آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ میں کورونا وائرس کی دوا کے بڑے ٹرائل کا آغاز، پہلی مریضہ کا علاج شروع

لندن (پی اے) برطانیہ میں کورونا وائرس کوویڈ 19 کو روکنے کیلئے منگل کی سہ پہر سے بڑے پیمانے پر نئے علاج کا ٹرائل شروع ہو گیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس نئے علاج سے مریضوں میں بیماری کی شدت کو روکنے میں مدد ملے گی۔ منگل کی سہ پہر ہل رائل انفرمری میں پہلی مریضہ کا علاج شروع کیا گیا۔ اس علاج میں انٹرفیرون بیٹا نامی پروٹین کو سانس کے ساتھ لینا شامل ہے۔ یہ پروٹین جسم اس وقت پیدا کرتا ہے جب وائرل انفیکشن ہوتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس پروٹین سے سے مدافعتی نظام مستحکم ہوگا اور خلیے وائرس سے لڑنے کیلئے تیار ہوں گے۔ ٹرائل کے ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاج سے ہسپتال میں کورونا وائرس کوویڈ 19 کے مریض کی مشکلات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس عارضےمیں مریض کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے اور 80 فیصد مریضوں کو وینٹی لیشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ نیا علاج ساؤتھمپٹن یونیورسٹی ہسپتال میں تیار کیا گیا ہے اور ساؤتھمپٹن بیسڈ بائیو ٹیک کمپنی سائنرجن کیجانب سے یہ دوا تیار کی جا رہی ہے۔ اس نئی دوا کے ساتھ علاج کی لاگت 2000 پونڈ آسکتی ہے جو ہسپتال ٹریٹمنٹ کیلئے مہنگا نہیں ہے۔ سائنرجن کے چیف ایگزیکٹیو رچرڈ مارسڈن نے کہا کہ یہ علاج قابل عمل ہونے کی وجہ سے رقم کی اچھی قدر کی نمائندگی کرتا ہے۔ 34 سالہ الیگزینڈرا کانسٹینٹن ہل انرمری

میں اس دوا سے علاج کروانے والی پہلی مریضہ تھیں۔ وہ پیر کے روز کورونا وائرس کوویڈ 19 کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہوئی تھیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اس نئے ٹرائل میں یہ دوا استعمال کی۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر پر میری چھوٹی بیٹی ہے اور میں اس کی وجہ سے گھر واپس جانے کیلئے بے چین ہوں۔ علاج کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نرس نے انہیں بیولائز کیا جس کی وجہ سے دوا نم آلود ہو کر موائسچر کی شکل اختیار کر گئی، جس کو انہوں نے سانس کے ذریعے اپنے اندر پھیپھڑوں تک کھینچا۔  انٹرفیرون بیٹا انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں وائرسز کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہے۔ کوروناوائرس اس پروٹین کی پیداوار کو روکتا ہے اور اسے انسانی امیون سسٹم سے چاٹ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں میں اس دوا کی اس ڈائریکٹ خوراک کی وجہ سے اینٹی وائرل رسپانس خاصا مستحکم ہو جاتا ہے چاہے مریض کا میون سسٹم کتنا ہی کمزور ہو چکا ہو۔ انٹرفیرون بیٹا کا استعمال عام طور پر ملٹی پل سکلیروسیس کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ قبل ازیں سائنرجن کے کلینیکل ٹرائلز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ امیون سسٹم رسپانس کو متحرک کرتا ہے اور دمہ اور پھیپھڑوں کے دوسرے دائمی امراض میں مبتلا مریض آرام سے علاج برداشت کر سکتے ہیں۔ گذشتہ سال علاج کے ایک چھوٹے کلینیکل ٹرائل کے دو مراحل کے نتائج امید افزا تھے۔ جن میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ ہسپتالوں میں جن 80 فیصد مریضوں کو وینٹی لیشن کی ضروورت ہے اس میں کمی آئے گی اور اس سے مریضوں کی صحت سے دو یا تین گنا زیادہ بہتر ہونے کے قوی امکانات ہیں، جہاں بیماری روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثر نہیں کرتی۔ ٹرائل میں علاج کرانے والے مریضوں کو سانس لینے میں شدید دشواری تھی۔ علاوہ ازیں کہا جاتا ہے اس نئی دوا سے علاج کی وجہ سے ہسپتال میں مریضوں کے گزارے جانے والے اوسط وقت میں بھی ایک تہائی کمی ہوگی۔ چھوٹی آزمائش میں نئی دوا استعمال کرنے والوں کا ہسپتال میں قیام کا دورانیہ نو دن سے کم ہو کر چھ دن ہو گیا۔ اس ٹرائل میں صرف 100 مریض تھے اور اس کے استعمال کی اجازت دینے سے قبل اس کی مزید ٹیسٹنگ کی ضرورت ہے۔ یہ نیا فیز تھری ٹرائل زیادہ بڑا ہے، جس میں 20 ملکوں میں 600 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ پہلے کے ٹرائل میں حصہ لینے والے آدھے مریضوں کو انٹرفیرون دوا دی جائے گی اور باقی آدھے مریضوں کو غیر فعال مادہ پلاسیبو دیا جائے گا۔ ٹرائل کی نگرانی کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ موسم گرما کے اوائل میں اس ٹرائل کو مکمل کر لیا جائے گا۔ اگر اس ٹرائل کے نتائج پہلے کے ٹرائلز سے قریب تر ہوئے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں اس دوا کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یونیورسٹی آف سائوتھمپٹن کے پروفیسر اور ٹرائل کے نگراں پروفیسر ٹام ولکنسن نے کہا کہ اگر ہمارے پاس پازیٹیو سٹڈی ہوئی تو ہمیں امید ہے کہ ہم کلینیکل پریکٹس میں دوا کی بڑے پیمانے پر تیاری اور فراہمی کیلئے تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نئی دوا کی اثر پذیری پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اگر یہ موثر ثابت ہوئی تویہ تیارکی جانے والی ویکسینز کا کمپلیمنٹ ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ساری دنیا کو اس ویکسین دینے میں کافی وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو علاج کی ضرورت ہوگی، جن کی ویکسینیشن نہیں ہوئی یا جو خوراک لینے سے محروم رہ گئے۔ اس کے علاوہ یہ بھی خطرہ ہے کہ وائرس کے تبدیل ہو جانے سے ویکسین کم موثر ہو جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مرض دوبارہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ سائوتھمپٹن یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے دمے اور دائمی پھیپھڑوں کے امراض مثلاً دمہ اور کرونک آبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز (سی او پی ڈی) جیسی بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاج سے یہ نیا ٹریٹمنٹ دریافت کیا۔ ٹرائل ٹیم کی رکن ڈاکٹر ڈونا ڈیویز کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ سوچا کہ کیوں نہ مریضوں میں انٹرفیرون بیٹا کی انہیلیشن کی سطح کو بڑھایا جائے جس کے مثبت اثرات سامنے آئے۔ ماہرین نے متنبہ کیا کہ ڈرگس اکثر ابتدائی ٹرائلزمیں توقعات پر پوری نہیں اترتی ہیں۔ جو حیرت انگیز بات ہے۔ سائوتھ لندن جی پی کے ڈاکٹر لامس لطیف کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ فیز تھری کے ٹرائل کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔ وہ کورونا وائرس کوویڈ 19 مریضوں کے ساتھ ایمرجنسی میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ہمارے پاس دوسری ڈرگس بھی ہوتی تھیں۔ ہمارے پاس ہائیڈرو آکسیروکلائن موجود تھی لیکن جب اس کے مزید ٹرائلز کیے گئےتو وہ نتائج اتنے امید افزا نہیں تھے جتنے کہ ابتدائی ٹرائل میں تھے۔ اب دیکھنا ہے کہ نئی دوا کے ٹرائل کے کیا نتائج آتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید