آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ملک بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے عائد بیشتر پابندیاں ماہ رواں میں اٹھا لینے کے حکومتی فیصلے پر طبی ماہرین کی جانب سے تحفظات کا اظہار یقینا فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ماہرین کا موقف ہے کہ ویکسی نیشن کی سرکاری مہم کو عام شہری تو کیا طبی عملے تک کی طرف سے بھرپور تعاون نہ ملنے کی وجہ سے ایک بڑی تعداد کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جا سکے ہیں چنانچہ وائرس کی تیسری لہر کی آمد کا اندیشہ حقیقت بن سکتا ہے۔ ایک دن میں پونے بارہ سو افراد کا کووِڈ اُنیس سے متاثر ہونا واضح کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں اوردفاتر میں سو فیصد حاضری، کاروباری مراکز کو پورا وقت کھلا رکھنے اور شادیوں اور دیگر تقاریب کے بند ہالوں میں انعقاد کی اجازت اس وقت تک نہیں دی جانی چاہئے جب تک ملک کی 70فیصد آبادی کو حفاظتی ٹیکے نہ لگا دیے جائیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے پابندیاں اٹھانے کا اعلان پانچ دن پہلے کیا تھا، اس لئے اس کے نتائج سامنے آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا تاہم صورت حال پر کڑی نگاہ رکھی جانی چاہئے۔ بلاشبہ تعلیمی و کاروباری سرگرمیوں اور دیگر معمولات زندگی پر مسلسل پابندی ملک بھر میں لوگوں کے لئے شدید معاشی و سماجی مشکلات کا سبب ثابت ہوئی ہے لہٰذا اب جلد از جلد ان کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے تاہم انسانی جانوں کا تحفظ بہرصورت اولیت رکھتا ہے۔ اس لئے صورت حال سے نمٹنے کے واسطے درمیانی راہ اختیار کی جانی چاہئے۔ حکومت سندھ نے تعلیمی اداروں میں سو فیصد کے بجائے پچاس فیصد حاضری ہی کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کرکے اس حکمتِ عملی کی اچھی مثال قائم کی ہے اور دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کھیلوں کے مقابلوں اور تقریبات کے انعقاد پر سے فوری طور پر تمام پابندیاں اٹھا لینا بھی ضروری نہیں اور انہیں اس وقت تک مؤخر کیا جا سکتا ہے جب تک کم و بیش تین چوتھائی آبادی کو حفاظتی ٹیکے نہ لگا دیے جائیں۔

تازہ ترین