٹ کے لیے کریں۔

کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو انسان کو ڈپریشن سے بچاتی ہیں؛

چاکلیٹ: برائون چاکلیٹ دماغ میں ’ سیروٹونین ‘ پیدا کرتی ہے، جس سے انسان کے اندر تازگی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ ذہنی دباؤسے آزاد ہوجاتا ہے۔

سبزیاں اور پھل: کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

ہلدی: یہ ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوں کیلئے بھی ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

سویا بین: کسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتر اور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔

ایواکاڈو: ہسٹیریا ، ذہنی دبائو اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار لوگوں کو ایواکاڈو کا استعمال یقینی بنانا چاہیے۔