• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ظ۔ میم

برطانوی شاہی خاندان کی رُجعت پسندی، غیرلچکدار رویہ اور روایات کی پاسداری کے قصّے ایک بار پھر میڈیا اور لوگوں کی زبان پر ہیں۔ ملکہ ایلزبتھ کے چھوٹے پوتے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ سمیت ڈیڑھ سالہ بچّے آرچی کو بکنگھم پیلس چھوڑنا پڑا۔ قصّہ یوں ہے کہ پرنس ہیری نے ٹی وی کی معروف اداکارہ میگھن مرکل سے شادی کی۔ 

یہ پرنس ہیری کی پسند کی شادی تھی جو خفیہ طور پر ایک چرچ میں انجام پائی تھی۔ بعدازاں تین دن بعد اس شادی کی شادی رسم بھی ادا کر دی گئی مگر میگھن کا کہنا ہے کہ ابتداء ہی سے لگتا تھا کہ اس کو شاہی خاندان نے دِل سے قبول نہیں کیا ہے۔ کہا گیا کہ میگھن کی جلد کی رنگت گندمی ہے اور جب پہلے بچّے کی ولادت ہوئی تو اس کے جلد کی رنگت بھی ماں کی طرح ہے ایسے میں شاہی محل میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ 

پھر پرنس ہیری اور میگھن کو علم ہوا کہ ان کے بچّے آرچی کو شاہی لقب سے اور شاہی مراتب سے الگ رکھا جائے گا تو انہیں شدید دلی صدمہ ہوا، خاص طور پر میگھن کو بعض شاہی خاندان کےا فراد نے طعنے بھی دیئے جس میں پرنس ہیری کے بڑے بھائی پرنس ولیم کی اہلیہ شہزادی کیٹ پیش پیش تھی۔ پھر پرنس ہیری ان کی اہلیہ میگھن کو نہ صرف شاہی سہولیات اور مراتب سے الگ کر دیا گیا کہ بلکہ پرنس ہیری سے ان پر شادی کے بعد سے جو خرچ ہوا اس رقم کی واپسی کا بھی مطالبہ بھی سامنے آ گیا۔ 

اس کے بعد وہ امریکہ اورکینیڈا چلے گئے۔ پرنس ہیری کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ شاہی محل چھوڑنے کے بعد میں نے اپنی والدہ کے ورثے کی رقم سے اپنے اور بیوی بچّے کا خرچ اُٹھایا۔ اس تمام صورت حال میں کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ میگھن کو ذہنی صدمات سے دوچارہونا پڑا ۔ انہیں ایک طرف شاہی خاندان کے بیش تر افراد کے رویوں سے شکایت رہی تو دُوسری طرف برطانوی میڈیا سے بھی شکوہ رہا۔برطانوی میڈیا نے شاہی خاندان کی طرف داری کرتے ہوئے میگھن کو نشانہ بنایا۔

یہ تمام قصّہ کھل کر اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں امریکی ٹی وی کی معروف براڈ کاسٹر میڈیا شخصیت اوپیرا ونفری نے امریکی ٹی وی پر دو گھنٹے کا پرنس ہیری اور میگھن کا انٹرویو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔ اس انٹرویو کو کہا جاتا ہے کہ پانچ کروڑ سے زائد افراد نے دیکھا اور دُنیا میں اس کے چرچے اور تبصرے شروع ہوئے۔ اس انٹرویو میں پرنس ہیری نے بتایا کہ جب بھی میں نے اپنے والد شہزادہ چارلس کو فون کیا انہوں نے میرا فون نہیں اُٹھایا۔ شاہی خاندان کے دیگر افراد کا رویہ بھی ناقابل فہم ہے۔ میں نے اپنی ماں کو کھویا، مگر اب میں اپنی بیوی اور بچّے کو کھونا نہیں چاہتا۔ میگھن نے انٹرویو میں کہا کہ شادی کے بعد جو باتیں میرے سامنے آتی تھیں تب میں نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر پرنس ہیری نے ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھایا۔ 

جب ہمارا بچّہ پیدا ہوا تو شاہی محل کے افراد کا رویہ مزید معاندانہ ہوگیا اس کی وجہ یہ سامنے آئی کہ بچّے کی جلد کی رنگت شاہی تصوّرات سے میل نہیں کھاتی۔ میگھن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملکہ ایلزبتھ مجھ پر ہمیشہ مہربان رہیں۔ میگھن کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں کچھ دنوں بعد لڑکی پیدا ہونے والی ہے ہم اب عام افراد کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میں کھلی ہوا میں سانس لے سکتی ہوں۔ پرنس ہیری اور میگھن کی گفتگو سُننے کے بعد رائے عامہ دو حصّوں میں بٹ گئی ہے۔ 

پرنس ہیری اور میگھن کے ساتھ جو کچھ ہوا اب دنیا بھر میں اس پر کھل کر بات ہورہی ہے

ایک دھڑا پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ سے پوری طرح ہمدردی رکھتا ہے اس طرح سوچنے والے کہتے ہیں آج کے جدید دور میں برطانوی شاہی خاندان اور بکنگھم پیلس کی روایات فرسودہ ہو چکی ہیں۔ اگر اس سطح پر بھی رنگ اور نسل کے تعصبات کو اہمیت دی جائے گی تو پھر معاشروں میں کس طرح اصلاح ممکن ہو سکے گی۔ لبرل اور جمہوریت پسندوں کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان سے شاہی مراعات اور مراتب ختم کر دینے چاہئے۔ آج کے دور میں اس نوعیت کی دقیانوسی روایات کو مسترد کر دیا جائے۔ دُوسرا دھڑا پہلے دھڑے کے برعکس برطانوی شاہی خاندان کی روایات اور رسومات کی پاسداری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ شاہی خاندان کا احترام کرنا ہے اور شاہی خاندان کے ہر اقدام کو دُرست تصوّر کرتا ہے۔

بالخصوص برطانیہ میں رائے عامہ کی اکثریت ملکہ ایلزبتھ دوم اور ان کے شاہی خاندان کی طرف دار ہے۔ برطانوی مبصرین جو شاہی خاندان سے پوری طرح ہمدردی رکھتے ہیں اور ملکہ ایلزبتھ کی پُروقار شخصیت کا دِل سے احترام کرتے ہیں ان کی نظر میں پچانوے سالہ ملکہ واقعی تاج برطانیہ کا کوہ نور ہیرا ہیں۔ اس احترام اور عقیدت کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ ملکہ جب صرف شہزادی تھیں ان کی شادی نہیں ہوئی تھی،دُوسری عالمی جنگ کے دوران انہوں نے رضاکاروں کے ساتھ خدمات سرانجام دیں۔ 1952ء میں ملکہ نے اقتدار سنبھالا تو وہ دور جنگ عظیم کے بعد کا دور تھا۔ برطانیہ فتح یاب ہو کر بھی بہت کمزور اور نڈھال ہو چکا تھا۔ معیشت تباہ تھی تمام بڑے بینک دیوالیہ ہو چکے تھے۔ برطانوی عوام مایوسی کا شکار تھے۔

1947ء میں شہزادی ایلزبتھ کی شادی ڈیوک آف ایڈنبرا فلپ مائونٹ بیٹن سے ہوئی۔ ان حالات میں شاہی خاندان نے ملکہ ایلزبتھ کی تاج پوشی کا جشن منانے کے لئے شاندار تقریبات کا انعقاد کیا جس سے عوام میں پھیلی مایوسی کم ہوئی۔ ملکہ نے اپنے شوہر کے ساتھ تمام ملک کا دورہ کیا۔ ہر ادارے اور اہم درس گاہوں میں جا کر لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔ دُوسرے لفظوں میں کہا جاتا ہے کہ ملکہ ایلزبتھ کی عوام سے ہمدردی، وطن سے محبت اور برطانیہ کو دوبارہ عالمی منظر میں اُجاگر کرنے کی لگن نے برطانیہ کو پھر سے نئی زندگی اور حوصلہ دیا تھا۔ 

مگر دُنیا میں سیاست کے رنگ ڈھنگ تبدیل ہو رہے تھے ایک طرف جمہوریت، کھلی معیشت اور جدید سرمایہ دارانہ نظام کا علم بردار امریکہ سپر پاور بن کر اُبھرا تو دُوسری طرف سوشلزم کا حامی سوویت یونین دُوسری سپر پاور بن کر اُبھرا۔ ایسے میں برطانیہ میں بھی بائیں بازو اور لبرل عناصر نے سرگرمیاں تیز کر دیں ان کے مقابل میں قدامت پسند ٹوری پارٹی کھڑی ہوگئی۔ ان حالات میں ملکہ ایلزبتھ نے اپنی بصیرت سے کام لیتے ہوئے کوئی مداخلت نہیں کی اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا، بعدازاں عوام نے دیکھا کہ بہت سے معاملات اور افراتفری کا شکار ملک اپنے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہوئے، عالمی کساد بازاری، سردجنگ اور علاقائی جنگوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی جمہوریت اور جمہوری اقدار کا ساتھ نہ چھوڑا تمام معاملات کو عوامی پارلیمان میں جمہوری اور دستوری طریقے سے حل کیا۔

دُنیا کی تاریخ میں اتنی طویل بادشاہت کسی کے حصّے میں نہیں آئی جو ملکہ ایلزبتھ کے حصّے میں آئی۔ اس لئے برطانوی عوام کی بڑی تعداد تاج برطانیہ کا احترام کرتی ہے اور شاہی خاندان سے عقیدت رکھتی ہے۔ ہرچند کہ ملک میں اختلاف رائے مضبوط ہے مگر بکنگھم پیلس میں کوئی اختلاف رائے نہیں کر سکتا ہے وہاں صرف تاج برطانیہ کی حکمرانی ہے کیونکہ روایات کی پاسداری تاج و تخت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ 

لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی