آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

2020ء میں کورونا کے سبب دیگرشعبہ ہائے زندگی کی طرح ادب بھی متاثر تو ہوا، لیکن صرف محافل کے انعقاد کی حدتک کہ کوروناوائرس کے حوالے سے لاتعدادنظمیں اور کہانیاں بہر حال لکھی گئیں۔پھر وباکے موضوع پرتواترسے کالم بھی لکھے گئے اوروبائی صورتِ حال کی ڈراموں میں عکّاسی بھی کی گئی۔ جیسا کہ آصف فرّخی مرحوم کے مرتّب، کردہ ’’دنیازاد‘‘ کا ’’وبائی ادب نمبر‘‘ منظرِ عام پر آیا۔ دوسری جانب،وبائی دَور میں آن لائن مشاعروں کو خوب فروغ ملااوراب تویہ سلسلہ ایک مستحکم روایت بن چُکا ہے۔ جب عہدِ حاضر کی اب تک کی سب سے بڑی آفت کورونا نازل ہوئی اور دنیا کے ہر حصّے کے انسان کو اس کا علاج سماجی دُوری بتایا گیا تو ایسے میں انسانوں نےاظہارِ خیال کے لیے شاعری کا سہارا لیا۔ 

عالمی وبا ، سماجی دُوری نے شاعری میں فی البدیہہ کام کو تقویت بخشی اور ’’کورونائی شاعری ‘‘تخلیق ہوئی۔ جیسے،احسان عبّاس کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے؎ اے مِرے ہم نفس بس کوئی دن قفس، یہ مصیبت بھی آخر کو ٹَل جائے گی…چائے خانے میں سب یار بیٹھیں گےاور شاعری ہر پیالے میں ڈھل جائے گی۔ اسی طرح ایک اور شاعر نے کہا؎ہم ہاتھ نہیں ملائیں گے…یہ وقت دِلوں کے ملانے کاہے…ہم نے تنہائی اوڑھ لی…اور انسانیت کی اِکائی کو سرہانا بنالیا۔تو اشرف یوسفی نے بھی کیا خُوب کہا کہ؎ موت کرتی ہے طواف آج گلی کُوچوں کا… ساری یادیں دلِ بیمار سے لگ کر بیٹھیں…چیختی پِھرتی ہےاس دشت کی مسموم ہوا…سب پرندےتنِ اشجار سے لگ کر بیٹھیں۔لاک ڈاؤن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کئی ادباء ، شعراء اورتخلیق کاروں نے اپنے کئی نامکمل کاموں کوپایۂ تکمیل تک پہنچایااور لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی چھاپہ خانوں کا رُخ کیا،پھردیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کتابیں منظرِ عام پر آگئیں۔ 

عموماً کہا جاتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیااورسوشل میڈیاکی برق رفتاری نے لوگوںکوادب اورکتاب سے دُورکردیاہے،لیکن سالِ گزشتہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ آج بھی کتاب کوخاصی اہمیت حاصل ہے۔بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ کورونائی ایّام میں کتب بین افراد کی تعدادمیںخاصااضافہ ہواکہ لاک ڈاؤن کے بعد اُردوبازار، کراچی میں پائوں دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ ہردُکان میں کتابیں خریدنے والوں کاہجوم نظرآیا۔کہا جاتا ہے کہ ’’کوئی بھی معاشرہ کتاب سے تعلق جوڑےبغیرترقّی نہیں کرسکتا‘‘تو کورونا وائرس نے ہمارے معاشرے میں کتب بینی کا رجحان پھر سے زندہ کر دیا،اب لوگ دوبارہ سےکتاب سے رابطہ استوار کر رہے ہیں۔ وہ پیرزادہ عاشق کیرانوی (مرحوم) نے بھی کیاخُوب کہاہے ؎سرورِ علم ہے، کیفِ شراب سے بہتر…کوئی رفیق نہیں ہے ، کتاب سے بہتر۔

ہماراماضی،حال کاآئینہ ہے اورمستقبل فکرِآئندہ کی اساس ۔ہم اپنے ماضی کوفراموش کرکے ’’حال‘‘کوکیسے تاب ناک بناسکتے ہیں۔اگر لمحۂ موجود اپنی گرفت میں رکھیں ، تو ہمارا مستقبل بھی نئے امکانات کامظہرہوگا۔2021ء کا آغاز ہوچُکا ہے۔گزشتہ سال ہم جس صورتِ حال سے گزرے، اس سے دل لہولہو، اور آنکھیں اشک بارہیں۔اللہ کرے کہ یہ نیا سال کورونا کے خاتمے کاسال ثابت ہو،محبتیں پروان چڑھیںاورامن کی فاختہ راج کرے۔اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی دُعاکرنی چاہیے کہ یہ سال خوش گواریادوں کے ساتھ اختتام پذیرہو۔

اگر اِن شاء اللہ نئے سال میں حالات بہتررہے ،توادب اپنے تسلسل کے ساتھ تخلیق ہوگا۔جس کا جواندازہے،وہ اُسی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی تخلیقات پیش کرے گا،اس کے برعکس اگر خدانخواستہ صورتِ حال سازگارنہ ہوئی، تواس کے اثرات ادیبوں ،شاعروں کی تحریروں میں بھی دَرآنے کاامکان ہے۔نا موافق حالات میں تخلیق کیے جانے والے ادب کو ’’مزاحمتی ادب‘‘کے خانے میں رکھاجاتاہے۔ مگر کسی دانش وَر نے کہا تھا کہ’’بد ترین حالات ہی میں اچھا ادب تخلیق پاتاہے۔‘‘یقیناً اس منطقی مفروضے کاکوئی نہ کوئی تو جواز ہوگا کہ تخلیق کارکوعام حالات میں موضوعات کی تلاش رہتی ہے،لیکن نا خوش گوار حالات،تخلیق کارکوخودبہ خوداپنی طرف متوجّہ کرلیتے ہیں۔

2020ء میں ’’کاروانِ سخن‘‘کی کئی نابغہ شخصیات ہم سے بچھڑ گئیں،جو اپنی کارکردگی کے حوالے سے ادبی دنیامیں منفردمقام کی حامل تھیں،اللہ اان کی مغفرت فرمائے۔یقینِ کامل ہے کہ ان کی تحریروں کی بازگشت نہ صرف 2021 ء میں بلکہ رہتی دنیا تک سنائی دے گی،کیوں کہ لکھنے والاکسی ایک زمانے کے لیے نہیں لکھتا۔ ادیب کی نگاہ تودُورتک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہےاورہماراعقیدہ ہے کہ ادیب کبھی نہیں مرتاکہ وہ تووہ اپنی تخلیقات کے رُوپ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں ’’ادب ،سماج کاآئینہ ہے‘‘اور اس فقرے کومسلسل دُہرایا جاتا ہے۔ فی زمانہ، ادب اورسماج کاتعلق معدوم ہوتادکھائی دے رہاہے ۔

ادب کے اجزائے ترکیبی میں اظہارکوفوقیت حاصل ہے ۔ اظہار کے ساتھ ابلاغ لازم و ملزوم ہے ۔اگریہ تلازمہ ادبی اظہارسے جڑاہوتاہے توادب،سماج کاآئینہ ہے،ورنہ یہ آئینہ’’محدب عدسہ‘‘بن کررہ جاتاہے۔ سالِ نو میں ہمیں آمریت اور جمہوریت کا فرق جاننے کے لیے کسی’’دانش ور‘‘کی تلاش ہےکہ ہمیں اردوادب کامستقبل بھی آمروں اورجمہوریت کے علم برداروں کے ہاتھ میں نظرآتاہے۔زارکے زمانے کے روس نے ٹالسٹائی اورچیخوف جیسے قلم کاروں کوروسی عوام کانمائندہ بنادیاتھا۔طبقاتی کشمکش ، انقلاب کاباعث بنی۔اس انقلاب کی جڑوں میں ادب کی کارفرمائی واضح طورپردیکھی جاسکتی ہے۔ یہی حال انقلابِ فرانس کابھی ہوا،ماضی کی بازیافت کی ضرورت یوں محسوس ہورہی ہے کہ پاکستان بھی طبقاتی کشمکش اورلسانی ومذہبی منافرت کاشکارہے۔

