آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پانی… آج دنیا بھر کے ممالک میں باہمی و سرحدی تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ بن گیا ہے۔ اندرون ملک پانی کی کمیابی اور نایابی سے تو ہم سبھی واقف ہیں لیکن تین سو سے زیادہ بین الاقوامی دریائوں، نہروں، جھیلوں اور ندیوں کے کنارےآباد ملکوں میں پانی کے استعمال اور تقسیم کے سوال پر تنازعے سنگین رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ برصغیر میں گنگا برہم پتر اور میکانگ وغیرہ دریائوں کے پانی کی تقسیم پر پڑوسی ملکوں میں تنازعے چل رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں یہودیوں، فلسطینیوں اور اردن کے درمیان تصادم نہ صرف مذہب اور علاقے کا ہے بلکہ پانی کا استعمال بھی جھگڑے کی ایک اہم وجہ ہے۔ ابھی حال ہی میں شام اور اسرائیل میں گولان کی پہاڑیوں کی واپسی کیلئے اسرائیل اور شام میں جو گفت و شنید ہوئی، اس میں پانی کے ذخیرے اور تقسیم کا بطورِ خاص ذکر ہوا چونکہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی پانی کی تقسیم کا فارمولا قبول نہ تھا۔ اس لئے کوئی معاہدہ نہ طے پا سکا۔ یورپ کا سب سے بڑا دریا ڈینوب جو کہ اکثر یورپی ممالک کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے، اُس کے پانی پر بھی وسطی یورپ کے ممالک میں اکثر زبانی کلامی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

امریکہ کے مغربی علاقے کی ریاستوں میں کولو راڈو اور دیگر دریائوں پر تنازع اور مشہور پلنٹ نہر سے متعلق، فلوریڈا اور جارجیا ریاستوں کے درمیان تنازعوں کی خبریں اکثر اخبارات میں جگہ گھیرتی رہتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے چیف انجینئر پیر نے نجلس کے ایک بیان کے مطابق پانی سے متعلقہ تنازعے اب صرف ملکوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ ایک ہی ملک کی مختلف وزارتوں، ریاستوں اور صوبوں کے درمیان بھی موجود ہیں۔ ہمارے یہاں سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم پرتنازع کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ بھارت میں کرشنا کا ویری اور جمنا کے پانیوں کی تقسیم پر مختلف صوبوں اور ریاستوں کے درمیان تنازعے ابھرتے رہتے ہیں۔اگرچہ خوش حال اور ترقی یافتہ ملکوں میں پانی کی قلت اب تک سنگین مسئلہ نہیں بنی لیکن ایسا ناممکنات میں نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی2019کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی مجموعی آبادی میں سے 20فیصد افراد کو محفوظ اور پاک، صاف، شفاف پینے کا پانی میسر نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ برسوں میں دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی پانی کے مسئلے سے دوچار ہو جائے گی۔ عالمی بینک کے مشیر جی پیس کے مطابق دنیا کے تمام حصوں میں پانی کی کمی کا دبائو بڑھتا جا رہا ہے مگر ترقی پذیر ملکوں کی حالت بہت زیادہ بری ہے، یہاں تیس سے چالیس فیصد آبادی پینے کے پانی سے یکسر محروم ہے۔ اس وقت دنیا کے اسی ممالک میں پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے مگر مشرق وسطیٰ، جنوبی مشرقی ایشیا،(جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، وغیرہ شامل ہیں) شمالی افریقہ ، وسط ایشیا اور صحارا افریقہ کے ملکوں میں پانی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ پانی کا یہ مسئلہ کیوں درپیش ہے؟ بلا شبہ اس کا بنیادی سبب دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ساڑھے چار بلین سال بوڑھی اس دنیا کی آبادی 7بلین سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اور آئندہ 25برسوں میں اس بوڑھی دنیا کی موجودہ آبادی 8.5بلین تک پہنچ جائے گی مگر پانی کی مقدار اتنی ہی رہے گی جتنی اب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس زمین پرتین حصے پانی اور ایک چوتھائی خشکی ہے۔ اور پانی کی سمندر میں اتھاہ گہرائی زیادہ سے زیادہ گیارہ ہزار میٹر ہے لیکن کرہ ارض پر موجود پانی کا 97.5فیصد حصہ کھارا ہے اور باقی پانی کے ایک فیصد حصے تک ہی انسان کی رسائی ہے۔ باقی پینے کے قابل پانی زمین کے نیچے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہے۔ اسکے بعد بھی جو پانی بچتا ہے وہ پوری دنیا کیلئے کافی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسانی لاپروائیاں اور سرگرمیاں پانی ضیاع کا باعث بن رہی ہیں۔ آلودگی نے پانی کے ایک بڑے حصے کو استعمال کے قابل نہیں چھوڑا، اُس کا اندازہ اِس بات سے کیجئے کہ ترقی پذیر ملکوں میں تقریباً 90فیصد انسانی غلاظت بے روک ٹوک آبی وسائل میں شامل ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں ہیضے ،پیچش اور معدے کی کئی بیماریوں نے اپنے پائوں مضبوطی سے جما لئے ہیں۔ عالمی صحت کی تنظیم کا اندازہ ہے کہ ان بیماریوں سے ہر سال 50لاکھ لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کیا جا سکتا ہے؟پہلے مرحلے میں تو مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کر کے اس کے خطرناک نتائج کو سمجھنا ہو گا۔ علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں پانی کی تقسیم کے نظام کی جدید کاری بہت ضروری ہے جس سے پانی کے ضیاع اور اُسے آلودہ ہونے سے روکا جا سکے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس پر 600بلین ڈالر خرچ آئےگا۔ اس سمت میں کئی ملکوں نے پہل شروع کر دی ہے۔ اِس سلسلے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ کام موسم کی حدت کی درست پیش گوئی پر کیا گیا ہے۔ سمندر کے پانی کو صاف پانی میں تبدیل کرنا، مصنوعی بادل بنانا، پانی کے نئے وسائل کی تلاش، اور خراب پانی کو صاف کرنا ایسے مسائل ہیں جن پر ریسرچ کا آغاز ہو چکا ہے۔

تازہ ترین