آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ ربیع الثانی1442ھ 30؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کوویڈ 19کی وجہ سے کھلاڑی جسمانی اور مالی مسائل سے دو چار ہو رہے ہیں، مدینہ ظفر

انٹر نیشنل اسکواش پلئیر مدینہ ظفر کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے کھلاڑی مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ بعض ڈیپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں سے توجہ ہٹالی ہے جس کی وجہ سے کھلاڑی جسمانی اور مالی مسائل سے دو چار ہو رہے ہیں۔

‏ انٹر نیشنل اسکواش پلئیر مدینہ طفر نے گزشتہ ہفتے لاہور میں ٹاپ سیڈ آمنہ فیاض کو شکست دے کر پی ایس اے رینکنگ اسکواش تورنامنٹ جیتا، وہ اس ٹورنامنٹ میں سیکنڈ سیڈ تھیں۔

‏ مدینہ ظفر کا کہنا ہے کہ دوسرے شعبوں کی طرح کھیل میں بھی کوویڈ 19 کے گزشتہ 8 ماہ کھلاڑیوں کے لیے اچھے نہیں رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے بعض ڈیپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں سے توجہ ہٹا لی ہے، ان کی سرپرستی نہیں کی جا رہی ہے۔

وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کھیل کی سرگرمیاں نہیں ہو رہیں تو ایسے میں کچھ ڈیپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں کو اسپورٹ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے کھلاڑی مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ فٹنس مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں اور ٹورنامنٹس نہیں کھیل پا رہے۔

‏ مدینہ ظفر کا کہنا ہے کہ ان کے ڈیپارٹمنٹ آرمی نے کووویڈ 19 کے دوران بہت اسپورٹ کیا ہے۔ انہیں ہر طرح کی سہولت حاصل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مکمل فٹ ہیں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کر رہی ہیں۔

‏مدینہ ظفر کا ماننا ہے کہ اسکواش ایسا کھیل ہے جو کورونا وائرس کے دوران کھیلا جا سکتا ہے، تھوڑی بہت احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں یہ کھیل کونٹیکٹ والا نہیں ہے، صرف ہاتھ ملانا ہوتا ہے اور اس کی احتیاط کی جا سکتی ہے۔ کورٹ کے علاوہ ماسک پہنیں اور ہاتھ دھوئیں، کونٹیکٹ اسپورٹس نہ ہونے کی وجہ سے ہی ایس اے ایونٹس کرا رہا ہے۔ اس لیے اسکواش میں احتیاطی تدابیر کا خیال رکھ کر اسے جاری رکھا جا سکتا ہے۔

‏ مدینہ ظفر کہتی ہیں کہ ان کی انٹر نیشنل رینکنگ 75 رہی ہے لیکن پھر ایونٹس کا سلسلہ رُک گیا۔ اب دوبارہ سے رینکنگ ٹورنامننٹس کا آغاز ہو گیا ہے تو ان کا ٹارگٹ ہے کہ وہ جلد ٹاپ 50 میں جگہ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جونہی پی ایس اے کے ایونٹس بڑھیں گے میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گی، آئندہ ہونے والی کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں بھی ملک کے لیے میڈل جیتنا چاہتی ہوں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید