آپ آف لائن ہیں
منگل17؍رجب المرجب 1442ھ 2؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لَو جہاد کے نام پر مسلمان و ہندوؤں کے درمیان نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں، نصیر الدین شاہ

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بولی وڈ کے لیجنڈری اداکار نصیر الدین شاہ نے پہلی بار بھارت میں ʼلَو جہادکے نام پر ہندو و مسلم فسادات کروانے کی سازش پر بات کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کے مذہب سے متعلق کھل کر بات کی ہے۔نصیر الدین شاہ نے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایک بار صرف انہوں نے یہ کہا تھا کہ بھارت میں ایک انسان (مسلمان) سے جانور (گائے) کے قتل کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے تو انہیں تنگ کیا گیا۔انہوں نے بھارت میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب اسی طرح بھارت میں ʼلَو جہاد کے نام پر مسلمان و ہندووں کے درمیان نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ʼلَو جہاد کے نام پر ریاست اترپردیش یا دیگر ریاستوں میں جو ڈراما ہو رہا ہے وہ صرف اور صرف مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ʼلَو جہاد کے نام پر شادیاں تو دور کی بات لوگ ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے اور یہ ڈراما وہ لوگ

رچا رہے ہیں، جنہیں جہاد کے نام کا مطلب بھی معلوم نہیں۔نصرالدین شاہ نے اسی معاملے پر اپنی شادی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ رتنا پھاٹک ہندو ہیں اور جب وہ شادی کر رہے تھے تو والدہ نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اہلیہ کا مذہب تبدیل کریں گےَ؟اداکار نے بتایا کہ انہوں نے والدہ کو بتایا تھا کہ وہ رتنا پھاٹک کا مذہب کیسے تبدیل کر سکتے ہیں، جس پر والدہ نے بھی تسلیم کیا کہ واقعی کوئی بھی کسی کا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا۔سینیئر اداکار کے مطابق انہوں نے اپنے بچوں کو مذہب سے متعلق زیادہ نہیں پڑھایا اور ان کی مرضی ہے وہ جس عقیدے پر چلیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ʼلَو جہاد کے نام پر صرف نفرتیں بڑھائی جا رہی ہیں اور ہندو اس بات سے ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں مسلمان زیادہ بچے پیدا کرکے تعداد میں ہندووں سے بڑھ نہ جائیں۔نصیر الدین شاہ کے مطابق مسلمان بھارت میں چاہے بہت زیادہ بچے بھی پیدا کرلیں، پھر بھی ہندووں سے تعداد میں زیادہ نہیں ہوسکتے۔

دل لگی سے مزید