آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

روس کی معیشت بیشتر صنعتی ممالک کی نسبت تیزی سے بحال

ماسکو: میکس سیڈن

روس کے نائب وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کے دوران حکومت کی روس نے معیشت کو سہارا دینے کے لئے جو اہداف کی حکمت علی اپنائی اس نے بیشتر صنعتی ممالک کے مقابلے میں تیزی سے بحالی میں مدد دی۔

اگرچہ کریملن کے 4 ٹریلین روبیل (54.3ارب ڈالر) کووڈ19 سپورٹ پیکیج مجموعی ملکی پیداوار کی 4 فیصد قلیل رقم تھی، یا جرمنی، اٹلی اور امریکا کی جانب سے فراہم کردہ امداد کے دسویں حصے سے بھی کم تھی، روس کا تخمینہ ہے کہ اس کے جی ڈی پی میں گزشتہ اسی دورانیے کے مقابلے میں سکڑاؤ 8 فیصد سے کم ہوکر 2020 کی تیسری سہ ماہی میں 3.6 فیسد تک رہ گیا، جس کی وجہ سے روس جی20 ممالک میں ٹاپ فائیو میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔

وائرس کے حملے سے قبل روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حکم پر جاری مالی محرک سے روس کو فائدہ ہوا، اس محرک میں سے رواں سال 1.75ٹریلین روبیل خرچ ہوچکے ہیں۔

ولادی میر کولیچو نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض باتیں ہیں کہ روس کے انسداد بحران پیکیج کا حجم کم تھا۔معیشت کو اس بات کی فکر نہیں کہ آپ اپنے اخراجات کو کس طرح تیار کرتے ہیں،اہم بات یہ ہے کہ اس میں اضافہ ہو۔

ولادی میر کولیچو نے مزید کہا کہ ملک تیزی سے دوبارہ بحالی میں کامیاب رہا ہے کیونکہ اخراجات کے اہداف نے کورونا وائرس بحران سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر بنادیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس نے اس سال سرکاری اخراجات میں 27 فیصد اضافہ کیا ہے ،روسی حکومت کے دعوے کے مطابق یہ اعدادوشمار یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک سے زیادہ ہیں۔

ولادی میر کولیچو نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ دوسری سہ ماہی میں روس کی معیشت کو کم نقسان اٹھانا پڑا اور تیسری سہ ماہی میں زیادہ تیزی سے بحال ہوئی۔یہ صرف ہمارے امدادی اقدامات کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ چونکہ خود روس میں قرنطینہ کی تشکیل یورپ کے مقابلے میں مختلف تھی۔

گزشتہ اتوار کے روز 29 ہزار 39 کے نئے ریکارڈ کورونا کیسز کے ساتھ دنیا بھر کے تین ممالک کے علاوہ روس میں کووڈ19 کے کیسز زیادہ درج ہوئے۔

تاہم صدر ولادی میر پیوٹن نے مقامی حکام کو تفویض کیے گئے پیچ ورک کے حق میں ملک گیر لاک ڈاؤن عائد کرنے کا انتخاب نہیں کیا ، جس نے صارفین کے شعبے کو مکمل طور پر بند کرتےہوئے بڑی حد تک روس کی صنعت کو تنہا کردیا۔

بحالی کے منصوبے نے ٹیکس کی چھوٹ اور قرض کی ضمانتوں کو فائدہ پہنچانے میں کاروبار اور شہریوں کو براہ راست ادائیگی کرنے کیلئے تیل اور گیس کی دولت سے ہونے والی 167 ارب ڈالر کی بچت کے استعمال سے اجتناب کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کی ڈپٹی چیف اکانومسٹ ایلینا رباکوفا نے کہا کہ کووڈ19 کے تناظر میں روس کی فعال مالی امداد بہت کم تھی۔یہ حیران کن نہیں ہے کیونکہ روس کو کووڈ، تیل اور امریکی انتخابات کے پیش نظر پابندیوں کے خطرے سے 2021 میں تین گنا جھٹکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاشی نقصان کو قابو میں رکھنے کے لئے لاک ڈاؤن کو محدود رکھنے کی ریاضی کے حساب سے ملک میں عالمی سطح پر ایک تھوڑا سا سکڑاؤ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا روس میںصحت کی نگہداشت کا نظام بڑی تعداد میں کووڈ19 کیسز سے نمٹنے کے قابل ہے یا نہیں۔

ولادی میر کولیچو نے کہا کہ کورونا وائرس پیکج میں چند براہ راست امدادی اقدامات میں سے ایک میں ، بچوں والے خاندانوں کو سالانہ ادائیگی میں روس کی سالانہ 500 ارب روبیل ادائیگی نے دوسری سہ ماہی میں صارفین کی سرگرمیوں میں 3 سے5 فیصد تک اضافے میں مدد کی تھی اور 1 سے 2 فیصدتک یہ اضافہ جاری ہے۔

روسی حکومت نے چھوٹے کاروباروں اور پیٹروکیمیکل سمیت کاروباری شعبوں کے لئے متعدد ٹیکس بریکس کی منظوری دی، جس میں آئی ٹی کے کاروبار میں 20 سے 30 فیصد تک کمی شامل ہے۔

ولادی میر کولیچو نے دعویٰ کیا کہ روس کی جی ڈی پی میں سکڑاؤ نہ ہونے کے برابر ہوتا اگر وبائی مرض کی پہلی لہر کے دوران پیداوار کو محدود کرنے کیلئے اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والوں کا معاہدہ نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک نے اپنے اخراجات میں تیزی سے اضافہ نہیں کیا ہے۔امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں ایسا ہوسکتا ہے، لیکن ان کے پروگرام واضح طور پر اس انداز میں ترتیب دیئے گئے تھے،جن سے صارفین کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ نہیں ہوا تھا۔وہ بحال ہوچکے ہیں تاہم وہاں صارفین کے ا خراجات میں اضافہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان عارضی فوائد کو ان شعبوں میں ترقی کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے جہاں لوگوں کو اپنی آمدنی میں سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اگر آپ امیروں سمیت سب کو رقم دیتے ہیں تو امیر مشکل سے اپنی خرچ کرنے کی عادات کو بدل رہے ہیں۔

ولادی میر کولیچو نے روس کے167 ارب ڈالر کے نیشنل ویلتھ فنڈ کو خرچ نہ کرنے کی فیصلے کا دفاع کیا ،معاشی محرک کی ادائیگیوں کیلئے اضافی تیل اور گیس کی آمدنی کو محفوظ رکھنے پر کہا کہ اس کو بحران سے نکلنے کے راستے کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے "وقت کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کی آمدنی کو کافی حد تک پھیلانے" کے لئے بچانا پڑا۔

وزارت خزانہ نے وبائی مرض کے دوران بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے کچھ فنڈ کا استعمال کیا،لیکن اس نے اخراجات کو فروغ دینے کے لئے تیل کی بچت کو استعمال ،یں لانے کی بجائے اس نے ملکی قرضہ 5 ٹریلین روبیل تک قرض دگنا کردیا۔

ولادی میر کولیچو نے کہا کہ جب زوال آیا تو نجی شعبہ خرچ کرنے میں محتاط ہے اور قرض کی جانب نہیں جانا چاہتا، اور مالیاتی شعبہ نجی شعبے کو قرض نہیں دینا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دیوالیہ ہونے کا خطرہ کافی زیادہ ہوسکتا ہے۔اس سے نجی شعبے کے لئے قرضوں کی مالی اعانت کی فراہمی کا مسئلہ پیدا ہوئے بغیر ریاست کے لئے زیادہ قرض لینے گنجائش پیدا ہوئی۔

گذشتہ ماہ روس نے مارکیٹ کے سازگار حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رواں برس پہلی بار یورو بانڈ 2 ارب یورو کی سطح تک بلند کیے،ایک ایسے وقت میں جب کریملن کو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے آئندہ سال روس پر پابندیاں بڑھانے کا خدشہ ہے۔

ولادی میر کولیچو نے کہا کہ ہم نے مستقبل میں امریکی پابندیوں کے اثر کو کم کرنے کے منصوبے بنائے ہیں جو غیر ملکیوں کو روس کا قرضہ روکنے سے روکیں گے۔ان ممکنہ جوابی اقدامات میں روسی قرض دہندگان کے لئے ریگیولیٹری آسانی اور ثانوی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کے لئے مستقبل میں اجراء میں وقفہ شامل ہے۔

تاہم اس کے باوجود غیرملکی روس کے روبیل بانڈز کے ایک تہائی سے ذیادہ کے حامل ہیں، ولادی میر کولیچو نے کہا کہ روسی حکومت ضرورت پڑنے پر مقامی طلب کے ذریعے ان کی جگہ لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس میں روس کے خودمختار قرضوں کی غیرملکی حصولیت نقد رقم کے لحاظ سے زیادہ نہیں بڑح سکی ہے۔اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ جہاں تک قرض کا تعلق ہے، غیرملکی سرمایہ کاروں پر اتنا زیادہ انحصار نہیں ہے۔ ہمارا ملکی مالیاتی نظام قرض کی موجودہ سطح سے باآسانی نمٹ سکتا ہے۔ 

فنانشل ٹائمز سے مزید