ادب کی تخلیق کے لیے مثالی صورتِ حال کے باوجودپاکستان میں روسو، چیخوف اورولیم ورڈزورتھ جیسے لوگ ناپیدہیں۔ کسی ادب کی آفاقیت کوتلاش کرنے سے قبل اُس خطّے کے معروضی حالات کو پیشِ نظررکھناضروری ہوتاہے۔اس اعتبار سے ہمارے یہاں علاّمہ اقبال اورفیض احمدفیض جیسے شعراء اور سعادت حسن منٹواورخدیجہ مستورجیسے افسانوی ادب کے لازوال تخلیق کار موجود ہیں۔ پھر موجودہ منظرنامہ،ادب سے عدم دل چسپی کاشکارکیوں؟اب دیکھنا یہ ہے کہ 2021ء میں ادبی امکانات کی جہات کیاہوں گی ۔اس سوال میں کہیں نہ کہیںابلاغ کے مسائل پوشیدہ ہیں۔کیا ہمارا ادیب یا شاعر، تخلیقی سطح پراپنے عصرکو لکھ رہاہے؟ اگرلکھ رہاہے، توکیااس کی زبان عصرکی نمائندگی کررہی ہے؟اس سوال پرغورکرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ دنیابھرکے علوم وفنون کی قوت اُن کے اظہارمیں پنہاں ہے ۔ 

کہیں ایساتونہیںکہ ادب کی آغوش میں پلنے والی اُردوصحافت نے تیزی سے کام یابی کی منازل طے کرلیں،جس سے ادبی اظہار کا نمایاں وصف’’علم البیان‘‘ قصۂ پارینہ بن کررہ گیا۔ پچھلے برس، افسانوی ادب کوخاصافروغ ملا۔اب ایسامحسوس ہورہاہے کہ مشاعروں کی روایت دَم توڑرہی ہے۔ساکنانِ شہرِقائدکے ابتدائی مشاعروں کااحوال اورآج کی صورتِ حال سب کے سامنے ہے ،اگرنئی نسل،پرانی روش پرچلتی رہی ،تویہ سراسراپنے عصر سے رُو گردانی ہوگی۔

آج کادَورسائنس اورٹیکنالوجی کادَورہے۔مشاہدے اورتجربے نئے امکانات پیدا کرتےہیں۔ہراچھی تخلیق ،زمان ومکان کی قیودسے آزاد ہو کرہر زمانے کی قرارپاتی ہے، لیکن اوّلین ابلاغ ،اس کے معاصرین و سامعین ہی کامرہونِ منت ہوتاہے۔ اس اعتبار سے مایوسی اورناامیدی نظرنہیں آتی،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثرتخلیق کار، اُردوتدریس کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کاشکارہیں،جس کے سبب اُردوادب کی ابلاغی سرگرمیاں ،لکھنے والوں کی تخلیقی سرگرمیوں سے ہم آہنگ نظرنہیں آتیں۔

اس صورت میں تخلیق کاروں کی ذمّے داریاں اوربڑھ جاتی ہیں کہ وہ تخلیقی عذاب سہیں،سماج کی بے اعتنائی سے نبردآزما بھی ہوں اور عُہدے و منصب پرفائزسطحی لوگوں کی خوشامدکازینہ بھی طے کریں۔حالاں کہ اس صورتِ حال میں تخلیق کارکوانتہائی انہماک کی ضرورت ہے۔18ویں صدی تک ارسطوکے نظریات پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے ۔وڈزورتھ نے اپنی تخلیق کابنیادی تلازمہ، فطرت کو قرار دیا، تو2021ء کے ادب میں تبدیلی اسی صُورت آسکتی ہے،جب ہمارے شاعر، ادیب اورنقّاداپنی داخلیت کوخارجیت سے ہم آمیز کریں۔ اگر ایسا نہیں ہوا،توآج کے ناقد کو بھی غزل نیم وحشی صنف ہی نظرآئے گی۔

2021 ء میں پاکستانی قلم کاراپنی فن کارانہ وتخلیقی صلاحیتوں سے قوم کوبحرانی کیفیت سے نجات دِلاسکتے ہیں،مگرافسوس،ہم مختلف خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔جس کی وجہ سے قومی یک جہتی کاتصوّرمعدوم ہوتاجارہاہے۔ اگرہمارے قلم کارمزاحمت کی حدود سے نکلیں اور انقلاب کے دَرواکرنے کی جدّوجہد کریں ،تو یقیناً ہم اس سال تغیروتبدّل کا نیا باب رقم کرسکیں گے ۔سالِ رواں میں ادب کاکردارجامع اور اثر انگیز ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے اوّلین شرط یہی ہے کہ افرادِمعاشرہ، تعلیم یافتہ اوراچھے ادبی ذوق کے حامل ہوں۔ تعلیمی پس ماندگی اوربدنماسیاسی کلچرکی وجہ سے ادبی صورتِ حال خاصی متاثرہوگئی ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی زندگی میں آمرانہ جبرواستحصال کے نتیجے میں جو مزاحمتی ادب پیش کیا گیا، اُسے بھی نئے لہجے اورتازہ اظہارسے تقویت ملے گی۔

آج کے مخصوص سیاسی اور سماجی حالات کی بدولت نئی نسل میں حقیقی صورتِ حال کوپوری طرح سمجھنے کی سنجیدہ کوشش بھی نظر آرہی ہے ۔طنزیہ اورمزاحیہ اظہارمیں ہم عصرقلم کاروں نے خاصی دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔ اکیسویں صدی ،حقائقِ حیات کی صدی ہے،جس کے بہت سے زاویے ہیں۔تمام اصنافِ سخن کواپنے اپنے ہیئتی تقاضوں کے مطابق ہم عصرزندگی کاکوئی نہ کوئی اچھوتاعکس پیش کرناہوگا،تاکہ اس دَورکی عکّاسی کے عمل میں ایک دوسرے کے ہم رکاب ہوں۔

ہمیں یقین ہے کہ2021ء میں ادب اورسماج کے رشتے مستحکم ہوں گے اور تنقیدکے میدان میں ہلچل پیداہوگی ۔شاعری کاپلڑا تو ہردَورمیں بھاری رہتا ہے ،لیکن نثرمیں بھی اچھی تخلیقات آنے کی توقع ہے ۔اس وقت مغربی دنیامیں ناہم وارمعاشی استحکام کے خلاف جومباحث چل رہے ہیں ، ان کی وجہ سےمفکرین، سماجی تبدیلی کے لیے ادب کے کردار پر زیادہ زوردے رہے ہیں۔اس وقت امریکا میں امتزاجی تنقیدکے خلاف بہت لکھاجارہاہے،جس سے برصغیر کی اُردو تنقید بھی متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتی۔

پاکستان میں شعری،نثری،تنقیدی اورتخلیقی ادب کے حوالے سے مسلسل نیاکام سامنے آرہاہے ۔معاشرے کومتوازن ،خوش ترتیب اور معتدل رکھنے کے لیے ہمیں اپنی ظاہری اور باطنی زندگی میں حُسن وتوازن قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ادب اوردیگرفنونِ لطیفہ کی بقا اوراستحکام کے لیے بھی عملی جدّوجہد کاجاری رکھنا ضروری ہے ۔ہمارا خیال ہے کہ سالِ رواں میں غزل اور افسانے کوزیادہ پذیرائی حاصل ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اردوافسانے نے ہماری تہذیبی اورسماجی زندگی میں ارتعاشات کاایک نیاریکارڈقائم کیاہے۔غزل تو ہر دَور میں تہذیبی وثقافتی مزاج کاحصّہ رہی ہے، یہ انسانی احساس کے اظہارکاسب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ان دونوں اصناف میں بہتراور مؤثر کارکردگی کی توقع ہے۔

ہمارے ادیب، شاعراوردانش وَرایسے مستقبل کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں،جس میں یگانگت اوریک جہتی کوخواب کی بجائے ،اساس کادرجہ حاصل ہو۔ بلاشبہ لکھنے والاعلم ِغیب نہیں رکھتا، لیکن اس کا مشاہدہ،مطالعہ اورتجربہ،اسے اُس منزل پرلے جاتاہے، جہاں سے وہ مستقبل کے امکانات کابھی جائزہ لے سکتا ہے ۔ادیب،صرف اپنے دَورکے لیے نہیں لکھتا،اس کی سوچ وفکرآفاقی ہوتی ہے۔ وہ چاہتاہے کہ اس کی تخلیقات آنے والے زمانے میں بھی اپنا تشخّص برقراررکھ سکیں۔ نئے زمانے کی تحریروں میں قدماء کے حوالے اسی لیے دئیے جاتے ہیں کہ اُن کی تحریروں میں نیاعہدبول رہاہوتاہے۔مانا کہ اب وہ علاقے پاکستان میں شامل نہیں رہے،جن کی خاک سے میرو غالب اُٹھے، مگر جوادب انہوں نے تخلیق کیا، ہماری قومی میراث کاحصّہ ہے۔پشاورسے کراچی تک ہمارے اہلِ ادب میر،غالب اوراقبال کے جلائے ہوئے چراغوں سے روشنی حاصل کررہے ہیں۔

یہ تینوں شعراء ماضی کے حوالے سے بھی ایک تاریخی پس منظررکھتے ہیں ،حال بھی ان کی گرفت میں ہے اور مستقبل میں بھی یہی لوگوں کے دلوں پرحکمرانی کریں گے۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ میرؔ،غالبؔ اوراقبال ؔ کوہرزمانے میں شہرت ومقبولیت کیوں ملی؟ میرتقی میرؔنے اپنے عہدمیںایسی پُرتاثیرشاعری کی،جونہ صرف اُس دَورکے لوگوں کے لیے متاثر کُن تھی ،بلکہ اگلی صدی میں بھی ان کی شاعری کوانفرادی مقام حاصل رہا،غالب جیسا شاعر بھی اُن سے متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکا،غالب نے یہ شعرکہہ کرمیرتقی میرؔ کی شاعرانہ عظمت کااعتراف کیاکہ؎ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ…سُنتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا۔غالب کایہ اعتراف، کیا سند نہیں۔

اب یہ دیکھناہے کہ وہ کون سی خصوصیات تھیں ، جنہوں نے غالبؔ کو ہر دَور کا بڑا شاعر قرار دیا۔ غالب کی شاعری مقدارمیں زیادہ نہیں، لیکن جتنی بھی ہے،اپنے اندرایک جہانِ معنی رکھتی ہے۔ غالب کاآہنگ اتنابلندہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کو عوام کی آواز بنا دیا۔ اُن کے اکثراشعارمیںسائنسی شعور نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر؎ژوف سے گریہ مبدل،بہ دَمِ سرد ہوا…باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا۔؎سبزہ و گُل ، کہاں سے آئے ہیں…ابر کیا چیز ہے ، ہوا کیا ہے؟کیاغالب کے یہ اشعارسائنسی تھیوری پرپورے نہیں اترتے، جوشاعراپنے عہد میں بیٹھ کرمستقبل کی بات کرے، کیاوہ آفاقی شاعر کہلانے کاحق دار نہیں…؟؟ اسی لیے توہرصدی کو غالب کی صدی کہاجاتاہے ۔اب آتے ہیں اقبالؔ کی طرف،انہوں نے اپنی شاعری میں انسانی دردوکرب کوجس خوبی اور اثرانگیزی سے بیان کیا،وہ اُن ہی کاخاصّہ ہے ۔

علاّمہ اقبال،عظمت ِ آدم کے تصوّرکے نقیب ہیں، انہوں نے ’’خودی‘‘کادرس دے کرہمارے نوجوانوں کوقیادت سنبھالنے کی ترغیب دی۔دوسری طرف مغربی تہذیب کی خامیوں کو نمایاں کرکے اسلامی تہذیب کے فروغ کے لیے نوجوانوں کوآمادہ کیا۔اقبال نے نہ صرف شعروادب کی دنیامیں انقلاب برپا کیا،ایک عام انسان کی زندگی کوبھی بدل کررکھ دیا۔ انہیں صرف بیسویں صدی کا بڑا شاعر قراردے کرآگے بڑھ جانا کہاں کاانصاف ہے ،ان کی فکر آفاقی ہے،انہیں ہرصدی،اپنے دامن میں جگہ دے گی۔

ان تینوں شعراء کو اس لیے زیرِ گفتگو لایا گیا کہ ماضی،حال اور مستقبل، تینوں زمانے ان کی آغوش میں پرورش پارہے ہیں۔ دوسری جانب یہ شکایت عام ہوگئی ہے کہ لوگ کتابیں نہیں پڑھتے ، ادب کے مطالعے کارجحان بھی تیزی سے زوال پذیرہے۔مطالعے کی کمی کی شکایت توبجا ،لیکن ادبآج بھی نہ صرف پڑھاجاتاہے،بلکہ اس کے اثرات بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ ہمیں اُمیدہے کہ اس برس بھی ادب، افرادِ معاشرہ کے لیے ذہنی غذا کا ذریعہ ضروربنے گا۔