امریکی تاجر شام کے تیل کے کاروبار میں داخل
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی تاجر شام کے تیل کے کاروبار میں داخل

بیروت: کہلوئی کارنش

استنبول: اسماء العمر

واشنگٹن : کترینہ مانسن

تین سال قبل تین امریکی شہری جن میں ایک سابق سفارت کار، ایک سابق اسپیشل آپریٹو اور ایک انرجی ایگزیکٹو شامل ہیں، نے پیچیدہ علاقے میں ناروا کاروبار تیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے شمال مشرقی شام کے ایک سیلاب زدہ پل کو پار کیا۔

جب کہ مغرب کی تیل کا کاروبار کرنے والی بڑی کمپنیاں طویل عرصے سے ہمسایہ ملک عراق سمیت مشرق وسطیٰ سے خام تیل نکالنے میں شامل ہیں،تاہم اس نامعلوم تنظیم کا مشن مختلف تھا۔ جنگ سے متاثرہ شام کے امریکا کے حمایت یافتہ کرد اکثریتی ملیشیا کے زیر کنٹرول حصے میں تیل کی تلاش، اس کی صفائی اور برآمد کرنا۔

آئل کمپنی ڈیلٹا کریسنٹ انرجی کے تین بانیوں میں سے ایک جیمز کین نے کہا کہ ایکسن اور شیورون جیسی کمپنیاں اس طرح کا کام نہیں کرتی ہیں۔ڈنمارک میں امریکا کے سابق سفیر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ یہ نئی راہ دکھانے والا مہم جوئی کا کام ہے، اسے کچھ حد تک خطرناک بھی کہہ سکتے ہیں۔

امریکا کی غیرمعمولی پابندیوں پر چھوٹ کی وجہ سے شام میں تیل کی تجارت میں شامل ہونے کی اجازت کی حامل اس علاقے کی کردوں کی زیرقیادت انتظامیہ کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر رضامندی کے باوجود ڈی سی ای کو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

شمال مشرق کے دمشق کی حکومت اور امریکا دونوں کے ساتھ نہایت نازک تعلقات ہیں۔ کرد اکثریتی مقامی ملیشیا انتہا پسند آئی ایس آئی ایس کے خلاف اتحادیوں کی مدد سے لڑی جانے والی جنگ میں زمینی طاقت فراہم کرتی ہے۔اس خطے میں ترکی یا دیگر جہادیوں میں سے کسی کے بھی حملے کاخطرہ لاحق رہتا ہے،خلیج کے اس حصے میں 900 امریکی فوجی تعینات ہیں۔شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئل فیلڈ اس کی ملکیت ہیں اور کردوں کی اس تیل پر کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے فیلو ایسوسی ایٹ ڈیوڈ بٹر نے کہاکہ پرخطر سیاق وسباق کے پیش نظر ڈی سی ای کی قمست آزمائی ایک جرأت مندی کا مظاہرہ لگتا ہے۔

شام کی حکومت کے کئی عشروں پر مشتمل سخت سلوک کے بعد کردوں نے 2011 میںشام کے ایک تہائی حصے کو علیحدہ اورر حکومت کی تشکیل دینے کے لئےحکومت مخالف بغاوت کا آغاز کیا، جس میں شام کے بیشتر تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ڈیوڈ بٹر نے کہاکہ فی الحال ایک دن میں 30 ہزار بیرل پیداوار کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، یہ کافی حد تک غیرتسلی بخش اثاثے ہیں۔

تاہم اسمگلروں کی جانب سے تیل کافی قیمتی ہے، جو شام اور شمالی عراق اور دمشق میں خام تیل کی ترسیل کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے اتحادی روس کے لئے انعام کے طور پر روسی کمپنیوں کو اس تیل کے ترقیاتی معاہدوں سے نوازا ہے۔کرد انتظامیہ نہ تو روسیوں کو اور نہ ہی شام کی حکومت کو براہ راست آئل فیلڈ تک رسائی کی اجازت دیتی ہے۔

سابق ڈیلٹا فورس ٹروپس کمانڈر لفیٹینٹ کرنل اور ڈی سی ای کے بانیوں میں سے ایک جیمز ریس شام کی ڈیموکریٹک فورسز کرد قیادت کو اس وقت سے جانتے تھے جب انہوں نے سیکیورٹی کمپنی ٹائیگر سوان قائم کی تھی۔ کردوں کے زیر کنٹرول آئل فیلڈز کو ترقی دینے کے مواقع سے آگاہ جیمز ریس نے کاروپریٹ وکیل مسٹر کین، لندن میں درج تیل کمپنی گلفسینڈز کے سابق ڈائریکٹر جان ڈوریر ، جو 2011 میں عائد ہونے والی کاروباری پابندیوں سے قبل آئل فیلڈز کا انتظام سنبھالتے تھے، انہیں بھرتی کیا۔مسٹر کین نے کہا کہ انہوں نے ڈی سی ای کا قیام عمل میں لایا، جس کا معاہدہ گلفسینڈ کے زیرانتظام رقبے سے بڑے کا احاطہ کرتا ہے۔

گزشتہ سال اپریل میں امریکی وزارت خزانہ نے ایک غیرمعمولی لائسنس دیا تھا جس کی وجہ سے ڈی سی ای کو شام کے تیل کے شعبے پر امریکی پابندیوں سے پہلوتہی برتنے کی اجازت دی گئی تھی۔ریپبلکن مسٹر کین اور مسٹر ڈوریر دونوں نے ریپبلکن امیدواروں کو عطیہ دیا ہے۔ڈی سی ای نے لائسنس حاصل کرنے کے لئے سیاسی اثرورسوخ کے استعمال سے انکار کیا ہے۔شام میں امریکی خصوصی ایلچی جوئل رے برن نے کہا کہ امریکی حکام نے اس منصوبے کی توثیق کی ہے کیونکہ ہم شمال مشرقی شام کی معیشت کو ترقی دینے اور چلانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو بار دھمکی دی تھی کہ وہ شمال مشرق شام سے امریکی فوجیوں کو نکال لیں گے تاہم واشنگٹن میں شدید ردعمل کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہاں فوج محض تیل کیلئے موجود ہے۔تاہم اس کے باوجود اس علاقے سے امریکا کی پابندیوں کے تحت بشارالاسد کی حکومت کو تیل اسمگل کیا جاتا ہے۔

پینٹاگون کی ترجمان جیسیکا ایل مک نلٹی نے کہا ہے کہ امریکی وزارت دفاع کو شمال مشرقی شام میں تیل کے ذرائع قائم کرنے کی خواہاں ڈی سی ای یا دیگر کسی نجی کمپنی کے تحفظ کا ٹاسک نہیں دیا گیا ہے۔

حتیٰ کہ امریکا کی منظوری کے بعد بھی ڈی سی ای ایک غیرقانونی مارکیٹ میں کام کرے گا۔شمال مشرقی شام سے آنے والے خام تیل اس وقت ہزاروں پرخطر عارضی ریفائنریوں میں صاف کیا جاتا ہے یا مغرب کی جانب حمص میں واقع حکومت کے زیرکنٹرول دو میں سے ایک ایک ریفائنری تک لے جایا جاتا ہے۔ بلیک مارکیٹ میں کم قیمت میں فروخت کیا جاتا ہے،ڈی او ڈی کے مطابق اس نے 2020ء میں تیل کی قیمت میں کمی سے قبل ایس ڈی ایف(شام کی ڈیموکریٹک فورسز) کیلئے ایک دن میں 30 لاکھ ڈالر تک کمائے۔

شمال مشرقی شام سے تعلق رکھنے والے صحافی عبداللہ الغدوی نے بتایا کہ جغرافیائی طور پر دور درزا علاقے میں ہونے کی وجہ سے ایس ڈی ایف کے پاس حکومت کے بروکروں یا شمالی عراق کے مبینہ تاجروں کو فروخت کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔شام میں امریکا کے نقطہ نظر پر بریف کیے گئے شخص کے مطابق امریکا نے اس پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، جس نے کہا کہ امریکا کہیں اور تیل کی مارکیٹنگ کرنے کو ترجیح دے گا تاہم اس پر کبھی سخت اعتراض نہیں کیا گیا۔

فروخت کے کردحکام کے شریک صدر بیریوان خالد نے کہا کہ شمال مشرقی شام کے وسائل پر شام کے تمام شہریوں کا حق ہے۔ ہم انہیں ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ فراہم کرتے ہیں۔

اگرچہ ڈی سی ای نے کہا ہے کہ وہ عالمی تیل کی مارکیٹ میں تیل کی فروخت کا بروکر بننا چاہتا ہے۔سیکیورٹی فرم کنٹرول رسکس مڈل ایسٹ کے سینئر تجزیہ کار پیٹرک اوسگڈ نے کہا کہ شام کی سرزمین سے آزادانہ طور پر خام تیل کی برآمد کرنے کیلئے ایس ڈی ایف کو اچھے ملکیتی حقوق دینا امریکا کی جانب سے تحفے میں نہیں ہے۔شام کی حکومت نے کہا کہ اس کی اجازت کے بغیرڈی سی ای کے ذریعے تیل کی فروخت ڈکیتی کے مترادف ہوگی۔

مسٹر کین نے استدلال کیا کہ تاجروں کو اس حقیقت سے اطمینان ہونا چاہئے کہ امریکی وزارت خزانہ نے ہمیں لائسنس دینے کا عندیہ دیا ہے، کہ ہمارا منصوبہ امریکی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے۔

مسٹر کین نے کہا کہ تاہم ابتداء میں مکمل پیداوار کی بحالی میں سیکڑوں ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ یقیناََ ہمیں اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ڈی سی ای نے کہا کہ اب تک صرف ادارے کے تین بانیوں نے ہی سرمایہ کاری کی ہے اور ان کے علاوہ کوئی اور مالک نہیں ہے۔اگرچہ یہ اسکیم خطرناک بھی ہوسکتی ہے،حتیٰ کہ احمقانہ بھی ہوسکتی ہے، مسٹر کین نے کہا کہ ایس ڈی ایف کی مدد کرنا قابل قدر ہے، انہوں نے داعش کو شکست دینے کے لئے ہمارے ساتھ مل کر جنگ کی، لہٰذا وہ بہتر زندگی کے مستحق ہیں۔

فنانشل ٹائمز سے مزید